وزیراعظم نوجوانوں سے براہِ راست بات کریں، طلبا ء کےخلاف انتقامی کارروائی نہ ہو: وزیراعلیٰ
ایجنسیاں
سرینگر؍۲۳جولائی
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو کہا کہ دہلی میں پیپر لیک معاملے پر احتجاج کرنے والے بڑی تعداد میں نوجوانوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور مرکزی حکومت کو چاہیے کہ ان کے اندر پائی جانے والی ’ناراضگی‘ کو مذاکرات کے ذریعے دور کرے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا’’کسی نہ کسی مرحلے پر ان نوجوانوں سے بات چیت کرنا ناگزیر ہے۔ اتنی بڑی تعداد میں نوجوانوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا‘‘۔
عمرعبداللہ نے کہا کہ جب کاکروچ جنتا پارٹی نے جنتر منتر پر اپنا پہلا احتجاجی پروگرام منعقد کیا تھا اور اس میں صرف چند افراد شریک ہوئے تھے تو بعض لوگ اس کا مذاق اڑا رہے تھے کہ ان کے ساتھ کوئی نہیں، لاکھوں لوگ سوشل میڈیا پر ضرور ہیں لیکن سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
وزیرا علیٰ نے کہا’’اب دہلی کی صورتحال سب کے سامنے ہے۔ آج نئی دہلی کا ایک بڑا حصہ بند ہے۔ گزشتہ رات بھی جنتر منتر کے قریب آنسو گیس کے گولے داغنے پڑے‘‘۔انہوں نے کہا کہ نوجوانوں میں واضح طور پر ناراضگی پائی جاتی ہے، جسے اب تک نظر انداز کیا گیا ہے۔
عمرعبداللہ نے کہا’’یہ اچھی بات ہے کہ وزیر اعظم نے اپنے ایکس پوسٹ کے ذریعے کہا ہے کہ نوجوان اہم ہیں۔ اگر واقعی ایسا ہے تو بہتر ہوگا کہ ان کے تحفظات کو ان سے براہِ راست بات چیت کے ذریعے دور کیا جائے‘‘۔
ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی جانب سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے لیے احتجاجی طلبہ کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی نہ کرنے کی نئی شرط کے بارے میں پوچھے جانے پر عمر عبداللہ نے کہا کہ نوجوانوں کے خلاف کسی بھی صورت میں انتقامی کارروائی نہیں ہونی چاہیے۔
وزیراعلیٰ نے کہا’’یہ نوجوان پُرامن احتجاج کر رہے ہیں۔ اگر سونم وانگچک اس شرط پر اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کے لیے تیار ہیں تو یہ ایک مثبت قدم ہے۔ میری رائے میں نہ صرف انتقامی کارروائی سے گریز کیا جانا چاہیے بلکہ نوجوانوں سے مذاکرات کر کے ان کے جائز مطالبات پر عمل درآمد بھی ہونا چاہیے‘‘۔
مرکزی وزیر جے پی نڈا کے اس دعوے کے بارے میں کہ جموں و کشمیر سروسز سلیکشن بورڈ کے پیپر لیک کا تعلق عمر عبداللہ کی حکومت سے ہے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس وقت متعدد پرچے لیک ہوئے تھے جبکہ اس وقت کوئی منتخب حکومت موجود نہیں تھی۔
وزیراعلیٰ نے کہا’’اس معاملے کی تحقیقات شروع کی گئی تھیں اور کیس سی بی آئی کے سپرد کیا گیا تھا۔ کئی بلیک لسٹ کمپنیوں کو بھی بھرتیوں کا کام سونپا گیا تھا۔ تاہم انکوائری اور تحقیقات سے کیا نتائج برآمد ہوئے، اس کا جواب میرے پاس نہیں ہے، اس کے لیے آپ کو متعلقہ حلقوں سے پوچھنا ہوگا‘‘۔
وادی میں سیلابی صورتحال کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ اب صورتحال کافی حد تک معمول پر آ چکی ہے، تاہم انہوں نے تشویش ظاہر کی کہ اس نوعیت کے واقعات اب ہر سال پیش آ رہے ہیں۔
عمرعبداللہ نے کہا’’خدا کا شکر ہے کہ دریاؤں میں پانی کی سطح اتنی نہیں بڑھی جتنی خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا، تاہم کئی مقامات پر نقصان ضرور ہوا ہے۔ جیسا کہ آپ نے بیروہ، بڈگام میں دیکھا کہ تقریباً۳۷ دکانیں دریا کی نذر ہو گئیں۔ متعلقہ ڈپٹی کمشنر کو معاوضے کے عمل سے متعلق ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ آج کے بعد بارش رک جائے گی، لیکن یہ صورتحال اب ہر سال کا معمول بنتی جا رہی ہے۔ گزشتہ سال بھی بارشوں سے نقصان ہوا تھا اور اس سال بھی یہی صورتحال ہے‘‘۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت کو اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایک جامع منصوبہ تیار کرنا ہوگا۔
عمر عبداللہ نے کہا’’ہم نہ بارش روک سکتے ہیں اور نہ ہی کلاؤڈ برسٹ جیسے واقعات۔ جب میں بچہ تھا تو سال میں ایک یا دو مرتبہ دور دراز پہاڑی علاقوں، مثلاً پہلگام، میں کلاؤڈ برسٹ کی خبریں آتی تھیں، لیکن اب تقریباً ہر ماہ ایسے واقعات پیش آ رہے ہیں۔ ہمیں اپنے بنیادی ڈھانچے کے تحفظ اور قیمتی انسانی جانوں کو بچانے کے لیے ایک جامع پروگرام مرتب کرنا ہوگا۔‘‘ (ایجنسیاں)










