بھدرواہ/جموں؍۱۸جولائی
جموں و کشمیر کے ڈوڈہ اور کشتواڑ ضلع ہیڈکوارٹروں میں ہفتہ کے روز جزوی بند کے باعث معمولاتِ زندگی متاثر رہے۔ مظاہرین ایک روز قبل بھدرواہ میں مبینہ پولیس فائرنگ میں۳۰ سالہ نوجوان کی ہلاکت کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ حکام نے یہ اطلاع دی۔
احتجاج کے پیش نظر ڈوڈہ ضلع میں موبائل انٹرنیٹ خدمات کی معطلی دوسرے مسلسل روز بھی برقرار رکھی گئی، جبکہ پڑوسی ضلع کشتواڑ میں انٹرنیٹ کی رفتار محدود کر دی گئی۔
جمعہ کے روز بھدرواہ کے جائی علاقے میں پیش آئے فائرنگ کے واقعے میں چیکا گاؤں کے رہائشی عارف حسین ہلاک ہو گئے تھے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ جھڑپ کے دوران انہوں نے ایک پولیس اہلکار کی سرکاری رائفل چھیننے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں فائرنگ ہوئی۔
اس واقعے میں جموں و کشمیر پولیس کے اسپیشل آپریشنز گروپ (ایس او جی) کے تین اہلکار بھی زخمی ہوئے۔تاہم مقامی لوگوں نے پولیس کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے جمعہ کے روز عارف حسین کی نمازِ جنازہ کے موقع پر بھدرواہ میں بڑے پیمانے پر احتجاج کیا۔ مظاہرین نے واقعے کی سی بی آئی سے تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔
ادھر سی پی آئی (ایم) کے سینئر رہنما اور رکن اسمبلی ایم وائی تاریگامی نے واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے مکمل، غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
تاریگامی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا’’ڈوڈہ میں جمعہ کے روز جاں بحق ہونے والے حسین کے اہل خانہ کے غم میں برابر کا شریک ہوں۔ اس واقعے نے پورے علاقے میں شدید دکھ اور بے چینی پیدا کر دی ہے۔ ضروری ہے کہ اس واقعے کی مکمل، غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات ہوں تاکہ حقیقت سامنے آئے، ذمہ داروں کا تعین ہو اور انصاف یقینی بنایا جا سکے‘‘۔
حکام کے مطابق واقعے کے وقت عارف حسین کے ساتھ موجود رحمت اللہ اور سجاد احمد موقع سے فرار ہو گئے تھے، تاہم انہیں جمعہ کی دیر رات بھدرواہ کے ٹانڈہ گاؤں سے پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لے لیا گیا۔
ایک پولیس افسر نے کسی دہشت گردانہ تعلق کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان افراد پر مویشی اسمگلنگ میں ملوث ہونے کا شبہ ہے۔ ان کے مطابق یہ افراد مشتبہ انداز میں نقل و حرکت کر رہے تھے، جنہیں ایس او جی ٹیم نے روکنے کی کوشش کی، جس پر جھڑپ پیش آئی۔
حکام نے بتایا کہ اس واقعے کے سلسلے میں بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی مختلف دفعات، جن میں دفعہ۱۰۹ (قتل کی کوشش)، دفعہ۱۲۱ (سرکاری ملازم کو فرائض کی انجام دہی سے روکنے کے لیے رضاکارانہ طور پر چوٹ یا شدید چوٹ پہنچانا)، دفعہ۱۳۲ (سرکاری ملازم کو فرائض کی انجام دہی سے روکنے کے لیے حملہ یا مجرمانہ طاقت کا استعمال) اور دفعہ۳۰۷ (قتل، نقصان یا روک تھام کی نیت سے تیاری کے بعد چوری) شامل ہیں، کے تحت ایک اوپن ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔
یہ بند ڈوڈہ اور کشتواڑ کی مختلف مذہبی تنظیموں کی علیحدہ علیحدہ ہڑتال کی اپیل پر کیا گیا۔ تنظیموں کا دعویٰ تھا کہ عارف حسین بے گناہ تھے اور اس واقعے کی منصفانہ تحقیقات ہونی چاہیے۔
متاثرہ علاقوں میں بیشتر دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے، تاہم عوامی نقل و حمل معمول کے مطابق جاری رہی۔امن و قانون کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے پولیس اور نیم فوجی دستوں کو حساس مقامات پر بڑی تعداد میں تعینات کیا گیا۔
ادھر جموں و کشمیر محکمۂ داخلہ نے جمعہ کے روز ڈوڈہ ضلع میں۱۷ سے۱۹ جولائی تک موبائل ڈیٹا، عوامی وائی فائی اور براڈ بینڈ انٹرنیٹ خدمات عارضی طور پر معطل کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔
یہ حکم انسپکٹر جنرل آف پولیس، جموں کی سفارش پر جاری کیا گیا، جنہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ تیز رفتار انٹرنیٹ خدمات کو ملک دشمن عناصر یا شرپسند عوامی نظم و نسق کو خراب کرنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ (ایجنسیاں)
۔۔۔۔۔۔۔
ایجنسیاں









