آپ کے ساتھ بانی بانٹیں لیکن آپ دہشت گردی جاری رکھیں ‘ یہ باتیں ایک ساتھ نہیں چل سکتی ہیں :وزیر خارجہ
سرینگر: وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے جمعہ کے روز پاکستان کو’ خراب ہمسایہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کو دہشت گردی کے خلاف اپنے عوام کے دفاع کا پورا حق حاصل ہے۔
انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹی)، مدراس کے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ خارجہ نے کہا ’’کوئی ہمیں یہ نہیں بتا سکتا کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے یا کیا نہیں کرنا چاہیے‘‘جو بظاہر آپریشن سندور کی طرف اشارہ تھا۔
بھارت نے گزشتہ برس دہشت گردی کے خلاف اپنے عوام کے دفاع کے حق کو استعمال کرتے ہوئے آپریشن سندور کے تحت پاکستان اور پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر میں دہشت گرد ڈھانچے کو نشانہ بنایا تھا۔ یہ کارروائی جموں و کشمیر کے پہلگام میں اپریل میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد کی گئی، جس میں۲۶شہری ہلاک ہوئے تھے۔
اس حملے کی ذمہ داری دی ریزسٹنس فرنٹ نے قبول کی تھی، جو پاکستان میں قائم دہشت گرد تنظیم لشکرِ طیبہ (ایل ای ٹی) کا ایک پراکسی گروپ ہے۔
ایس جے شنکر نے کہا’’آپ کے ہمسائے خراب بھی ہو سکتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ہیں۔ جب آپ کے ہمسائے خراب ہوں، اور اگر مغرب کی طرف دیکھیں تو ایک ملک جان بوجھ کر، مسلسل اور بغیر کسی ندامت کے دہشت گردی جاری رکھنے کا فیصلہ کرے، تو ہمیں اپنے عوام کو دہشت گردی سے بچانے کا حق حاصل ہے۔ ہم اس حق کو استعمال کریں گے‘‘۔
وزیر خارجہ نے مزید کہا’’ہم اس حق کو کیسے استعمال کرتے ہیں، یہ ہمارا فیصلہ ہے۔ کوئی ہمیں یہ نہیں بتا سکتا کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے یا کیا نہیں کرنا چاہیے۔ ہم اپنے دفاع کے لیے جو بھی ضروری ہوگا، کریں گے۔‘‘
وزیرِ خارجہ نے پاکستان کے ساتھ۱۹۶۰کے سندھ طاس معاہدے (آئی ڈبلیو ٹی) پر بھی بات کی، جسے پہلگام کے مہلک حملے کے بعد معطل کر دیا گیا تھا۔انہوں نے کہا’’کئی برس پہلے ہم نے پانی کی تقسیم کے ایک معاہدے پر اتفاق کیا تھا، لیکن اگر آپ کو دہائیوں تک دہشت گردی کا سامنا ہو، تو اچھی ہمسائیگی باقی نہیں رہتی۔ اور اگر اچھی ہمسائیگی نہ ہو، تو اس کے فوائد بھی نہیں ملتے۔ آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ ‘براہِ کرم میرے ساتھ پانی بانٹیں، لیکن میں آپ کے ساتھ دہشت گردی بھی جاری رکھوں گا‘۔یہ باتیں ایک ساتھ نہیں چل سکتیں‘‘۔
جے شنکر نے کہا کہ بھارت کو ’’مختلف نوعیت کے بہت سے ہمسائے‘‘ نصیب ہیں۔’’اگر آپ کا کوئی ہمسایہ آپ کے ساتھ اچھا ہو، یا کم از کم آپ کے لیے نقصان دہ نہ ہو، تو فطری طور پر آپ کا رجحان ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ نرمی کریں، اس کی مدد کریں—اور ہم بطور ملک یہی کرتے ہیں‘‘۔
وزیر خارجہ نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ ’’بھارت کے بیشتر مسائل‘‘ پاکستانی فوج کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا تھا کہ جیسے اچھے اور برے دہشت گرد ہوتے ہیں، ویسے ہی اچھے فوجی رہنما اور بظاہر اتنے اچھے نہ ہونے والے بھی ہوتے ہیں—جسے پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی طرف اشارہ سمجھا گیا۔
آپریشن سندور۲۲؍اپریل کو پہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد، جس میں۲۶شہری مارے گئے، بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی میں شدید اضافہ ہوا۔
حملے میں سرحد پار روابط سامنے آنے کے بعد، بھارت نے۷مئی کو آپریشن سندور کا آغاز کیا، جس کے تحت پاکستان اور پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر میں متعدد دہشت گرد کیمپوں کو نشانہ بنایا گیا اور۱۰۰سے زائد دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔اس کے بعد پاکستان نے بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملہ کیا، جسے بھارت نے ناکام بنا دیا۔جوابی کارروائی میں بھارتی مسلح افواج نے پاکستان کے ہوائی اڈوں کو نشانہ بنایا۔۱۰مئی کو جنگ بندی کا اعلان کیا گیا۔










