قومی علامتوں کی عظمت اس وقت مزید بڑھتی ہے جب وہ ہندوستان کے تنوع کو اپنے اندر سموئیں:طارق قرہ
سرینگر/۹ستمبر
جموں و کشمیر کی حکمراں اتحادی حکومت کے اندر اختلافات بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں، جہاں نیشنل کانفرنس نے بدھ کے روز ایک سرکاری ریاستی تقریب میں وندے ماترم کے مکمل ورژن کی پیشکش پر اپنی اتحادی جماعت کانگریس کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے اس کے موقف کو مسترد کردیا۔
نیشنل کانفرنس نے کہا کہ کسی سرکاری تقریب میں مکمل قومی گیت بجانا ایک ’’قانونی ذمہ داری‘‘ ہے، تاہم کسی کو اسے گانے کے لیے مجبور نہیں کیا جائے گا۔
یہ تنازع پیر کے روز جموں و کشمیر کے جاری انٹرنیشنل فلم فیسٹیول (آئی ایف ایف جے کے) میں قومی گیت کے غیر مختصر یعنی مکمل ورژن کی پیشکش کے بعد پیدا ہوا۔ تقریب میں وزیراعلیٰ عمر عبداللہ اور نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ بھی موجود تھے۔
کانگریس، جو مرکز کے زیر انتظام علاقے میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت کو بیرونی حمایت فراہم کر رہی ہے اور قومی سطح پر اپوزیشن کے انڈیا بلاک کا حصہ بھی ہے، نے اس واقعے پر کھل کر سخت ناراضی کا اظہار کیا۔۹۰ رکنی جموں و کشمیر اسمبلی میں کانگریس کے چھ ارکان اسمبلی ہیں۔
کانگریس کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے چیف ترجمان تنویٰر صادق نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ حکومتی پروٹوکول اور جماعتی نظریے کو الگ الگ دیکھا جانا چاہیے۔
صادق نے کہا، ’’نیشنل کانفرنس کا موقف واضح ہے۔ جب پارلیمنٹ نے اسے منظور کرلیا ہے تو وندے ماترم بجانا ایک قانونی ذمہ داری بن جاتا ہے اور حکومت نے بھی یہی کیا ہے۔‘‘انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے زیر اقتدار نہ ہونے والی ریاستوں، مثلاً تلنگانہ اور کرناٹک میں بھی وزرائے اعلیٰ نے سرکاری تقریبات میں وندے ماترم کا مکمل ورژن بجایا ہے۔انہوں نے مزید کہا، ’’جہاں تک پارٹی کے موقف کا تعلق ہے، جو شخص وندے ماترم گانا چاہتا ہے وہ گا سکتا ہے اور کسی کو مجبور نہیں کیا جائے گا۔‘‘
وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بعد میں صادق کے بیانات کو ایکس پر شیئر کیا۔
منگل کے روز کانگریس کے جنرل سکریٹری (تنظیم) کے سی وینوگوپال نے آئی ایف ایف جے کے کی تقریب کی ایک ویڈیو ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ وندے ماترم کا مکمل ورژن ’’اس ہم آہنگ اور تکثیری مزاج سے مطابقت نہیں رکھتا جس کا تصور ہمارے مجاہدین آزادی نے ہندوستان کے لیے کیا اور جسے انہوں نے پروان چڑھایا۔‘‘
انہوں نے اتحادی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ کانگریس کی تاریخی۱۹۳۷ کی ورکنگ کمیٹی کی قرارداد کا احترام کریں، جس میں ہندوستان کے مذہبی تنوع اور اجتماعی ضمیر کا احترام کرتے ہوئے وندے ماترم کے مختصر ورژن کو اختیار کیا گیا تھا۔
جموں و کشمیر کانگریس کے صدر طارق حامد قرہ نے بدھ کے روز نیشنل کانفرنس کے اقدام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قومی علامتوں کو ہندوستان کے آئینی مزاج کی عکاسی کرنی چاہیے۔
قرہ نے ایکس پر لکھا، ’’اختیار کیا گیا ورژن ایک سوچا سمجھا توازن پیش کرتا ہے، جو تاریخی اہمیت کو برقرار رکھتے ہوئے ہندوستان کے تکثیری مزاج کا بھی خیال رکھتا ہے۔‘‘انہوں نے کہا، ’’قومی علامتوں کی عظمت اس وقت مزید بڑھتی ہے جب وہ ہندوستان کے تنوع کو اپنے اندر سموئیں، نہ کہ اس تنوع سے یہ توقع کی جائے کہ وہ قومی علامتوں کے مطابق خود کو ڈھال لے۔‘‘
نیشنل کانفرنس کے ترجمان صادق نے قرہ کو ٹیگ کرتے ہوئے ایکس پر ایک پوسٹ میں کانگریس کے زیر اقتدار کرناٹک اور تلنگانہ میں یوم آزادی کی تقریبات کی ویڈیوز شیئر کیں، جہاں وندے ماترم کا مکمل ورژن بجایا گیا تھا۔
صادق نے قرہ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا، ’’جناب طارق قرہ صاحب، براہِ کرم اپنی کانگریس کی حکومتوں کے وزرائے اعلیٰ کو دیکھیں اور اپنے قیمتی خیالات سب کے ساتھ شیئر کریں۔ شکریہ!‘‘
یہ سیاسی تنازع اس وقت شروع ہوا جب کانگریس نے پیر کے روز جموں و کشمیر کے بین الاقوامی فلم فیسٹیول میں قومی گیت کے مکمل ورژن کی پیشکش پر اعتراض کیا۔
کانگریس کے جنرل سکریٹری انچارج آرگنائزیشن، کے سی وینوگوپال نے تقریب میں مکمل ورژن گائے جانے کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے اتحادی جماعت نیشنل کانفرنس کو مشورہ دیا کہ وہ گیت کے مختصر ورژن پر قائم رہنے کے معاملے میں کانگریس کا ساتھ دے۔
انہوں نے ایکس پر لکھا، ’’وندے ماترم کا مکمل ورژن اس ہم آہنگ اور تکثیری مزاج سے مطابقت نہیں رکھتا جس کا تصور ہمارے مجاہدینِ آزادی نے ہندوستان کے لیے کیا اور اسے پروان چڑھایا تھا۔‘‘
گوپال نے مزید کہا، ’’ہمارے لیے مہاتما گاندھی، پنڈت نہرو، سردار پٹیل، سبھاش چندر بوس، راجندر پرساد، آچاریہ نریندر دیو، مولانا آزاد، سروجنی نائیڈو اور جے بی کرپلانی کا متفقہ فیصلہ بدستور سب سے اہم ہے، جس کی تشکیل میں کسی حد تک گرو دیو رابندر ناتھ ٹیگور کے مشورے کا بھی اہم کردار تھا۔‘‘
کانگریس رہنما نے اپنے اتحادیوں پر زور دیا کہ وہ مجاہدینِ آزادی کی بصیرت اور فیصلے کا احترام کریں اور اس ’’خوبصورت اور تاریخی گیت‘‘ کے صرف اسی ورژن کو گانے پر قائم رہیں جسے کانگریس نے اختیار کیا تھا۔
اس دعوے پر نیشنل کانفرنس نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس اپنے اتحادیوں کو شرائط نہیں بتا سکتی۔
این سی رہنما بشیر احمد نے کہا، ’’اتحادی ہونے کی حیثیت سے آپ یہ حکم نہیں دے سکتے کہ گیت گایا جائے یا کتنا گایا جائے۔ وینوگوپال کو ٹویٹ کرنے کا حق ہے، لیکن وہ اسے مسلط نہیں کرسکتے۔ یہ عوام کی پسند ہے۔ ہم لوگوں پر کچھ بھی مسلط کرنے کے خلاف ہیں۔‘‘
کانگریس نے بھی اپنے اتحادی پر حملہ جاری رکھتے ہوئے اسے ناگپور (آر ایس ایس) کے حکم کے آگے نہ جھکنے کا مشورہ دیا۔
کانگریس رہنما کپل سنگھ نے کہا، ’’عمر عبداللہ اور فاروق عبداللہ انڈیا اتحاد کا حصہ ہیں۔ اتحادی ہونے کے ناطے انہیں کانگریس کے فیصلے کا احترام کرنا چاہیے، نہ کہ ناگپور (آر ایس ایس) کے فیصلے کا۔‘‘
۔۔۔۔۔۔(ندائے مشرق ویب ڈیسک)









