جموں؍۱۸ جولائی
لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے نزدیک حالیہ برسوں کی سب سے بڑی منشیات برآمدگیوں میں سے ایک میں نارکوٹکس کنٹرول بیورو (این سی بی) نے ہفتہ کے روز جموں و کشمیر کے ضلع پونچھ سے پانچ کلو گرام اعلیٰ معیار کی ہیروئن ضبط کر لی، جسے سرحد پار سے اسمگل کیا گیا تھا۔ حکام نے یہ اطلاع دی۔
حکام کے مطابق یہ برآمدگی ایل او سی کے قریب حویلی تحصیل کے سرحدی گاؤں کوسلیاں میں ایک منظم اور منصوبہ بند انسدادِ منشیات کارروائی کے دوران عمل میں آئی۔
حکام نے بتایا کہ سرحد پار سے اسمگل کی گئی یہ ہیروئن ایک منظم بین السرحدی منشیات نیٹ ورک کے ذریعے اندرونِ ملک پہنچائی جانی تھی۔
حکام کے مطابق برآمد شدہ ہیروئن کی بین الاقوامی منڈی میں مالیت۲۵ کروڑ روپے سے زائد بتائی جا رہی ہے، جو حالیہ برسوں میں سرحدی ضلع پونچھ میں ہونے والی سب سے بڑی منشیات برآمدگیوں میں شمار ہوتی ہے۔
سکیورٹی ایجنسیوں نے متعدد مواقع پر خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں موجود اسمگلر اور ان کے ہینڈلرز سرحدی راستوں کے ذریعے جموں و کشمیر میں منشیات بھیجنے کی مسلسل کوشش کرتے رہے ہیں، اور یہ سرگرمیاں اکثر دہشت گرد نیٹ ورکس کے ساتھ مل کر ملک دشمن سرگرمیوں کے لیے مالی وسائل فراہم کرنے کے مقصد سے انجام دی جاتی ہیں۔
اس معاملے میں ایک مشتبہ اسمگلر کو گرفتار کیا گیا ہے۔ حکام نے بتایا کہ اس کھیپ کے اصل وصول کنندگان، سرحد پار موجود ہینڈلرز اور اس کی نقل و حمل و تقسیم میں مدد دینے والے مقامی نیٹ ورک کی شناخت کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
ادھرجموں کشمیر انتظامیہ نے ہفتہ کے روز جموں میں منشیات کی اسمگلنگ سے حاصل شدہ آمدنی سے تعمیر کی گئی متعدد غیر قانونی عمارتوں، جن میں رہائشی مکانات بھی شامل ہیں، کو مسمار کر دیا۔ حکام کے مطابق یہ کارروائی منشیات فروشوں کے خلاف جاری مہم کا حصہ ہے۔
حکام نے بتایا کہ نکّی توی اور بشناہ علاقوں میں یہ انہدامی کارروائی جموں ضلع انتظامیہ اور پولیس نے مشترکہ طور پر انجام دی۔
انہوں نے کہا کہ کارروائی کے دوران منشیات کی اسمگلنگ سے منسلک تقریباً۳ کروڑ روپے مالیت کی غیر قانونی جائیدادیں مسمار کی گئیں، جبکہ ملزمان سے ہیروئن اور غیر قانونی اسلحہ بھی برآمد کیا گیا۔
حکام کے مطابق تحصیل بشناہ کے اسماعیل پور کوتھے میں مشترکہ ٹیم نے تقریباً۱ء۵ کروڑ روپے مالیت کی دو منزلہ عمارت کو منہدم کر دیا۔
اسی طرح ایک اور مشترکہ ٹیم نے دو مزید منشیات فروشوں کی تقریباً۱ء۳ کروڑ روپے مالیت کی جائیدادیں مسمار کیں، جبکہ نکّی توی علاقے میں غیر قانونی طور پر قبضہ کی گئی سرکاری زمین بھی واگزار کرائی گئی۔
ادھر ضلع سانبہ میں ایک علیحدہ کارروائی کے دوران پولیس نے باری برہمنہ کے اپر بالول علاقے میں ایک بدنام خاتون منشیات فروش کی تقریباً۲۱ لاکھ روپے مالیت کی جائیداد، جس میں ایک کچا مکان بھی شامل ہے، ضبط کر لی۔
پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ یہ کارروائی نارکوٹک ڈرگز اینڈ سائیکوٹروپک سبسٹینسز (این ڈی پی ایس) ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت عمل میں لائی گئی۔
ترجمان کے مطابق پولیس کی تحقیقات کے دوران یہ جائیداد غیر قانونی ذرائع سے حاصل شدہ قرار دی گئی، جس کے بعد اسے قانونی کارروائی کے تحت ضبط کیا گیا۔
دریں اثنا، جموں و کشمیر پولیس نے ہفتہ کے روز بتایا کہ جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیاں میں بھی ایک رہائشی مکان کو ضبط کیا گیا، جس کے بارے میں الزام ہے کہ اسے منشیات کی اسمگلنگ سے حاصل ہونے والی آمدنی سے خریدا گیا تھا۔
پولیس کے مطابق تقریباً۳۲ء۱۱ لاکھ روپے مالیت کا یہ مکان زینہ پورہ کے میلہورہ گاؤں کے رہائشی گلزار احمد میر ولد عبدالغنی میر کی ملکیت ہے۔ اس جائیداد کو زینہ پورہ پولیس اسٹیشن میں درج ایک ایف آئی آر کے سلسلے میں، منشیات سے متعلق دفعات کے تحت ضبط کیا گیا۔
پولیس کے بیان کے مطابق یہ کارروائی ایک ایگزیکٹو مجسٹریٹ، پولیس ٹیم، متعلقہ گاؤں کے لمبردار اور چوکیدار کی موجودگی میں تمام قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے انجام دی گئی۔
پولیس نے کہا کہ یہ اقدام منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف جاری مہم کا حصہ ہے، جس کا مقصد منشیات کے غیر قانونی کاروبار سے حاصل شدہ اثاثوں کو نشانہ بنانا ہے۔
پولیس نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ منشیات کی اسمگلنگ اور نشہ آور اشیاء سے متعلق دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے بارے میں معلومات فراہم کر کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
ایجنسیاں








