بہار کے وزیرِ اعلیٰ‘ نتیش کمار کی جانب سے ایک سرکاری تقریب کے دوران ایک مسلم خاتون ڈاکٹر کے چہرے سے نقاب یا حجاب ہٹانے کی کوشش نے ملک کے اندر شدید ردِعمل کو جنم دیا۔ اس واقعے کی ویڈیو منظرِ عام پر آنے کے بعد نہ صرف اپوزیشن جماعتوں بلکہ متعدد سماجی اور سیاسی حلقوں نے اسے ایک غیر شائستہ، غیر ضروری اور قابلِ مذمت عمل قرار دیا۔ سوال محض ایک فرد یا ایک لمحے کا نہیں، بلکہ اس رویے کا ہے جو عوامی نمائندوں سے وابستہ اقدار، آئینی ذمہ داریوں اور سماجی حساسیت سے جڑا ہوا ہے۔
کسی بھی جمہوری معاشرے میں یہ اصول تسلیم شدہ ہے کہ لباس، حجاب یا نقاب اختیار کرنا یا نہ کرنا ایک فرد کا ذاتی اور آئینی حق ہے، بالخصوص خواتین کے معاملے میں اس حق کی اہمیت دوچند ہو جاتی ہے۔ ایک عوامی تقریب میں، وہ بھی اس وقت جب ایک خاتون پیشہ ورانہ حیثیت میں موجود ہو، اس نوعیت کی حرکت نہ صرف شخصی آزادی کی خلاف ورزی ہے بلکہ ایک طاقتور منصب پر فائز فرد کی جانب سے غیر ضروری مداخلت کی مثال بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بیشتر سیاسی جماعتوں اور سماجی تنظیموں نے نتیش کمار سے معافی کا مطالبہ کیا، جو کسی حد تک فطری اور قابلِ فہم ہے۔
تاہم اس داخلی ردِعمل کے ساتھ ہی پاکستان کے دفترِ خارجہ کی جانب سے اس واقعے پر سخت ردِعمل سامنے آیا۔ اسلام آباد نے اس معاملے کو ہندوستان میں اقلیتوں، بالخصوص مسلم خواتین، کے ساتھ مبینہ ناروا سلوک کی ایک مثال قرار دیتے ہوئے نہ صرف مذمت کی بلکہ اسے ایک وسیع تر بیانیے سے جوڑنے کی کوشش بھی کی۔ بظاہر یہ بیان انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کے نام پر دیا گیا، مگر سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان واقعی اس اخلاقی پوزیشن میں ہے کہ وہ ہندوستان کو اس معاملے پر نصیحت کرے؟
یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پاکستان میں اقلیتوں کی صورتِ حال بین الاقوامی سطح پر مسلسل سوالات کی زد میں رہی ہے۔ احمدیوں کو آئینی طور پر غیر مسلم قرار دینا، ان کے مذہبی حقوق پر پابندیاں، مندروں اور گرجا گھروں پر حملے، جبری تبدیلی مذہب اور توہینِ مذہب کے قوانین کا اقلیتوں کے خلاف غلط استعمال‘یہ سب ایسے حقائق ہیں جن پر عالمی ادارے، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور خود پاکستانی سماج کے باشعور حلقے بھی تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ ایسے میں ہندوستان کے ایک انفرادی واقعے کو بنیاد بنا کر مجموعی اقلیتی پالیسی پر حملہ آور ہونا کم از کم اخلاقی تضاد کا مظہر ضرور ہے۔
یہاں وہ محاورہ بے اختیار یاد آتا ہے کہ جن کے اپنے گھر شیشے کے ہوں، وہ دوسروں پر پتھر نہیں پھینکتے۔ پاکستان کو اگر واقعی اقلیتوں کے حقوق کا درد ہے تو اس کا آغاز اپنے ملک سے ہونا چاہیے۔ بین الاقوامی فورمز پر اخلاقی خطبات دینے سے پہلے اندرونی اصلاح، قانون کی عمل داری اور اقلیتوں کے تحفظ کو یقینی بنانا زیادہ مؤثر اور معتبر راستہ ہے۔
اس کے باوجود، تصویر کا دوسرا رخ نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ بہار کے وزیرِ اعلیٰ کا عمل کسی بھی طور پر قابلِ دفاع نہیں۔ یہ محض ایک ’’انفرادی واقعہ‘‘ کہہ کر ٹالا نہیں جا سکتا، کیونکہ جب کوئی آئینی عہدے پر فائز شخص ایسا طرزِ عمل اختیار کرے تو اس کے اثرات فرد تک محدود نہیں رہتے بلکہ سماج میں ایک پیغام جاتا ہے۔ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ واقعے کو تین چار دن گزر جانے کے باوجود نہ تو نتیش کمار نے معذرت کی ہے اور نہ ہی افسوس کا کوئی باضابطہ اظہار سامنے آیا ہے۔ خاموشی بعض اوقات خود ایک بیان بن جاتی ہے، اور اس معاملے میں یہی خاموشی سوالات کو مزید گہرا کر رہی ہے۔
نتیش کمار جیسے سینئر سیاست دان، جو دہائیوں سے اقتدار اور سیاست کے اتار چڑھاؤ کا حصہ رہے ہیں، سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ نہ صرف آئینی اقدار کا احترام کریں بلکہ اپنے عمل سے مثال بھی قائم کریں۔ ایک سادہ سی معذرت نہ صرف معاملے کو ختم کر سکتی تھی بلکہ یہ پیغام بھی دے سکتی تھی کہ قیادت غلطی تسلیم کرنے کا حوصلہ رکھتی ہے۔ بدقسمتی سے، ایسا نہ ہونا سیاسی انا اور حساسیت کے فقدان کی نشاندہی کرتا ہے۔
یہ معاملہ دراصل دو سطحوں پر غور طلب ہے۔ پہلی سطح پر یہ خواتین کے شخصی وقار، مذہبی آزادی اور آئینی حقوق کا سوال ہے، جس پر کسی بھی قسم کی مصلحت یا سیاسی وابستگی کے بغیر واضح موقف اختیار کیا جانا چاہیے۔ دوسری سطح پر یہ خارجہ سیاست اور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کا معاملہ ہے، جہاں انسانی حقوق کو اکثر سہولت کے مطابق استعمال کیا جاتا ہے۔ پاکستان کی تنقید اسی دوسری سطح کی نمائندہ ہے، جہاں مقصد الزام تراشی سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔
ہندوستان کے لیے بھی اس واقعے سے سبق لینے کی ضرورت ہے۔ جمہوریت کی اصل طاقت صرف انتخابات میں نہیں بلکہ روزمرہ کے طرزِ عمل، ادارہ جاتی ضبط اور عوامی نمائندوں کی ذمہ داری میں مضمر ہوتی ہے۔ اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کسی بیرونی دباؤ کے تحت نہیں بلکہ آئینی اور اخلاقی فریضے کے طور پر ہونا چاہیے۔ ایسے واقعات، چاہے انفرادی ہوں، اگر بروقت اور سنجیدگی سے نہ نمٹائے جائیں تو وہ بڑے بیانیوں کو جنم دیتے ہیں‘اور پھر اندرونی معاملات بھی بین الاقوامی بحث کا حصہ بن جاتے ہیں۔
آخر میں، بہتر راستہ یہی ہے کہ پاکستان اپنی داخلی کمزوریوں پر توجہ دے۔وہ اپنے گھر کی حالت میں سدھار لائے اور ہندوستانی مسلمانوں کی فکر نہ کریں کہ وہ اپنے ملک میں نہ صرف خوش ہیں بلکہ انہیں وہ تمام آئینی حقوق حاصل ہیں جن کیلئے پاکستان کی اقلیتیں ترستی ہیں۔ بہار کے وزیرِ اعلیٰ کے لیے بھی یہی مناسب ہوگا کہ وہ تاخیر کیے بغیر معذرت کر کے اس باب کو بند کریں۔ وقارِ انسان، خواہ وہ کسی بھی مذہب یا قوم سے تعلق رکھتا ہو، سیاست سے بالاتر ہونا چاہیے۔ یہی اصول اگر دونوں جانب اپنایا جائے تو شور کم اور انصاف زیادہ ہو سکتا ہے۔





