جموں: جموں و کشمیر میں جی ایس ٹی وصولیوں میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور گزشتہ تین مالی برسوں کے دوران مجموعی آمدنی 24,080.79 کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے، جو بہتر تعمیل اور ٹیکس دائرہ کار میں توسیع کی عکاسی کرتی ہے، یہ بات منگل کو یوٹی حکومت نے کہی۔
قانون ساز اسمبلی میں نیشنل کانفرنس کے رکن اسمبلی پیرزادہ فاروق احمد کے تحریری سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بتایا کہ جموں و کشمیر میں جی ایس ٹی وصولی۲۰۲۲۔۲۳میں 7,272.15 کروڑ روپے تھی جو۲۰۲۳۔۲۴میں بڑھ کر 8,128.44 کروڑ روپے ہوئی اور۲۰۲۴۔۲۵میں مزید بڑھ کر 8,680.20 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ اسی تین سالہ مدت کے دوران یونین ٹیریٹری کو انٹیگریٹڈ جی ایس ٹی (آئی جی ایس ٹی) کے طور پر مرکز سے 15,795.13 کروڑ روپے کا حصہ بھی ملا۔ انہوں نے کہا کہ۲۰۲۲۔۲۳میں 4,922.57 کروڑ روپے‘۲۰۲۳۔۲۴ میں 5,183.62 کروڑ روپے اور۲۰۲۴۔۲۵میں 5,688.94 کروڑ روپے آئی جی ایس ٹی سیٹلمنٹ کے طور پر موصول ہوئے۔
حکومت نے کہا کہ جی ایس ٹی ایک منزل پر مبنی ٹیکس ہے جس کے تحت آمدنی اس ریاست کو ملتی ہے جہاں اشیاء یا خدمات استعمال ہوتی ہیں نہ کہ جہاں پیدا کی جاتی ہیں۔
وزیر اعلیٰ کاکہنا تھا’’۲۰۱۷میں نافذ کیا گیا جی ایس ٹی نظام کثیر سطحی بالواسطہ ٹیکس ڈھانچے کی جگہ ایک متحدہ نظام لایا، ٹیکس پر ٹیکس کے اثر کو کم کیا اور آن لائن رجسٹریشن، ریٹرن فائلنگ، ریفنڈ اور ای وے بل جیسے ٹیکنالوجی پر مبنی عمل کے ذریعے تعمیل کو بہتر بنایا‘‘۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ یکساں ٹیکس نظام نے ٹیکس دہندگان کیلئے تعمیل کو آسان بنایا، ٹیکس انتظامیہ کو مضبوط کیا اور ٹیکس بنیاد کو وسیع کیا جس کے نتیجے میں یونین ٹیریٹری میں ماہانہ جی ایس ٹی آمدنی میں نمایاں اضافہ ہوا۔
عمرعبداللہ نے مزید کہا کہ جی ایس ٹی اور آئی جی ایس ٹی وصولیوں میں مسلسل اضافہ بہتر مالی وسائل کے حصول اور زیادہ مؤثر ٹیکس انتظامیہ کی نشاندہی کرتا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جولائی۲۰۱۷سے یونین ٹیریٹری میں جی ایس ٹی کے نفاذ نے بالواسطہ ٹیکس نظام کو آسان بنایا، تعمیل بہتر کی اور ٹیکس بنیاد کو وسیع کیا۔
عمرعبداللہ نے کہا کہ جی ایس ٹی نے سابقہ کثیر سطحی ٹیکس ڈھانچے کو ایک متحدہ نظام سے بدل دیا، ٹیکس کے دہرانے کو کم کیا اور رجسٹریشن، ریٹرن فائلنگ، ریفنڈ اور ای وے بل کیلئے ٹیکنالوجی کا استعمال کیا۔ان کاکہنا تھا’’ان اصلاحات نے ٹیکس دہندگان کیلئے تعمیل آسان بنائی اور ٹیکس انتظامیہ کو مضبوط کیا جس کے نتیجے میں اوسط ماہانہ جی ایس ٹی آمدنی میں نمایاں اضافہ ہوا‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اگرچہ آن لائن تعمیل نظام کی طرف منتقلی نے ابتدائی طور پر چھوٹے اور دیہی کاروباروں کیلئے مشکلات پیدا کیں، تاہم کمپوزیشن اسکیم، سہ ماہی ریٹرن کے اختیارات اور کیو آر ایم پی اسکیم جیسے اقدامات اور ہر ضلع میں جی ایس ٹی سہولت مراکز کے قیام سے ان مسائل کو بڑی حد تک حل کیا گیا۔
عمرعبداللہ نے کہا کہ جی ایس ٹی اصلاحات سے دستکاری شعبے کو خاص فائدہ ہوا کیونکہ شرحوں میں معقولیت لائی گئی اور زیادہ تر دستکاری اشیاء کو۵فیصد ٹیکس سلیب میں رکھا گیا جس سے بین الریاستی تجارت آسان ہوئی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغبانی میں زرعی آمدنی جی ایس ٹی سے باہر ہے اور صرف ویلیو ایڈیڈ سرگرمیوں پر ٹیکس لاگو ہوتا ہے جبکہ اہم اشیاء پر رعایتی شرحیں ہیں۔’’ سیاحت کے شعبے میں انٹری ٹیکس کے خاتمے اور ہوٹلوں پر کم جی ایس ٹی شرح نے جموں و کشمیر کا سفر مزید سستا بنایا ہے‘‘۔تاہم وزیراعلیٰ نے چھوٹے، غیر منظم اور گھریلو پیداواری شعبوں کو درپیش مسائل کا اعتراف کیا جن میں تعمیل کا بوجھ، ادائیگیوں میں تاخیر اور آئی جی ایس ٹی ریفنڈ شامل ہیں، اور کہا کہ ان مسائل کو مزید آسانی اور امدادی اقدامات کے ذریعے حل کیا جا رہا ہے۔










