بھارت کے وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر کا حالیہ بیان محض ایک سفارتی ردِعمل نہیں بلکہ برسوں سے جاری ایک مستقل اور دوٹوک بھارتی موقف کی تازہ توثیق ہے۔ جب انہوں نے پاکستان کو ’’خراب ہمسایہ‘‘ قرار دیا تو یہ کوئی وقتی جملہ یا جذباتی اظہار نہیں تھا، بلکہ زمینی حقائق، تاریخی تجربات اور مسلسل تلخ مشاہدات کا نچوڑ تھا۔
درحقیقت، یہ پاکستان کے لیے ایک بار پھر آئینہ تھا‘ایسا آئینہ جس میں وہ اپنی خارجہ پالیسی، سلامتی کے نظریے اور علاقائی رویّے کو صاف دیکھ سکتا ہے، اگر دیکھنا چاہے۔بھارت کا مؤقف ابتدا ہی سے سادہ اور شفاف رہا ہے۔ نئی دہلی نے کبھی یہ نہیں کہا کہ وہ پاکستان کے ساتھ مستقل محاذ آرائی چاہتا ہے۔ اس کے برعکس، بھارت بارہا اس خواہش کا اظہار کرتا رہا ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات اچھے ہمسایوں کی طرح ہوں—تجارت ہو، روابط ہوں، عوامی سطح پر آمدورفت ہو، اور جنوبی ایشیا ترقی کے راستے پر آگے بڑھے۔ مگر اس خواہش کی تکمیل یک طرفہ نہیں ہو سکتی۔
اچھے ہمسائیگی کے رشتے کے لیے دونوں جانب نیت، اعتماد اور ذمہ داری درکار ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے، گزشتہ کئی دہائیوں میں پاکستان نے اپنے طرزِ عمل سے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ معمول کے، پُرامن تعلقات نہیں بلکہ کشیدگی، عدم استحکام اور دباؤ کی سیاست کو ترجیح دیتا ہے۔
وزیرِ خارجہ کے بیان کا مرکزی نکتہ یہی ہے کہ دہشت گردی بھارت اور پاکستان کے تعلقات کی بحالی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ یہ بات نئی نہیں، مگر افسوس کہ آج بھی اتنی ہی سچ ہے جتنی بیس یا تیس سال پہلے تھی۔ بھارت نے ہر بین الاقوامی فورم پر، ہر دوطرفہ بات چیت میں، اور ہر سفارتی موقع پر یہ بات دہرائی ہے کہ جب تک پاکستان اپنی سرزمین سے دہشت گردی کی سرپرستی، اعانت اور منصوبہ بندی بند نہیں کرتا، تب تک اعتماد کی فضا قائم نہیں ہو سکتی۔
مسئلہ یہ نہیں کہ بھارت بات چیت سے گریزاں ہے؛ مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان نے بات چیت کے ساتھ ساتھ تشدد کو بطور ریاستی ہتھیار اپنانے کا راستہ چن رکھا ہے۔پہلگام میں ہونے والا ہولناک دہشت گرد حملہ، جس میں۲۶ بے گناہ شہری جان سے گئے، اسی پالیسی کا ایک اور خونی ثبوت تھا۔ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں، اور نہ ہی بدقسمتی سے آخری معلوم ہوتا ہے۔ ممبئی سے پٹھانکوٹ، اوڑی سے پلوامہ اور اب پہلگام تک، ہر حملے کے بعد ایک ہی کہانی دہرائی جاتی ہے:حملہ ہوتا ہے، سرحد پار روابط سامنے آتے ہیں، ذمہ داری کسی نہ کسی ’’پراکسی گروپ‘‘ کے ذریعے قبول کی جاتی ہے، اور پاکستان رسمی بیانات میں لاعلمی یا بے بسی کا اظہار کر دیتا ہے۔
اس تسلسل نے بھارت کو اس نتیجے پر پہنچا دیا ہے کہ مسئلہ انفرادی گروہوں کا نہیں بلکہ ایک منظم، دانستہ اور ریاستی سطح پر برداشت کی گئی حکمتِ عملی کا ہے۔ایسے میں جب بھارت نے آپریشن سندور کے ذریعے دہشت گرد ڈھانچوں کو نشانہ بنایا، تو یہ کوئی جارحانہ مہم جوئی نہیں تھی بلکہ اپنے عوام کے دفاع کا وہ حق تھا جسے بین الاقوامی قانون بھی تسلیم کرتا ہے۔
ایس جے شنکر کا یہ کہنا کہ ’’ہم اس حق کو کیسے استعمال کرتے ہیں، یہ ہمارا فیصلہ ہے‘‘ دراصل اسی خودمختار حق کا اعادہ ہے۔ بھارت کسی سے اجازت لے کر اپنے شہریوں کی جانوں کا تحفظ نہیں کرے گا، اور نہ ہی یہ قبول کرے گا کہ ایک طرف دہشت گردی جاری رہے اور دوسری طرف اسے ’’تحمل‘‘ یا ’’بردباری‘‘ کا درس دیا جائے۔
وزیرِ خارجہ نے سندھ طاس معاہدے کا حوالہ دے کر ایک اور اہم نکتہ واضح کیا۔ یہ معاہدہ اپنی نوعیت میں غیر معمولی تھا—دو دشمن ممالک کے درمیان پانی کی تقسیم پر اتفاق، وہ بھی اس حد تک فراخ دلی کے ساتھ کہ دنیا اسے ایک مثالی معاہدہ قرار دیتی ہے۔ مگر معاہدے صرف قانونی دستاویز نہیں ہوتے، وہ اعتماد اور نیک نیتی کی بنیاد پر چلتے ہیں۔
اگر دہائیوں تک دہشت گردی کو بطور پالیسی جاری رکھا جائے تو ’’اچھی ہمسائیگی‘‘ محض ایک خالی نعرہ بن جاتی ہے۔ ایسی صورت میں یہ توقع رکھنا کہ معاہدوں کے فوائد یک طرفہ طور پر ملتے رہیں، حقیقت پسندانہ نہیں۔ایس جے شنکر کا یہ کہنا کہ بھارت کو مختلف نوعیت کے ہمسائے ملے ہیں، ایک اہم تقابلی پہلو بھی سامنے لاتا ہے۔
جہاں ہمسائے تعاون پر آمادہ ہوں، وہاں بھارت نے ہمیشہ فراخ دلی، مدد اور شراکت داری کا مظاہرہ کیا ہے—چاہے وہ ترقیاتی امداد ہو، ہنگامی حالات میں مدد ہو یا علاقائی استحکام کے لیے اقدامات۔ مگر جب کوئی ہمسایہ جان بوجھ کر نقصان پہنچانے کی پالیسی اپنائے، تو ردِعمل بھی اسی تناظر میں آتا ہے۔ یہ کوئی انتقام نہیں بلکہ فطری اور ناگزیر نتیجہ ہے۔
پاکستان کے لیے اصل سوال یہ نہیں کہ بھارت کیا کہہ رہا ہے، بلکہ یہ ہے کہ پاکستان خود کیا چاہتا ہے۔ اگر وہ واقعی اچھے ہمسایوں جیسے تعلقات کا خواہاں ہے تو اسے سب سے پہلے دہشت گردی کے ساتھ اپنے تعلق پر فیصلہ کن نظرِ ثانی کرنا ہوگی۔ آدھے اقدامات، مبہم بیانات اور وقتی گرفتاریاں اب کسی کو مطمئن نہیں کرتیں۔ دنیا بدل چکی ہے، اور بین الاقوامی برادری بھی اب اس حقیقت سے زیادہ باخبر ہے کہ جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کی ایک بڑی وجہ سرحد پار دہشت گردی ہے۔
وزیرِ خارجہ کا پاکستان کو ’’خراب ہمسایہ‘‘ کہنا دراصل ایک تلخ مگر ضروری تشخیص ہے۔ یہ گالی نہیں، ایک حقیقت کا بیان ہے۔ اچھا یا برا ہمسایہ ہونا جغرافیے سے نہیں، رویّے سے طے ہوتا ہے۔ بھارت نے بارہا ثابت کیا ہے کہ وہ بات چیت، تعاون اور امن کے دروازے بند نہیں کرتا، مگر وہ یہ بھی واضح کر چکا ہے کہ دہشت گردی کے سائے میں کوئی معمول کی دوستی ممکن نہیں۔آخرکار، فیصلہ پاکستان کے ہاتھ میں ہے۔ وہ چاہے تو اپنے لیے ایک ایسا راستہ چن سکتا ہے جو امن، ترقی اور علاقائی استحکام کی طرف جاتا ہو۔ یا پھر وہ اسی پرانی پگڈنڈی پر چلتا رہے، جہاں ہر موڑ پر تنہائی، بداعتمادی اور سخت ردِعمل اس کا انتظار کرتا ہے۔
ایس جے شنکر کا بیان اسی انتخاب کی یاد دہانی ہے—صاف، بے لاگ اور آئینہ دکھانے والا۔





