جموںکشمیر میںپائیدار امن کی سمت ایک مضبوط قدم
جموں و کشمیر طویل عرصے سے دہشت گردی، سرحد پار دراندازی اور عدم استحکام کا شکار رہا ہے۔ اس پس منظر میں مرکزی وزیرِ داخلہ امت شاہ کی جانب سے حالیہ اعلیٰ سطحی سیکورٹی جائزہ اجلاس اور اس میں دی گئی ہدایات صرف انتظامی سرگرمی نہیں بلکہ ایک واضح سیاسی و تزویراتی عزم کا اظہار ہیں۔
مرکزی وزیرِ داخلہ امت شاہ کی جانب سے جموں و کشمیر میں سیکورٹی صورتِ حال کے جائزے کے لیے بلایا گیا حالیہ اعلیٰ سطحی اجلاس اسی سنجیدگی کا اظہار ہے۔ یہ اجلاس کسی رسمی کارروائی سے بڑھ کر اس عزم کی علامت ہے کہ آرٹیکل۳۷۰کی منسوخی کے بعد جو تبدیلیاں زمینی سطح پر آئی ہیں، انہیں وقتی کامیابی سمجھ کر چھوڑ نہیں دیا جائے گا بلکہ انہیں مستقل اور پائیدار امن میں بدلا جائے گا۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ۲۰۱۹سے پہلے جموں و کشمیر میں دہشت گردی محض ایک سیکورٹی مسئلہ نہیں تھی بلکہ ایک منظم نظام کی شکل اختیار کر چکی تھی—جس میں سرحد پار دراندازی، مقامی نیٹ ورکس، مالی معاونت اور خوف کا ماحول شامل تھا۔ اس نظام نے عام شہری کی زندگی کو یرغمال بنا رکھا تھا۔ اسکول کھلیں گے یا نہیں، بازار چلیں گے یا بند رہیں گے—یہ سب سوالات معمول کا حصہ بن چکے تھے۔ ایسے ماحول میں جینا کسی امتحان سے کم نہیں تھا۔
آرٹیکل۳۷۰کی منسوخی کے بعد سب سے نمایاں تبدیلی یہ آئی کہ ریاست نے پہلی بار اس مسئلے کو عارضی نہیں بلکہ مستقل حل کے تناظر میں دیکھنا شروع کیا۔ دہشت گردی کے خلاف “زیرو ٹالرینس” کی پالیسی محض الفاظ نہیں رہی بلکہ عملی اقدامات کی صورت میں سامنے آئی۔ سیکورٹی فورسز کو واضح پیغام ملا کہ اب کسی ابہام، کسی دباؤ اور کسی مصلحت کی گنجائش نہیں۔
امت شاہ کا یہ کہنا کہ دہشت گردی کا ایکو سسٹم کمزور پڑ چکا ہے، زمینی حقائق سے مطابقت رکھتا ہے۔ حالیہ برسوں میں دراندازی کی متعدد کوششوں کا ناکام بنایا جانا، دہشت گردوں کے ٹھکانوں کا صفایا، اور دہشت گردی کی مالی شہ رگ پر ضربیں اس بات کی گواہ ہیں کہ ریاست نے محض بندوق نہیں بلکہ پورے نیٹ ورک کو نشانہ بنایا ہے۔ یہ وہ فرق ہے جو وقتی کارروائی اور سنجیدہ حکمتِ عملی میں ہوتا ہے۔
جموں کے دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں جاری آپریشنز اس جدوجہد کی خاموش مگر مضبوط مثال ہیں۔ ان علاقوں میں تعینات جوان صرف ریاستی ذمہ داری ادا نہیں کر رہے، بلکہ وہ اس امید کی حفاظت کر رہے ہیں جو عام شہری کے دل میں دوبارہ جنم لے رہی ہے۔ ان کارروائیوں کا مقصد محض دہشت گردوں کو ہلاک کرنا نہیں، بلکہ اس خوف کو ختم کرنا ہے جو برسوں سے عام آدمی کے سائے کی طرح اس کے ساتھ چلتا رہا ہے۔
لیکن پائیدار امن کا سفر صرف سیکورٹی آپریشنز سے مکمل نہیں ہوتا۔ مرکزی حکومت کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اس نے انسدادِ دہشت گردی کو ترقی اور حکمرانی کے ساتھ جوڑا ہے۔ سڑکوں کی تعمیر، بنیادی سہولیات کی فراہمی، تعلیمی اداروں کی فعالیت اور سیاحت کی بحالی—یہ سب وہ عوامل ہیں جو نوجوانوں کو بندوق کے راستے سے واپس زندگی کی طرف لے آتے ہیں۔ جب ریاست مواقع دیتی ہے تو انتہا پسند بیانیہ خود بخود کمزور پڑ جاتا ہے۔
آج کشمیر میں سیاحوں کی بڑھتی ہوئی آمد محض ایک معاشی سرگرمی نہیں بلکہ ایک نفسیاتی تبدیلی کی علامت ہے۔ وہ بازار جو کبھی خوف کی وجہ سے بند ہو جایا کرتے تھے، اب دیر تک کھلے رہتے ہیں۔ یہ تبدیلی کسی اشتہار یا مہم کا نتیجہ نہیں، بلکہ بہتر ہوتی سیکورٹی اور اعتماد کی فضا کا ثمر ہے۔
مرکزی وزیرِ داخلہ کا سیکورٹی ایجنسیوں کے درمیان ہم آہنگی پر زور دینا بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ جدید دہشت گردی صرف بندوق تک محدود نہیں رہی—یہ اطلاعات، مالی لین دین، سائبر دنیا اور پروپیگنڈا تک پھیل چکی ہے۔ ایسے میں انٹیلی جنس اداروں، پولیس، نیم فوجی دستوں اور فوج کے درمیان تال میل ہی وہ قوت ہے جو اس چیلنج کا مقابلہ کر سکتی ہے۔
سرحدوں پر ’صفر دراندازی‘کا ہدف اسی جامع سوچ کا حصہ ہے۔ جب دراندازی کے راستے بند ہوتے ہیں تو دہشت گردی کی آکسیجن خود بخود کم ہو جاتی ہے۔ یہ ایک مشکل، مسلسل اور صبر آزما عمل ہے، مگر اس کے بغیر پائیدار امن ممکن نہیں۔
یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ اصل امتحان کامیابی حاصل کرنے سے زیادہ اسے برقرار رکھنے میں ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ذرا سی غفلت پورے منظرنامے کو بدل سکتی ہے۔ اسی لیے حاصل شدہ فوائد کو محفوظ رکھنا، ریاست اور معاشرے دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ یہاں عوام کا کردار سب سے اہم ہے—کیونکہ امن کا اصل محافظ وہی شہری ہوتا ہے جو تشدد کو مسترد کرتا ہے۔
جموں و کشمیر کے عوام نے حالیہ برسوں میں یہ ثابت کیا ہے کہ وہ امن چاہتے ہیں، معمول کی زندگی چاہتے ہیں، اور اپنے بچوں کے لیے محفوظ مستقبل کے خواہاں ہیں۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس اعتماد کو ٹوٹنے نہ دے، شفاف حکمرانی کو یقینی بنائے اور ترقی کے ثمرات عام آدمی تک پہنچائے۔
’دہشت گردی سے پاک جموں و کشمیر‘ محض ایک سرکاری ہدف نہیں بلکہ ایک اجتماعی خواب ہے—وہ خواب جس میں بندوق کی آواز کے بجائے اسکول کی گھنٹی سنائی دے، خوف کے بجائے کاروبار کی چہل پہل ہو، اور لاشوں کے بجائے امید کی خبریں آئیں۔ اگر موجودہ عزم، مستقل مزاجی اور توازن برقرار رہا تو یہ خواب تعبیر سے زیادہ دور نہیں۔





