ہفتہ, جون 6, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

روح اللہ کا مؤقف بجا، مگر راستہ نہیں

حکمرانی کا وزن سڑکوں پر نہیں، ایوانوں میں ہوتا ہے

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2025-11-27
in اداریہ
A A
آگ سے متاثرین کی امداد
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

عالمی یوم ماحولیات:کشمیر کہاں کھڑا ہے ؟

کشمیر کی سیاسی جماعتیں سبق نہیں سیکھیں گی

آغا سید روح اللہ مہدی نے ایک بار پھر جموں و کشمیر کی ریزرویشن پالیسی میں تاخیر، اس کے مضمرات اور نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے چینی پر کھل کر آواز بلند کی ہے۔ ان کی باتوں میں وزن ہے؛ کسی ذاتی مفاد کی بو نہیں آتی بلکہ ایک حقیقی فکرمندی جھلکتی ہے۔ موجودہ حالات میں جب کھلی بھرتیاں کم ہیں، ملازمتوں کے مواقع سمٹتے جا رہے ہیں اور مقابلہ پہلے سے کہیں زیادہ سخت ہو چکا ہے، ایسے میں پالیسی میں ابہام یا تاخیر واقعی نوجوانوں کے لیے کرب اور بے یقینی کا باعث بنتی ہے۔
روح اللہ نے بالکل درست کہا کہ میرٹ کو پیروں تلے روندنے کا تاثر نوجوانوں کے اندر غصہ بھی پیدا کرتا ہے اور بے امیدی بھی۔ اس لیے اصولی طور پر ان کے سوالات، ان کی تشویش اور ان کا دباؤ ‘ سب جائز ہیں۔
لیکن اصل مسئلہ ان کے مؤقف میں نہیں، اس کے اظہار کے انداز میں ہے۔ روح اللہ اس وقت حکمران جماعت کے رکنِ پارلیمنٹ ہیں، وہ کوئی اپوزیشن رہنما یا طلبہ تنظیم کے سرگرم کارکن نہیں کہ صرف سڑکوں یا سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی ناراضگی ظاہر کریں۔ عوام نے انہیں ووٹ دے کر اقتدار کی میز تک پہنچایا ہے۔ ان کے پاس وہ دروازے موجود ہیں جو عام شہریوں کے لیے بند ہوتے ہیں۔ ان کے پاس وہ رسائی ہے جو کسی مظاہرین کے ہجوم کو نہیں مل سکتی۔ ایسے میں ان کی اولین ذمہ داری یہ بنتی ہے کہ وہ سیاسی دباؤ پیدا کرنے کے بجائے سیاسی مکالمہ کریں۔ حکومت کی پالیسیوں پر اختلاف ہو سکتا ہے، ہونا بھی چاہیے، لیکن اختلاف کا طریقہ حکومتی ذمہ داری کے معیار کے مطابق ہونا چاہیے۔
یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ کبھی کبھی پارٹیوں کی اندرونی سیاست میں بات آگے بڑھتی نہیں، فائلیں رک جاتی ہیں، فیصلے ٹلتے رہتے ہیں۔ مگر ایک رکنِ پارلیمنٹ کے الفاظ کا وزن صرف جلسوں اور احتجاجی لائحہ عمل میں نہیں ہوتا، بلکہ اس کے اصل اثرات وہیں محسوس ہوتے ہیں جہاں پالیسی بنتی اور بدلتی ہے… یعنی پارٹی قیادت کے ساتھ براہِ راست ملاقاتوں، کمیٹیوں، پارلیمانی مباحث اور حکومتی فورمز میں۔ روح اللہ اگر اپنی ہی جماعت کی حکومت سے سرعام ناراضی ظاہر کرتے ہیں تو اس سے حکومت پر دباؤ تو ضرور بنتا ہے، مگر اسی کے ساتھ حکومتی نظم و ضبط کمزور اور عوامی اعتماد بھی متزلزل ہو سکتا ہے۔
یہ بھی ایک زمینی حقیقت ہے کہ اگر حکومتی نمائندے اپنی ہی حکومت کے سامنے عوامی احتجاج کا راستہ اپنائیں تو اس سے دو تصویریں بنتی ہیں ‘ ایک، حکومت کمزور دکھتی ہے؛ دوسرا، نمائندے کا اپنا وزن کم ہوتا ہے۔ اور اگر فیصلہ نہ بدلا جائے تو احتجاج بھی محض علامتی رہ جاتا ہے۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے، خاص طور پر ایسے حساس معاملے میں جس کے اثرات ہزاروں نوجوانوں پر پڑتے ہیں۔
اس لیے روح اللہ کے مؤقف میں قوت ضرور ہے، مگر جو راستہ انہوں نے اختیار کیا ہے، اس میں حکومتی منصب کی سنجیدگی کم اور سیاسی تاثر زیادہ جھلکتا ہے۔ بہتر یہ ہوتا کہ وہ وزیرِ اعلیٰ، ڈپٹی وزیر اعلیٰ یا متعلقہ وزرا سے براہِ راست ملاقاتیں کرتے، پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے سامنے دلیل رکھتے، اور پارلیمانی طریقہ کار کے مطابق سوالات اٹھاتے۔ اس سے شاید فیصلہ پہلے بھی آسکتا تھا اور وہ اپنے منصب کی اخلاقی ساکھ بھی برقرار رکھتے۔
دوسری طرف، حکومت کا کردار بھی کمزور نہیں ہونا چاہیے۔ یہ کوئی معمولی مسئلہ نہیں کہ ایک سال سے نوجوان ریزرویشن پالیسی کے حتمی لائحہ عمل کے منتظر کھڑے ہیں۔ کابینہ کمیٹی کی رپورٹ ہو یا اس پر موصول ہونے والی تجاویز؛ اس پر ’چند دن‘ کی تاویل دے کر پورا ایک سال گزار دینا… یہ نوجوانوں کے ساتھ انصاف نہیں۔ حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ریزرویشن فریم ورک محض سرکاری فائل نہیں بلکہ نوجوانوں کے اعتماد کا مسئلہ ہے۔ جب سرکاری بیانات اور عملی فیصلوں میں فاصلہ بڑھ جاتا ہے تو اس کا خمیازہ حکومت کو سیاسی اعتبار سے بھی بھگتنا پڑتا ہے، اور سماجی سطح پر بھی۔
اب یہ بھی واضح ہو رہا ہے کہ کچھ حالیہ واقعات … مثلاً ایس ایم وی ڈی ایم ای کے داخلوں کو لے کر اٹھنے والی بحث … نے ماحول کو اور زیادہ حساس بنا دیا ہے۔ اگر حکومت شفافیت سے فیصلے نہ کرے، میرٹ کو مضبوط بنیاد نہ بنائے، اور مذہبی یا سیاسی بحثوں کو بہت زیادہ جگہ ملنے دے تو اس سے پورا نظام سوالات کی زد میں آ جاتا ہے۔ اس لیے حکومت کے لیے یہی بہترین وقت ہے کہ وہ ریزرویشن پالیسی کے بارے میں واضح اور اصولی فیصلہ کرے، جو انصاف پر مبنی ہو اور میرٹ کا خون بھی نہ ہو۔ یہ فیصلہ اب مزید تاخیر برداشت نہیں کر سکتا۔
یہ بھی ضروری ہے کہ حکومت اپنے بیانات میں یکسانیت لائے۔ ایک طرف بعض سیاسی حلقے مسلم طلبہ کے داخلوں پر اعتراض کر رہے ہیں، دوسری طرف حکومت خود تعلیمی اداروں کو مذہبی سیاست سے دور رکھنے کی بات کرتی ہے۔ یہ تضاد خود حکومت کے لیے نقصان دہ ہے۔ اگر میرٹ واحد معیار ہے … جیسا کہ حکومت کا موقف ہے … تو پھر مذہبی تنازعات کو ہوا دینا ہی غلط ہے، خواہ وہ کسی بھی طرف سے ہوں۔
اسی پر روح اللہ کے سوالات بھی کھڑے ہوتے ہیں، اور یہی وہ جگہ ہے جہاں حکومت کو زیادہ شفاف اور دلیل پسند ہونا چاہیے۔ مگر اس کا جواب احتجاج میں نہیں بلکہ ایوانوں میں، باضابطہ پالیسی بیانات میں، اور بروقت فیصلوں میں دیا جانا چاہیے۔
آخری بات: نوجوانوں کے مستقبل کے سوال کو سیاسی کھینچا تانی سے بچانا ہوگا۔ نہ روح اللہ کو چاہیے کہ اسے اپنی پارٹی کے سامنے سڑکوں کا معاملہ بنائیں، اور نہ حکومت کو چاہیے کہ اسے میڈیا میں بیانات تک محدود رکھے۔ دونوں کو ذمہ داری کے ساتھ بیٹھ کر حل نکالنا ہوگا۔ سیاست میں اختلاف ہوتا ہے، مگر حکومت اور اس کے ارکان کا مقصد بالآخر ایک ہوتا ہے … عوام کی بھلائی۔
اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ قیادت بھی اپنا فرض پورا کرے اور نمائندے بھی اپنے منصب کی سنجیدگی کو قائم رکھیں۔ ریزرویشن پالیسی پر ایک مضبوط، شفاف اور میرٹ پر مبنی فیصلہ ہی وہ راستہ ہے جس سے نہ صرف نوجوانوں کا اعتماد بحال ہوگا بلکہ سیاسی نظام کی ساکھ بھی مضبوط ہوگی۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

آئین قومی شناخت کی مقدس کتاب ہے :صدر مرمو

Next Post

…کچھ تو ہوا ہے !

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

عالمی یوم ماحولیات:کشمیر کہاں کھڑا ہے ؟

2026-06-06
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

کشمیر کی سیاسی جماعتیں سبق نہیں سیکھیں گی

2026-06-04
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

بات چیت ہی مسائل کا حل:

2026-06-03
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

عمر عبداللہ حکومت:

2026-06-02
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

حج انتظامات اور جموں و کشمیر :  آخر عازمین کے مسائل کب ختم ہوں گے؟

2026-05-31
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

عید الاضحیٰ، قربانی کے جانور اور حکومتی بے حسی

2026-05-30
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

عید الاضحی :آج کے دن بھی کچھ لوگ خوشیوں سے محروم ہیں!

2026-05-27
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

بڈگام کی بیٹی اور ہمارا زخمی معاشرہ

2026-05-26
Next Post
کانگریسی قیادت ‘ بھاجپا کیلئے اثاثہ

…کچھ تو ہوا ہے !

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.