جمعہ, جون 5, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

جموںکشمیر کی توانائی میں خود کفالت کی طرف پیش قدمی

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2025-11-08
in اداریہ
A A
آگ سے متاثرین کی امداد
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

کشمیر کی سیاسی جماعتیں سبق نہیں سیکھیں گی

بات چیت ہی مسائل کا حل:

کشمیر کے پہاڑوں پر برف کی پہلی تہہ اترتے ہی بجلی کا مسئلہ ایک بار پھر سرِ عام بحث کا موضوع بن جاتا ہے۔ ہر سال کی طرح اس بار بھی سردی کے آغاز کے ساتھ ہی بجلی کی مانگ میں تیزی سے اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔
سرکاری اعدادوشمار کے مطابق، وادی میں بجلی کی کھپت میں اس وقت کم از کم ۴۰۰ میگاواٹ کا اضافہ ریکارڈ کیا جا چکا ہے، اور جیسے جیسے درجہ حرارت مزید نیچے گرے گا، یہ طلب کئی گنا بڑھنے کا امکان ہے۔ دوسری طرف، دریاؤں میں پانی کی سطح سردیوں میں نمایاں طور پر گر جاتی ہے، جس سے پن بجلی گھروں کی پیداوار گھٹ جاتی ہے۔ نتیجتاً، بجلی کی مانگ اور رسد میں فرق بڑھتا ہے، اور یہی فرق ہر گھر، ہر محلے اور ہر کاروبار کے لیے اذیت بن جاتا ہے۔
یہ صورتِ حال نئی نہیں۔ برسوں سے کشمیر کے عوام موسمِ سرما میں بجلی کی کٹوتیوں، غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ اور تاریکی کے عذاب سے دوچار ہوتے آئے ہیں۔ گھروں میں ہیٹنگ کے آلات، ہسپتالوں کے نظام، تعلیمی اداروں کے فرائض، حتیٰ کہ معمولاتِ زندگی بھی اس بحران سے بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے ہر سال وعدے کیے جاتے ہیں کہ صورتحال بہتر ہوگی، مگر مسئلہ جوں کا توں رہتا ہے۔ ایسے میں حالیہ رپورٹ جس میں بتایا گیا ہے کہ آئندہ دس برسوں میں جموں و کشمیر کی بجلی پیداوار تین گنا ہونے جا رہی ہے، بلاشبہ ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔ تاہم اس خوشی کے ساتھ ایک ذمہ داری بھی جڑی ہے…ان منصوبوں کو وقت پر مکمل کرنا اور ان کے فوائد سب سے پہلے جموں و کشمیر کے عوام تک پہنچانا۔
فی الحال وادی میں بجلی کی کل پیداواری صلاحیت تقریباً ۳۵۴۰میگاواٹ ہے، جس میں سب سے بڑا حصہ مرکزی حکومت کے ادارے این ایچ پی سی کے پاس ہے۔ این ایچ پی سی کے منصوبے جیسے سلال، اْوڑی، اور دْلہستی، مجموعی طور پر۲۲۵۰ میگاواٹ پیدا کرتے ہیں۔ ریاستی سطح پر جموں و کشمیر اسٹیٹ پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن (جے کے ایس پی ڈی سی) کے منصوبے تقریباً۱۲۰۰ میگاواٹ بجلی فراہم کرتے ہیں، جن میں بگلیہار کے دونوں مرحلے نمایاں ہیں۔ نجی شعبہ محض ۹۰ میگاواٹ کے قریب بجلی پیدا کر رہا ہے۔ اس توازن سے صاف ظاہر ہے کہ توانائی کے شعبے میں مرکزی اداروں کی اجارہ داری اب بھی برقرار ہے، جبکہ مقامی اداروں کو ابھی طویل سفر طے کرنا ہے۔
اس وقت تقریباً ۳۰۰۰ میگاواٹ کے منصوبے زیرِ تعمیر ہیں۔ ان میں پکل دل، کیرو، کوار اور رتلے جیسے بڑے منصوبے شامل ہیں جو آئندہ دو سے تین برسوں میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔ صرف پکل دل اور کیرو ہی ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگر یہ منصوبے وقت پر مکمل ہو گئے تو وادی کے توانائی بحران میں واضح کمی آسکتی ہے۔ لیکن یہ ’اگر‘ سب سے بڑا سوال ہے۔ ماضی میں کئی منصوبے مالی، ماحولیاتی یا انتظامی رکاوٹوں کے سبب برسوں تاخیر کا شکار رہے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ موجودہ حکومت اور متعلقہ ادارے اس بار وقت کی قید سے ماورا نہ ہوں۔
آئندہ مرحلے میں۴۵۰۰ میگاواٹ کے منصوبے منصوبہ بندی کے مرحلے میں ہیں، جن میں ساؤلاکوٹ (۱۸۵۶ میگاواٹ)، کرتھائی دوم (۹۳۰میگاواٹ)، برسار (۸۰۰ میگاواٹ) اور اْجھ ملٹی پرپز پروجیکٹ شامل ہیں۔ یہ وہ منصوبے ہیں جو جموں و کشمیر کے توانائی نقشے کو یکسر بدل سکتے ہیں۔ برسار پروجیکٹ خصوصاً اس لیے اہم ہے کہ یہ نہ صرف بجلی بلکہ پانی کے ذخیرے اور آبپاشی کے نظام کو بھی سہارا دے گا۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ اتنے بڑے منصوبے ماحولیاتی توازن پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ دریائے چناب کے نازک ماحولیاتی نظام پر دباؤ بڑھے گا، اور مقامی آبادی کے نقل مکانی کے خدشات بھی موجود ہیں۔ ترقی کی رفتار برقرار رکھتے ہوئے ماحول کی حفاظت ایک مشکل لیکن ناگزیر توازن ہے۔
یہ تمام منصوبے اگر طے شدہ رفتار سے آگے بڑھے تو جموں و کشمیر اگلے عشرے میں توانائی کے معاملے میں خود کفیل ہو سکتا ہے۔ خود کفالت کا مطلب صرف بجلی پیدا کرنا نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ اس پیداوار کا زیادہ حصہ مقامی استعمال میں آئے۔ فی الوقت جموںکشمیر میں بننے والی بجلی کا بڑا حصہ نیشنل گرڈ میں چلا جاتا ہے، اور لوگ مہنگے داموں بجلی واپس خریدنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ جب تک جموں و کشمیر اپنی پیدا کردہ بجلی پر خود اختیار حاصل نہیں کرے گا، تب تک توانائی خود کفالت ایک خواب ہی رہے گا۔
ایک اور پہلو جس پر توجہ دینا ضروری ہے وہ ہے مقامی افرادی قوت کا استعمال۔ ان منصوبوں پر اربوں روپے خرچ ہو رہے ہیں، مگر اس میں مقامی نوجوانوں کو روزگار کے مواقع محدود ملتے ہیں۔ اگر حکومت اس شعبے کو ریاستی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی بنانا چاہتی ہے، تو اسے ہنرمند افرادی قوت تیار کرنے، مقامی کنٹریکٹروں کو موقع دینے اور شفاف پالیسی کے ذریعے سرمایہ کاری کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔
بجلی کی پیداوار میں اضافہ یقیناً ترقی کی علامت ہے، لیکن عوامی ریلیف کے بغیر اس کا کوئی حقیقی فائدہ نہیں۔ اگر اگلے دو برسوں میں زیرِ تعمیر منصوبے مکمل ہو جائیں تو کم از کم سردیوں میں بجلی کی قلت کے عذاب میں کمی آسکتی ہے۔ لیکن اس کے لیے حکومت کو ہنگامی بنیادوں پر ایک متوازن حکمتِ عملی اپنانی ہوگی … مختصر مدت میں لوڈ مینجمنٹ بہتر بنانا، درمیانی مدت میں نئے پلانٹس فعال کرنا، اور طویل مدت میں خود کفالت کا ہدف حاصل کرنا۔
جموںکشمیر کی برف پوش وادیوں میں روشنی کی امید موجود ہے، لیکن یہ امید تبھی حقیقت کا روپ دھارے گی جب منصوبوں کی تکمیل صرف کاغذوں میں نہیں بلکہ زمینی سطح پر ہوگی۔ بجلی کی پیداوار میں تین گنا اضافہ یقیناً ایک قابلِ فخر ہدف ہے، مگر اس ہدف تک پہنچنے کے لیے عزم، شفافیت اور تسلسل لازمی ہے۔
آخر میں ایک سادہ مگر بنیادی سوال باقی رہتا ہے:کیا وہ دن جلد آئے گا جب کشمیر کے گھروں میں روشنی مسلسل رہے گی، نہ کہ وعدوں کے وقفے وقفے سے؟یہ سوال ہی دراصل اس پورے منصوبے کا اصل امتحان ہے۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

پندرہ سال کے جنگل راج کا رپورٹ کارڈ ”شونیہ بٹا سناٹا”: نریندر مودی

Next Post

نگروٹہ‘ بڈگام اور وزیر اعلیٰ

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

کشمیر کی سیاسی جماعتیں سبق نہیں سیکھیں گی

2026-06-04
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

بات چیت ہی مسائل کا حل:

2026-06-03
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

عمر عبداللہ حکومت:

2026-06-02
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

حج انتظامات اور جموں و کشمیر :  آخر عازمین کے مسائل کب ختم ہوں گے؟

2026-05-31
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

عید الاضحیٰ، قربانی کے جانور اور حکومتی بے حسی

2026-05-30
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

عید الاضحی :آج کے دن بھی کچھ لوگ خوشیوں سے محروم ہیں!

2026-05-27
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

بڈگام کی بیٹی اور ہمارا زخمی معاشرہ

2026-05-26
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

قربانی کے جانوروں کی من مانی قیمتیں

2026-05-24
Next Post
کانگریسی قیادت ‘ بھاجپا کیلئے اثاثہ

نگروٹہ‘ بڈگام اور وزیر اعلیٰ

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.