کشمیر میں جعلی صحافت کا پھیلاؤ محض چند خودساختہ ’’صحافیوں‘‘ کی کارستانی نہیں، بلکہ یہ اس مجموعی سماجی اور ادارہ جاتی کمزوری کا نتیجہ ہے جس نے خاموشی سے اس رجحان کو پروان چڑھنے دیا۔
اطلاعات و تعلقات عامہ کے محکمہ (ڈی آئی پی آر) کی تازہ ہدایات یقیناً قابلِ ستائش ہیں، مگر اگر مسئلے کی جڑ کو دیکھا جائے تو قصور صرف ان جعلی نام نہاد صحافیوں کا نہیں، بلکہ اس پورے ماحول کا ہے جو ان کے وجود کو نہ صرف برداشت کرتا ہے بلکہ بعض اوقات ان کی حوصلہ افزائی بھی کرتا ہے۔
گزشتہ چند برسوں میں کشمیر میں ’’میڈیا‘‘ کا نام لے کر ذاتی مفادات حاصل کرنے، بلیک میلنگ، دھونس اور بدنامی کی خبریں معمول بن گئی ہیں۔ کچھ افراد نے صحافت کو خدمت نہیں بلکہ کاروبار اور دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے۔ حیرت اس بات پر ہے کہ ایسے عناصر صرف گلی کوچوں یا سوشل میڈیا تک محدود نہیں رہے، بلکہ سرکاری دفاتر، پولیس اسٹیشنوں اور سیاسی تقریبات میں بھی ان کی رسائی موجود رہی۔ سوال یہ ہے کہ ان کیلئے دروازے کس نے کھولے؟
یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ کئی سرکاری اہلکار، بیوروکریٹس اور حتیٰ کہ سیاسی رہنما بھی ان جعلی صحافیوں سے مراسم رکھتے ہیں۔ کسی تقریب کی کوریج کے نام پر ان کی دعوت، تصویری نمائش، یا چھوٹے موٹے ’’تحائف‘‘ کے بدلے میں ان کے ساتھ خوش اخلاقی کا مظاہرہ، دراصل ان کو قانونی حیثیت دینے کے مترادف ہے۔ یوں سمجھ لیجیے کہ معاشرہ خود اپنے ہاتھوں سے ان جعلی چہروں کو سندِ صحافت عطا کر رہا ہے۔
یہی وہ کمزوری ہے جس کا فائدہ اٹھا کر چند بے اصول افراد نے پورے میڈیا پیشے کی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔ جعلی پریس کارڈ، غیر رجسٹرڈ نیوز پورٹل، اور غیر تصدیق شدہ یوٹیوب چینلوں نے نہ صرف عوام کو گمراہ کیا بلکہ حقیقی صحافیوں کی محنت اور سچائی پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا۔ افسوس یہ ہے کہ بعض ادارے بھی ان عناصر کے ساتھ تصاویر کھنچوانے اور انہیں’میڈیا نمائندہ‘ کے طور پر پیش کرنے میں شرم محسوس نہیں کرتے۔
یہ صورتحال صرف صحافت کے وقار کے لیے نہیں بلکہ جمہوری اداروں کے لیے بھی خطرناک ہے۔ جب عوام کو یہ احساس ہونے لگے کہ ہر مائیک اٹھانے والا شخص’خبری سچ‘ کا دعویدار بن سکتا ہے، تو اعتماد کا رشتہ ٹوٹنے لگتا ہے۔ میڈیا کی ساکھ گرنے سے عوام اور حکومت کے درمیان موجود شفافیت کی فضا متاثر ہوتی ہے۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں جعلی صحافت دراصل بدعنوانی، افواہ سازی اور سیاسی مفاد پرستی کے لیے راہ ہموار کرتی ہے۔
ڈی آئی پی آر کا تازہ حکم نامہ اس لحاظ سے ایک سنگ میل ہے کہ اس میں پہلی بار ضلعی سطح پر تصدیق، احتساب اور نگرانی کا نظام متعارف کرانے کی بات کی گئی ہے۔ لیکن یہ حکم تب ہی کارگر ہوگا جب سرکاری افسران خود اس پر دیانت داری سے عمل کریں۔ صرف فہرستیں بنانا کافی نہیں؛ انہیں اپ ڈیٹ رکھنا، مشتبہ افراد کی نشاندہی کرنا، اور جعلی صحافیوں کے ساتھ کسی بھی قسم کے سرکاری یا ذاتی تعلق سے اجتناب برتنا اصل امتحان ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ریاست اس عمل کو وقتی ردِعمل کے بجائے ایک مسلسل اصلاحی عمل کے طور پر اپنائے۔ پولیس، انتظامیہ اور میڈیا اداروں کے درمیان مضبوط رابطہ ہونا چاہیے تاکہ کوئی بھی شخص جعلی شناخت کے ساتھ نظام کا حصہ نہ بن سکے۔ میڈیا اداروں کو بھی اپنی صفوں میں تطہیر کرنی ہوگی۔ وہ نمائندے، فری لانسر یا اسٹرنگرز جو صحافتی اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہیں، ان کے خلاف سخت کارروائی ناگزیر ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس ہونا چاہیے۔ کسی خبر، ویڈیو یا سوشل میڈیا پوسٹ پر اندھا دھند یقین کرنے سے پہلے اس کے ماخذ کو پرکھنا لازمی ہے۔ اگر سماج خود جعلی خبروں اور نام نہاد صحافت کو سنجیدگی سے نہ لے تو قانون بھی بے بس ہو جاتا ہے۔
صحافت ایک مقدس پیشہ ہے، اس کا مقصد طاقت کے مراکز کو جواب دہ بنانا اور عوام کی آواز بننا ہے۔ لیکن جب یہی طاقت غلط ہاتھوں میں چلی جائے تو وہ معاشرتی زہر بن جاتی ہے۔ کشمیر کے تناظر میں یہ زہر تیزی سے پھیل رہا ہے اور اگر اس کا بروقت علاج نہ کیا گیا تو نقصان صرف میڈیا کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا ہوگا۔
حکومت، میڈیا اداروں اور عوام، تینوں کو مل کر یہ طے کرنا ہوگا کہ جعلی صحافت کے خلاف اب کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ ایسے افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی، ان کے جعلی سرٹیفیکیٹس کی منسوخی، اور ان کے خلاف عوامی سطح پر بائیکاٹ ہی وہ راستہ ہے جو اس ناسور کو ختم کر سکتا ہے۔ مزید یہ کہ صحافتی تنظیموں کو بھی خوداحتسابی کا نظام مضبوط کرنا ہوگا۔ صرف بیانات دینے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا؛ عملی اقدامات، شفاف ضوابط، اور نئی بھرتیوں میں تصدیق کے سخت معیارات ضروری ہیں۔
ساتھ ہی حکومت کو چاہیے کہ حقیقی صحافیوں کے لیے ایک مرکزی رجسٹری تشکیل دے جس سے تصدیق کا عمل خودکار ہو جائے۔ ایسے پلیٹ فارم نہ صرف جعلی عناصر کو بے نقاب کریں گے بلکہ قابل اور دیانتدار صحافیوں کو ان کے پیشہ ورانہ وقار کی وہ جگہ واپس دلائیں گے جس کے وہ مستحق ہیں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ’پریس کارڈ‘ کی چمک سے مرعوب ہونے کے بجائے اصل سچائی کی پہچان کریں۔ اگر ہم نے اب بھی خاموشی اختیار کی، تو آنے والے وقت میں سچ بولنے والے بھی مشکوک سمجھے جائیں گے… اور یہی صحافت کی سب سے بڑی موت ہوگی۔





