جموں و کشمیر کی معاشی بحالی اور دیرپا ترقی کے سوال پر اگر کسی ایک شعبے کو مرکزی حیثیت حاصل ہے تو وہ سیاحت ہے۔ یہ محض تفریحی سرگرمی نہیں، بلکہ ایک ایسا ہمہ جہت معاشی محرک ہے جو روزگار، سرمایہ کاری، بنیادی ڈھانچے اور سماجی ہم آہنگی—سب کو ایک ہی دھارے میں آگے بڑھاتا ہے۔
اسی تناظر میں وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کا ممبئی میں ٹریول فرٹریٹی سے خطاب محض ایک روایتی تشہیری تقریب نہیں تھا؛ یہ اعتماد کی ازسرِنو تعمیر، شراکت داری کی تجدید اور ایک حقیقت پسندانہ معاشی وژن کی نمائندگی تھا۔ وزیرا علیٰ نے واضح کیا کہ مقصد کشمیر کو ’بیچنا‘ نہیں، بلکہ اُس اعتماد کو مضبوط کرنا ہے جس پر سیاحت کی پوری عمارت کھڑی ہوتی ہے۔
سیاحت کی معیشت دراصل اعتماد کی معیشت ہے۔ کوئی مسافر کسی منزل کا انتخاب خوبصورتی کے باعث نہیں، بلکہ اطمینان، تحفظ اور تجربے کے وعدے پر کرتا ہے۔ کشمیر کی فطری دلکشی اپنی جگہ مسلم ہے؛ مگر دہائیوں کے سیاسی و سلامتی چیلنجز نے اسی اعتماد کو مجروح کیا جس کے بغیر سیاحت پھل پھول نہیں سکتی۔ وزیرِ اعلیٰ کا یہ کہنا کہ’’میں خوبصورتی پر بات کرنے نہیں آیا‘‘ اسی حقیقت کا اعتراف ہے کہ اب بحث کے مرکز میں حسنِ فطرت نہیں، بلکہ اعتماد، تسلسل اور شراکت داری ہونی چاہیے۔
معاشی اعتبار سے سیاحت کشمیر کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس سے براہِ راست اور بالواسطہ لاکھوں افراد کا روزگار جڑا ہے—ہوٹلنگ، ٹرانسپورٹ، ہینڈکرافٹس، فوڈ سروسز، ایڈونچر اسپورٹس، گائیڈز، اور مقامی دکاندار۔ جب سیاح آتا ہے تو محض ایک کمرہ یا سواری نہیں خریدتا؛ وہ ایک پوری ویلیو چین کو حرکت دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیاحت میں معمولی سی کمی بھی فوری طور پر مقامی معیشت پر اثر ڈالتی ہے، جبکہ بحالی کے اشارے پورے سماج میں امید کی لہر دوڑا دیتے ہیں۔
مہاراشٹر اور گجرات جیسے بڑے سورس مارکیٹس کی اہمیت اسی لیے غیر معمولی ہے۔ یہ ریاستیں نہ صرف سیاحوں کی تعداد کے اعتبار سے اہم ہیں، بلکہ بحران کے وقت اعتماد کی علامت بھی بنتی رہی ہیں۔ پہلگام حملے کے بعد مہاراشٹر کی ٹریول فرٹریٹی کی جانب سے اظہارِ یکجہتی اور سفر کی بحالی نے یہ ثابت کیا کہ سیاحت محض کاروبار نہیں، بلکہ ایک اخلاقی رشتہ بھی ہے۔ یہی رشتہ اعتماد کی بنیاد بنتا ہے، اور اسی بنیاد پر پائیدار سیاحتی نمو ممکن ہوتی ہے۔
کشمیر کی سیاحت کا مستقبل یک رُخی نہیں ہو سکتا۔ روایتی سمر ٹورازم سے آگے بڑھ کر آل سیزن اپروچ ناگزیر ہے۔سرمائی سیاحت، ایڈونچر ٹورازم، مذہبی و زیارتی سفر، ویلنیس اور ہیلتھ ٹورازم، اور کانفرنس و ایونٹ ٹورازم۔ اس تنوع سے دو بڑے فائدے حاصل ہوتے ہیں:ایک تو سیزنل بے روزگاری میں کمی، دوسرے انفراسٹرکچر کے بہتر استعمال سے سرمایہ کاری پر بہتر منافع۔ وزیرِ اعلیٰ کی جانب سے سال بھر سیاحت کے فروغ پر زور اسی جامع سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔
تاہم سیاحت کا فروغ محض نعروں سے نہیں، پالیسیوں اور عمل سے ہوتا ہے۔ سب سے پہلے تحفظ اور سہولت کا مستقل یقین درکار ہے۔ اس میں سکیورٹی کے ساتھ ساتھ شہری سہولیات—سڑکیں، ٹرانسپورٹ، صفائی، ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی، ایمرجنسی رسپانس‘سب شامل ہیں۔ دوسرا، کاروباری ماحول کی بہتری:لائسنسنگ میں آسانی، ٹیکس اور فیس کا شفاف ڈھانچہ، اور چھوٹے کاروباروں کے لیے کریڈٹ تک رسائی۔ تیسرا، انسانی وسائل کی ترقی: ہوٹل مینجمنٹ، گائیڈنگ، زبانوں، اور ایڈونچر سیفٹی میں تربیت تاکہ مقامی نوجوان اس شعبے میں باعزت اور پائیدار روزگار پا سکیں۔
پائیداری بھی اس بحث کا لازمی جز ہے۔ بے ہنگم سیاحت قدرتی وسائل پر دباؤ ڈالتی ہے اور بالآخر خود سیاحت کو نقصان پہنچاتی ہے۔ کشمیر جیسے نازک ماحولیاتی خطے میں ویسٹ مینجمنٹ، پانی کے استعمال، اور کیریئنگ کیپیسٹی کے اصولوں پر سختی سے عمل ضروری ہے۔ ذمہ دار سیاحت—جو مقامی ثقافت کا احترام کرے اور ماحول کی حفاظت کرے—ہی طویل المدت معاشی فائدہ دے سکتی ہے۔
ٹریول فرٹریٹی کے ساتھ شراکت داری اسی لیے کلیدی ہے۔ ٹور آپریٹرز اور ایجنٹس محض بیچوان نہیں؛ وہ اعتماد کے سفیر ہوتے ہیں۔ ان کے ذریعے منزل کی کہانی، حفاظتی یقین دہانی اور تجربے کی سچائی مسافر تک پہنچتی ہے۔ ممبئی میں منعقدہ آؤٹ ریچ پروگرام نے اسی دوطرفہ مکالمے کو مضبوط کیا۔حکومت کی جانب سے سننے اور اصلاح کا عزم، اور فرٹریٹی کی جانب سے تعاون اور پروموشن کی یقین دہانی۔
سیاحت کی معاشی افادیت کا ایک اہم پہلو سماجی استحکام بھی ہے۔ روزگار کے مواقع نوجوانوں کو مثبت سمت دیتے ہیں، ہجرت کم کرتے ہیں، اور مقامی کمیونٹیز میں شمولیتی ترقی کو فروغ دیتے ہیں۔ جب فائدہ مقامی سطح پر تقسیم ہوتا ہے تو سیاحت محض آمدنی کا ذریعہ نہیں رہتی، بلکہ امن اور ہم آہنگی کی ضامن بن جاتی ہے۔ یہی وہ خاموش فائدہ ہے جسے اکثر نظرانداز کیا جاتا ہے، مگر کشمیر جیسے خطے میں اس کی اہمیت دوچند ہے۔
آخر میں، یہ بات واضح ہے کہ کشمیر کی سیاحت کا مستقبل کسی ایک تقریب یا ایک موسم سے طے نہیں ہوگا۔ یہ مسلسل اعتماد سازی، پالیسی تسلسل، اور شراکت داری کے سفر کا نام ہے۔ وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کا پیغام اسی سمت ایک حقیقت پسندانہ قدم ہے—یہ یاد دہانی کہ خوبصورتی خود بولتی ہے، مگر اعتماد تعمیر کرنا پڑتا ہے۔ اگر حکومت، ٹریول فرٹریٹی اور مقامی کمیونٹیز مل کر اس اعتماد کو مضبوط کریں، تو سیاحت نہ صرف کشمیر کی معاشی ترقی کا ستون بنے گی، بلکہ اسے ایک مستحکم، خوداعتماد اور خوشحال خطہ بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔





