جمعرات, جون 4, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

پاکستان کی ۲۷ویں آئین ترمیم : طاقت ایک طرف، جمہوریت دوسری طرف

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2025-11-18
in اداریہ
A A
آگ سے متاثرین کی امداد
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

کشمیر کی سیاسی جماعتیں سبق نہیں سیکھیں گی

بات چیت ہی مسائل کا حل:

پاکستان کی سیاست آج جس مقام پر کھڑی ہے، وہاں جمہوریت کا لفظ صرف ایک کھوکھلا دعویٰ رہ گیا ہے، ایک ایسا نعرہ جس کی گونج تو سنائی دیتی ہے مگر اس کے پیچھے کوئی عملی حقیقت موجود نہیں۔
ہمسایہ ملک کے سیاسی ڈھانچے پر اگر ایک نظر ڈالی جائے تو واضح طور پر محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کبھی جڑیں ہی نہیں پکڑ پائی کیونکہ ہر سیاسی جماعت نے اسے اپنی ضرورت اور مفاد کے تابع رکھا۔ فوج کو کبھی ایک سہارے کے طور پر استعمال کیا گیا، کبھی ایک دھمکی کے طور پر، اور کبھی اقتدار کے شارٹ کٹ کے طور پر۔
آج جو صورتحال اس ملک میں پیدا ہو چکی ہے، وہ اسی تاریخی سودے بازیوں کا منطقی انجام ہے … ایک ایسا انجام جس میں فوج نہ صرف حکومت کے معاملات میں مداخلت کرتی ہے بلکہ ریاست اور سیاست دونوں کی سمت بھی اپنی مرضی سے طے کرتی ہے۔
اس پس منظر میں ۲۷ویں آئینی ترمیم محض ایک قانون نہیں بلکہ پورے سیاسی و آئینی ڈھانچے پر ایک کاری ضرب ہے۔ اس ترمیم نے فوجی سربراہ کو نہ صرف تاحیات اختیارات اور استثنیٰ دیا بلکہ اپنی طاقت کو وسیع کرنے کا وہ آئینی راستہ بھی کھول دیا جس سے سول بالادستی کی امید مکمل طور پر دم توڑتی دکھائی دیتی ہے۔
ایک ایسا ملک جہاں پچھلے پچھتر برس میں نصف سے زیادہ وقت فوجی حکمرانوں نے براہ راست حکومت کی ہو اور باقی عرصے میں پس پردہ کنٹرول رکھا ہو، وہاں اس ترمیم کو محض ’اصلاحات‘ کہنا عوام کی سوچ سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ اس اقدام نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان اب ہائبرڈ نظام سے بھی آگے نکل کر ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں ریاستی طاقت کا مرکز مکمل طور پر تبدیل ہو چکا ہے، اور یہ تبدیلی خوش آئند نہیں بلکہ ایک خطرے کی گھنٹی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان میں سیاسی طاقت کی یہ بے ربطی اور اداروں کی یہ کھینچا تانی ہمیشہ خود سیاسی جماعتوں کے ہاتھوں تقویت پاتی رہی۔ ہر جماعت نے جب موقع ملا اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل کی، ہر قیادت نے اپنی بقا اور اقتدار کیلئے غیر جمہوری سہارے تلاش کیے، اور ہر حکومت نے فوج کو وہ رعایتیں دیں جنہوں نے اسے وقت کے ساتھ ناقابلِ چیلنج قوت بنا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج فوج محض ایک ادارہ نہیں رہی بلکہ وہ قوت بن چکی ہے جو فیصلے سناتی ہے، حکمران منتخب کرتی ہے، سیاسی بیانیے بناتی ہے اور یہاں تک کہ عدلیہ کی سمت بھی متعین کرتی ہے۔
یہ منظرنامہ اگر پاکستان کے مقابل بھارت میں دیکھا جائے تو فرق نہ صرف واضح بلکہ حیران کن حد تک گہرا محسوس ہوتا ہے۔ دونوں ملک ایک ہی وقت میں آزاد ہوئے، دونوں نے جمہوری نظام اختیار کیا، دونوں نے ایک ہی طرح کے سماجی مسائل کا سامنا کیا۔ مگر بھارت نے اپنے تمام تر داخلی انتشار، مذہبی تناؤ اور سیاسی تقسیم کے باوجود ایک بنیادی اصول پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا … کہ ہر ادارہ اپنی آئینی حدود میں رہے گا۔
بھارتی فوج اس اصول کی سب سے بڑی مثال ہے۔ بھارت میں فوج ایک پروفیشنل ادارہ ہے جو کسی سیاسی جماعت کا آلہ کار نہیں، نہ کسی نے اسے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا، نہ اس نے سیاست میں مداخلت کا کبھی سوچا۔ بھارت میں یہ تصور بھی مضحکہ خیز لگتا ہے کہ کسی آرمی چیف کو تاحیات اختیارات دیے جائیں یا کسی فوجی سربراہ کو مقننہ کے ذریعے اپنی مرضی کے تحفظات فراہم کیے جائیں۔
یہی فرق دونوں ملکوں کی جمہوری سیمابیت کو ایک دوسرے کے مقابل رکھتا ہے۔ بھارت میں فوج قومی سلامتی کا ادارہ ہے، جبکہ پاکستان میں وہ قومی سلامتی کے ساتھ ساتھ قومی سیاست، قومی معیشت، عدالتی نظام اور پالیسی سازی کا سب سے بڑا محور بن چکی ہے۔ بھارت میں سیاستدان فوج کو نہیں چلاتے بلکہ فوج آئین کے مطابق چلتی ہے۔ پاکستان میں سیاستدان فوج کے محتاج ہیں اور فوج سیاستدانوں کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت کی جمہوریت وقت کے ساتھ مضبوط ہوتی گئی جبکہ پاکستان کی جمہوریت ہر نئی دہائی کے ساتھ مزید کمزور ہوتی چلی گئی۔
عدلیہ کے معاملے میں بھی دونوں ملکوں کا فرق بہت نمایاں ہے۔ پاکستان میں موجودہ صورتحال میں جس طرح نئی وفاقی آئینی عدالت بنائی گئی اور ججوں کے تبادلے کو انتظامی اختیار بنا دیا گیا، یہ سب ایک ایسے ڈھانچے کی طرف اشارہ کرتا ہے جہاں عدلیہ اب محض نظام کا ایک حصہ نہیں بلکہ ایک قابلِ استعمال پرزہ بنتی جا رہی ہے۔ دو ججوں کا فوری استعفیٰ، ان کا یہ کہنا کہ آئین اب وہ نہیں رہا جس کی انہوں نے حفاظت کی قسم کھائی تھی، اور عدلیہ کا حکومت کے زیرِ اثر آ جانا ‘ یہ سب ایک ایسے بحران کا پتہ دیتے ہیں جو مستقبل میں مزید گہرا ہو سکتا ہے۔ بھارت میں بھی تنقید ہوتی ہے، مگر عدلیہ وہاں آج بھی ایک علیحدہ اور مضبوط ستون ہے جو حکومت کو چیلنج کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔
پاکستان کے موجودہ حالات یہ بتا رہے ہیں کہ اختیارات ایک بار پھر مکمل طور پر ایک ہی ادارے کے ہاتھ میں جمع ہو رہے ہیں۔ ۲۷ویں آئینی ترمیم اسی عمل کی ایک واضح علامت ہے۔ اس سے سیاسی عمل مزید محدود ہو گا، عدالتی آزادی پر قدغن بڑھے گی، اور پارلیمنٹ اپنی حیثیت کھوتی جائے گی۔ یہ وہ راستہ ہے جس کے اختتام پر جمہوریت نہیں بلکہ ایک ایسا نظام کھڑا ہوتا ہے جس میں منتخب نمائندے صرف چہرے ہوتے ہیں، اصل طاقت کہیں اور ہوتی ہے۔
بھارت میں اس کے برعکس جمہوریت نہ صرف قائم ہے بلکہ اس کا ڈھانچہ مضبوط بھی ہوتا جا رہا ہے۔ بھارت کی سیاست نے کبھی فوج سے اقتدار کی بھیک نہیں مانگی، مگر پاکستان کی سیاست نے ہمیشہ فوج کو اپنے کندھے کے طور پر استعمال کیا۔ آج نتیجہ سب کے سامنے ہے: بھارت آگے بڑھ رہا ہے، ادارے مضبوط ہو رہے ہیں، جبکہ پاکستان ادارہ جاتی انہدام کی جانب چل رہا ہے۔
بھارت نے فوج کو غیر سیاسی رکھا، پاکستان نے اسے سیاسی طاقت کا ستون بنا دیا۔ اور یہی وہ بنیاد ہے جس نے دونوں ملکوں کے راستے ہمیشہ کیلئے الگ کر دیے ہیں۔ ۲۷ویں آئینی ترمیم صرف ایک اور یاد دہانی ہے کہ پاکستان کس طرف جا رہا ہے … اور یہ راستہ جمہوریت کا راستہ نہیں۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

روح اللہ اور عمرعبداللہ

Next Post

آسٹریلوی حکومت کی افغان طالبان حکومت پر نئی پابندیوں کی تجاویز

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

کشمیر کی سیاسی جماعتیں سبق نہیں سیکھیں گی

2026-06-04
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

بات چیت ہی مسائل کا حل:

2026-06-03
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

عمر عبداللہ حکومت:

2026-06-02
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

حج انتظامات اور جموں و کشمیر :  آخر عازمین کے مسائل کب ختم ہوں گے؟

2026-05-31
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

عید الاضحیٰ، قربانی کے جانور اور حکومتی بے حسی

2026-05-30
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

عید الاضحی :آج کے دن بھی کچھ لوگ خوشیوں سے محروم ہیں!

2026-05-27
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

بڈگام کی بیٹی اور ہمارا زخمی معاشرہ

2026-05-26
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

قربانی کے جانوروں کی من مانی قیمتیں

2026-05-24
Next Post

آسٹریلوی حکومت کی افغان طالبان حکومت پر نئی پابندیوں کی تجاویز

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.