کیا ٹرمپ صاحب بچے ہیں ؟یقینا نہیں ہیں ‘ لیکن ہاں بچوں جیسی حرکتیں کررہے ہیں ……کہیں کسی ملک کو اپنے ساتھ ملانے کی بات کررہے ہیں تو کہیں کسی ملک کے صدر اور ان کی بیوی کو اغوا کرتے ہیں ……نوبیل امن انعام حاصل نہ کرنے پر اپنی ناراضگی کا اظہار بھی کرتے اور ……اور یہ باور کرانے کیلئے کہ انہیں یہ انعام ملنا چاہئے تھا اب تک کم و بیش ۷۵ بار ہند پاک میں آپریشن سندور کے دوران ثالثی کا دعویٰ کرچکے ہیں ۔ہاں یہ سب بچوں جیسی حرکتیں نہیں ہیں ……بالکل بھی نہیں ہیں …… یہ سب سنجیدہ معاملات ہیں اور سو فیصد ہیں …… لیکن جس طرح ایک بچہ ضد کرتا ہے ‘ اسی طرح ٹرمپ صاحب بھی ضد کررہے ہیں ……ایران میں حکومت تبدیل کرنے کی کوشش بھی ان کی ضد ہی ہے کہ …… کہ کہنے والوں کاکہنا ہے کہ زمینی سطح پر ایسے آثار بالکل بھی دکھ نہیں رہے ہیں کہ ٹرمپ صاحب ایران میں حکومت کا تختہ الٹ پائیں گے …… اسی لئے اب لگتا ہے کہ امریکی صدر کی سمجھ میں بھی یہ بات آ رہی ہے کہ وہ ایسا نہیں کر سکتے ہیں ……اسی لئے ایران کے حوالے سے اب ان کا رویہ نرم پڑرہا ہے…… بالکل ایک بچے کی طرح جو پہلے ضد کرتا ہے ‘ رو رو کر اپنا حال بے حال کرتا ہے ……آسمان سر پر اٹھا تا ہے جب اس کی سمجھ میں آتا ہے کہ اس سے سب سے کچھ ہونے والا نہیں ہے ‘ وہ بھیگی بلی بن جاتا ہے ……اور ٹرمپ صاحب بھی بھیگی بلی بن رہے ہیں ……ایران کے حوالے سے ہی نہیں بلکہ گرین لینڈ پر قبضہ کے حوالے سے بھی انہیں بھیگی بلی بننا پڑے گا اور…… اور اس لئے بننا پڑ ے گا کہ اس ملک میں ‘اس ملک کی حکومت اور وہاں کے لوگوں میں امریکہ کے ساتھ جاملنے کی کوئی خواہش نہیں ہے ……بلکہ اس کے وزیر اعظم نے تو واضح کردیا کہ …… کہ اگر کبھی ایسی نوبت آتی ہے کہ گرین لینڈ کو کسی اور ملک کا انتخاب کرنا پڑے تو وہ ……وہ امریکہ کا نہیں بلکہ ڈنمارک کا انتخاب کریں گے اور……اور یہ بات ٹرمپ صاحب کی سمجھ میں اگر ابھی نہیں آ رہی ہے تو……تو جلد آجائےگی کہ ان کے حوالے سے جو ایک بات ہماری سمجھ میں آ ئی ہے وہ یہ ہے کہ ان کی سمجھ میں بات تھوڑی دیر سے آتی ہے ……بالکل ایک ضدی بچے کی طرح ۔ ہے نا؟




