غلطی آج کی نہیں ہے… آج تو اللہ میاں کی قسم کوئی غلطی ہوئی ہی نہیں ‘ کسی سے نہیں ہو ئی … کسی سے بھی نہیں … غلطی ہوئی ہے اور پہلے ہوئی ہے‘اُس وقت ہوئی ہے جب شری ماتا ویشنو دیوی میڈیکل کالیج کا قیام عمل میں لایا جارہا تھا… غلطی اُس وقت کی ہے… اُس ایکٹ میں ہوئی ہے جس کے تحت اس ادارے کا قیام عمل میں لایا گیا …کہ اس ایکٹ میں کہا گیا کہ اس ادارے سے کوئی بھی مستفید ہو سکتا ہے… بلالحاظ رنگ و نسل ‘ مذہب و ملت اور… اور اس ایکٹ کو اُس وقت سب نے خندہ پیشانی سے قبول بھی کیاتھا … انہوں نے بھی کیا … جی ہاں انہوں نے بھی اسے قبول کیا ‘ جنہیں آج یہ قبول نہیں ہے… بالکل بھی نہیں ہے کہ ادارے میں ۵۰ میں سے ۴۲ ؍ ایم بی بی ایس طلبا ایک مخصوص عقیدے سے ہوں … انہیں آج یہ قبول نہیں ہو رہا ہے… اس لئے یہ سڑکوں پر آ رہے ہیں ‘ شور کررہے ہیں… ان داخلوں کو منسوخ کرنے کا الٹی میٹم بھی دے رہے ہیں… ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے… اگر یہ چاہتے ہیں کہ ماتا ویشنو ویدی کے اس ادارے‘ جو خالص ماتا کے درشن کرنے والوں کے عطیہ سے بنا ہے… اگر یہ چاہتے ہیں کہ جن لوگوں‘ جس عقیدے کے لوگوں کے عطیے سے یہ ادارہ قائم ہوا ہے‘ صرف اُسی عقیدے کے طلباء ہی اس ادارے میں علم کے نور سے منور ہوں تو… تو ایسا ہی سہی… ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے… لیکن… لیکن ایک بات جوہماری سمجھ میں نہیں آ رہی ہے کہ ایسا کیا ہوا ہے جو انہیں اب اعتراض ہے… تب کیوں نہیں تھا جب انہوں نے بھی اس بات کوتسلیم کیا تھا کہ … کہ اس ادارے میں کسی بھی عقیدے سے تعلق رکھنے والے طلبا علم کے نور اور ہنر سے فیض یاب ہو سکتے ہیں… کچھ تو ضرور ہوا ہے جو انہیں آج وہ قبول نہیں جو انہیں کل تک قبول تھا… یقینا کچھ تو ہوا ہے… اور شاید یہ ہوا ہے کہ زمانہ بدل گیا ہے… زمانے کے ساتھ ساتھ جموں کشمیر بھی بدل گیا ہے اور… اور بدلاؤ کی اس کوکھ سے جس نئے جموںکشمیر نے جنم لیا ہے ‘اُس نئے جموںکشمیر میں شاید یہ قبول نہیں ہے… بالکل بھی نہیں ہے … وہ قبول نہیں ہے جو کل تک سب کو… جی ہاں سب کو قبول تھا ۔ ہے نا؟




