جموں؍۱۸جولائی
جموں و کشمیر کے ضلع راجوری اور کٹھوعہ میں ایک مبینہ مویشی اسمگلر سمیت دو افراد کو سخت پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کے تحت نظر بند کیا گیا ہے۔ پولیس نے ہفتہ کے روز یہ اطلاع دی۔
پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) ایک انتظامی قانون ہے، جس کے تحت بعض معاملات میں کسی شخص کو بغیر فردِ جرم عائد کیے یا مقدمہ چلائے دو سال تک نظر بند رکھا جا سکتا ہے۔
پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ ضلع راجوری کے تھنہ منڈی علاقے کے رہائشی محمد مصطفیٰ کو غیر قانونی مویشی اسمگلنگ میں مسلسل ملوث رہنے کے الزام میں پی ایس اے کے تحت حراست میں لیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ مویشی اسمگلنگ میں بار بار ملوث ہونے اور اس کی سرگرمیوں کو امنِ عامہ کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف پی ایس اے کے تحت باقاعدہ نظر بندی کا حکم جاری کیا گیا۔
حکم پر عمل درآمد کرتے ہوئے ملزم کو حراست میں لے کر ضلع جیل راجوری منتقل کر دیا گیا ہے۔
دوسری کارروائی میں کٹھوعہ پولیس نے مرہین کے رہائشی باغ حسین عرف’باغا‘ کو بھی پی ایس اے کے تحت گرفتار کر کے ضلع جیل بھدرواہ منتقل کر دیا۔
پولیس کے ترجمان کے مطابق باغ حسین ایک عادی مجرم ہے اور متعدد مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث رہا ہے۔ پولیس کی جانب سے تیار کردہ ڈوزیئر کی بنیاد پر ضلع مجسٹریٹ کٹھوعہ کے احکامات کے بعد اسے پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت نظر بند کیا گیا۔ (ایجنسیاں)
۔۔۔۔۔۔۔ ایجنسیاں









