اننت ناگ میں دہشت گردوں کے مکانات مسمار کرنے پر وزیراعلیٰ کا اظہارِ تشویش؛ کہتے ہیں تشدد کا خاتمہ عوام کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں، محبوبہ مفتی نے بھی کارروائی کو "اجتماعی سزا” قرار دیا
سرینگر؍۲۳ جولائی
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بدھ کو اننت ناگ میں ایک پولیس اہلکار کی ہلاکت کے بعد کی جانے والی انتقامی کارروائیوں کے حوالے سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ محض مکانات گرانے یا بڑے پیمانے پر گرفتاریاں کرنے سے حالات بہتر نہیں ہوں گے، بلکہ تشدد کے خاتمے کے لیے عوام کو ساتھ لے کر چلنا ناگزیر ہے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا’’میں پولیس کے غصے کو سمجھتا ہوں، لیکن سپریم کورٹ واضح ہدایات دے چکی ہے کہ اس نوعیت کی فوری اور یکطرفہ کارروائیاں نہیں کی جانی چاہئیں‘‘۔
عمرعبداللہ نے کہا’’پہلگام حملے کے بعد بھی ہم نے ایسی ہی صورتحال دیکھی تھی، جب بعض لوگوں کے مکانات بلڈوزر سے منہدم کیے گئے تھے۔ اس وقت مجھے اس رجحان کو روکنے کے لیے مرکزی حکومت سے بات کرنی پڑی تھی‘‘۔
وزیراعلیٰ کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب اننت ناگ میں پولیس اہلکار عاشق حسین کی شہادت کے چند گھنٹوں بعد حکام نے لشکر طیبہ سے وابستہ دو سرگرم دہشت گردوں، عادل ٹھوکر اور ہارون رشید گنائی، کے مکانات کو بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب مسمار کر دیا۔
واضح رہے کہ ہیڈ کانسٹیبل عاشق حسین، جو امرناتھ یاترا کی سیکورٹی ڈیوٹی پر مامور تھے، بدھ کی دوپہر اننت ناگ کے لال چوک میں ایک دہشت گرد کی قریب سے کی گئی فائرنگ میں ہلاک ہو گئے تھے۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ گزشتہ سال پہلگام دہشت گردانہ حملے کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ اس واقعے میں ایک بھی مقامی شخص ملوث نہیں تھا اور تمام حملہ آور باہر سے آئے تھے۔انہوں نے کہا’’مکانات گرانے یا ہزاروں افراد کو گرفتار کرنے سے حالات بہتر نہیں ہوں گے بلکہ اس سے صورتحال مزید خراب ہوگی‘‘۔
اپنے سابقہ دورِ حکومت کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے تجربے کے مطابق عوام کو اعتماد میں لیے بغیر تشدد کے اس سلسلے کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے کہا’’ہم پولیس، فوج اور سی آر پی ایف کی مدد سے ایک حد تک ضرور کامیابی حاصل کر سکتے ہیں، لیکن اس تشدد کا حقیقی خاتمہ تبھی ممکن ہوگا جب عام لوگ بھی متحد ہو کر اس کے خلاف کھڑے ہوں‘‘۔
وزیرا علیٰ نے مزید کہا’’پہلگام حملے کے بعد عوام نے دہشت گردی کے خلاف کھل کر غم و غصے کا اظہار کیا تھا، اور آج بھی لوگ ہیڈ کانسٹیبل عاشق حسین کے بہیمانہ قتل پر شدید برہم ہیں‘‘۔
بدھ کے حملے کے بعد وادی کشمیر میں ایک ہزار سے زائد مبینہ اوور گراؤنڈ ورکروں (او جی ڈبلیوز) کی حراست سے متعلق رپورٹس پر تبصرہ کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جب اس طرح کی اطلاعات سامنے آتی ہیں تو عوام کا غصہ نظام کی طرف منتقل ہو جاتا ہے۔انہوں نے کہا’’مجھے امید ہے کہ ہم اس لڑائی میں اپنے لوگوں کو ساتھ لے کر چلیں گے، تبھی ہمیں حقیقی کامیابی حاصل ہوگی‘‘۔
دریں اثنا، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے بھی ہیڈ کانسٹیبل عاشق حسین کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مبینہ دہشت گردوں کے گھروں کو منہدم کرنا ’اجتماعی سزا‘ کے مترادف ہے، جس کی جمہوری نظام میں کوئی جگہ نہیں۔
محبوبہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم’ایکس‘ پر اپنی پوسٹ میں کہا’’ڈیوٹی کے دوران ایک پولیس افسر کا قتل نہایت گھناؤنا اور قابلِ مذمت فعل ہے، لیکن ایک ہزار سے زائد افراد کو حراست میں لینا اور دو مبینہ جنگجوؤں کے اہل خانہ کے مکانات منہدم کرنا اجتماعی سزا کے مترادف ہے، جس کی کسی جمہوریت میں کوئی گنجائش نہیں‘‘۔
پی ڈی پی صدر نے کہا کہ اگر مرکزی حکومت کا یہ دعویٰ درست ہے کہ جموں و کشمیر میں’ عسکریت پسندی‘ تقریباً ختم ہو چکی ہے تو اسے بے گناہ شہریوں کے ساتھ زیادہ انسانی اور قانونی طرزِ عمل اختیار کرنا چاہیے، نہ کہ پوری برادری کے خلاف ’جوابی کارروائی‘ کی پالیسی اپنانی چاہیے۔
قابلِ ذکر ہے کہ کشمیر میں اس سے قبل بھی سرگرم دہشت گردوں کے مکانات مسمار کیے جاتے رہے ہیں، تاہم تشدد کے واقعات میں کمی آنے کے باعث گزشتہ تقریباً ایک سال سے ایسی کارروائیاں بند تھیں۔










