کشمیری زبان صدیوں سے اس خطے کی اجتماعی یادداشت، تہذیب اور روزمرہ احساسات کی امین رہی ہے۔ مگر آج ایک عجیب اور تشویشناک حقیقت سامنے ہے کہ یہی زبان اپنے ہی گھروں میں اجنبی بنتی جا رہی ہے۔ عام طور پر گھریلو گفتگو اب کشمیری کے بجائے اردو میں ہوتی ہے، خاص طور پر شہری علاقوں میں والدین بچوں سے کشمیری کے بجائے اردو میں بات کرنا بہتر سمجھتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ نئی نسل کشمیری سمجھنے کی حد تک تو کسی حد تک واقف ہے مگر اسے روانی سے بولنے یا پڑھنے سے قاصر ہے۔ یوں ایک ایسی زبان جو کبھی زندگی کے ہر پہلو میں موجود تھی، اب محض سماعت کی حد تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ کشمیر کے معاشرے میں اس صورتحال پر تشویش بھی پائی جاتی ہے اور افسوس بھی کیا جاتا ہے کہ کشمیری بول چال گھروں سے غائب ہو رہی ہے، مگر اسی معاشرے کے افراد خود اس تبدیلی کے بنیادی ذمہ دار ہیں۔ بچے وہی زبان اپناتے ہیں جو انہیں گھر میں ملتی ہے۔ جب ماں باپ دانستہ یا نادانستہ طور پر اردو کو ترجیح دیں گے تو کشمیری محض ایک علامتی ورثہ بن کر رہ جائے گی۔ زبان کے تحفظ کا پہلا اصول یہی ہے کہ وہ روزمرہ زندگی کا حصہ ہو، اور اگر یہی کڑی کمزور پڑ جائے تو پھر ادارہ جاتی کوششیں بھی محدود اثر رکھتی ہیں۔
تعلیمی اداروں میں کشمیری کو بطور مضمون شامل ضرور کیا گیا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کی تدریس زیادہ تر رسمی نوعیت اختیار کر چکی ہے۔ طلبہ اسے امتحان کے ایک اضافی پرچے کے طور پر دیکھتے ہیں جبکہ اساتذہ کے لیے بھی یہ مضمون اکثر ترجیحی نہیں ہوتا۔
جموںکشمیر کی اسمبلی میں پیش کیے گئے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کشمیری زبان اس وقت کشمیر ڈویژن کے متعدد ہائر سیکنڈری اسکولوں میں پڑھائی جا رہی ہے جبکہ جموں ڈویژن کے کسی بھی اسکول میں اسے بطور مضمون شامل نہیں کیا گیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خود سرکاری سطح پر بھی اسے ایک محدود جغرافیائی زبان کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اگر زبان کو صرف مخصوص علاقے تک محدود رکھا جائے تو اس کی فکری اور عملی وسعت بھی محدود ہو جاتی ہے۔
دستاویزی معلومات سے یہ بھی واضح ہوا کہ کشمیری زبان کو۲۰۰۹سے پہلے محدود پیمانے پر پڑھایا جاتا تھا، بعد ازاں مختلف حکومتی احکامات کے تحت اساتذہ کی اسامیاں منظور ہوئیں اور ہائر سیکنڈری سطح پر لیکچررز کی تعداد۲۷ تک پہنچی، جن میں سے اس وقت۲۲تعینات ہیں جبکہ۵؍ اسامیاں خالی ہیں۔ بڈگام، اننت ناگ، بارہمولہ، گاندربل اور سری نگر میں خالی اسامیوں کی وجہ سے تدریس متاثر ہو رہی ہے۔
یہ اعداد و شمار ایک حقیقت ضرور بیان کرتے ہیں مگر یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ زبان کے فروغ کا عمل بنیادی طور پر تقرریوں تک محدود رہا ہے۔ کسی زبان کی بقا صرف اساتذہ کی موجودگی سے نہیں بلکہ اس ماحول سے وابستہ ہوتی ہے جہاں اسے استعمال کیا جائے۔
حکومت نے قومی تعلیمی پالیسی۲۰۲۰کے تحت کشمیری زبان کے فروغ، نصاب کی تیاری اور اساتذہ کی تربیت کی بات بھی کی ہے۔ یہ اقدامات اپنی جگہ اہم ہیں لیکن عملی صورت حال اس سے مختلف دکھائی دیتی ہے۔ اگر طلبہ کی دلچسپی نہ ہو اور سماجی فضا میں زبان کا استعمال کم ہو تو نصاب محض کتابی حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔ زبان کتابوں میں محفوظ تو رہ سکتی ہے مگر زندہ نہیں رہتی۔
میڈیا اور مطالعے کی دنیا میں بھی کشمیری زبان کی موجودگی نہایت کمزور ہے۔ پورے کشمیر میں مشکل سے ایک یا دو اخبارات اس زبان میں شائع ہوتے ہیں اور ان کے قارئین نہ ہونے کے برابر ہیں۔ کتب خانوں اور کتابوں کی دکانوں میں کشمیری کتابوں کے مقابلے میں اردو کتابیں نہ صرف زیادہ دستیاب ہیں بلکہ زیادہ فروخت بھی ہوتی ہیں۔ اس صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ کشمیری زبان پڑھنے کی روایت بھی کمزور ہو چکی ہے۔ جب مطالعہ کا دائرہ محدود ہو جائے تو زبان کی تخلیقی صلاحیت بھی سکڑ جاتی ہے۔ ادبی پیداوار کم ہوتی ہے، لکھنے والے کم ہوتے ہیں اور بالآخر پڑھنے والے بھی ختم ہونے لگتے ہیں۔
ڈیجیٹل دنیا میں بھی کشمیری زبان کی موجودگی برائے نام ہے۔ نوجوان زیادہ تر موبائل اور سوشل میڈیا پر اردو یا انگریزی استعمال کرتے ہیں۔ اگر کوئی زبان نئی ٹیکنالوجی میں جگہ نہ بنا سکے تو وہ نئی نسل کے ذہن سے آہستہ آہستہ نکل جاتی ہے۔ آج زبان کی بقا صرف بول چال سے نہیں بلکہ اس کی ڈیجیٹل موجودگی سے بھی وابستہ ہو چکی ہے، اور اس میدان میں کشمیری واضح طور پر پیچھے ہے۔
حکومت کی ذمہ داری محض نصاب میں شامل کرنے تک محدود نہیں رہ سکتی۔ کسی زبان کو فروغ دینے کے لیے اسے معاشی، سماجی اور ثقافتی سرگرمیوں کا حصہ بنانا ضروری ہوتا ہے۔ جب تک زبان روزگار، میڈیا اور عوامی زندگی سے جڑی نہ ہو تب تک اس کا سیکھنا ایک اضافی بوجھ محسوس ہوتا ہے۔ موجودہ صورتحال میں کشمیری نہ سرکاری دفتروں میں استعمال ہوتی ہے، نہ کاروباری معاملات میں، اور نہ ہی روزمرہ شہری زندگی میں اسے عملی اہمیت حاصل ہے۔ اس لیے نئی نسل اسے سیکھنے کو ضروری نہیں سمجھتی۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ کشمیری زبان کے زوال کی رفتار خاموش ہے۔ لوگ اسے سمجھتے ہیں اس لیے انہیں فوری خطرہ محسوس نہیں ہوتا، مگر بولنے کی صلاحیت کم ہوتی جا رہی ہے۔ زبان اسی وقت ختم ہوتی ہے جب وہ سمجھ تو آتی ہے مگر بولی نہیں جاتی۔ اگر یہی رجحان جاری رہا تو آنے والے وقت میں کشمیری صرف ثقافتی حوالوں اور روایتی تقاریب تک محدود ہو سکتی ہے۔
زبان کا تحفظ کسی ایک ادارے یا پالیسی سے ممکن نہیں ہوتا بلکہ یہ اجتماعی رویے سے جڑا ہوتا ہے۔ اس کی ابتدا گھر سے ہوتی ہے جہاں بچے پہلی بار دنیا کو لفظوں میں پہچانتے ہیں۔ اگر گھر میں کشمیری بولی جائے تو اسکول اور معاشرہ اسے تقویت دیتے ہیں، لیکن اگر گھر میں ہی اسے چھوڑ دیا جائے تو کوئی نصاب اسے زندہ نہیں رکھ سکتا۔ اس لیے اصل فیصلہ والدین کے ہاتھ میں ہے کہ وہ بچوں سے کس زبان میں بات کرتے ہیں۔
آج کشمیر ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں کشمیری زبان کے لیے سب سے بڑا خطرہ مخالفت نہیں بلکہ بے نیازی ہے۔ لوگ اس کے خاتمے کے خلاف ہیں مگر اس کے استعمال کے لیے سنجیدہ نہیں۔ اگر یہی کیفیت برقرار رہی تو ایک وقت آئے گا جب کشمیری کو سیکھنا روایت تو ہوگا مگر ضرورت نہیں رہے گی، اور جب زبان ضرورت نہ رہے تو وہ تاریخ بن جاتی ہے۔ کشمیر کی تہذیبی شناخت کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ کشمیری زبان کو رسمی احترام سے نکال کر عملی زندگی میں واپس لایا جائے، ورنہ آنے والی نسل اسے اپنی نہیں بلکہ اپنے ماضی کی زبان کے طور پر جانے گی۔





