تو اپنے سجاد صاحب… سجاد غنی لون صاحب پھر سے خود کو دودھ میں دھلا ثابت کرنے نکلے ہیں… اور انہیں لگتا ہے … یا کسی نے انہیں کہا ہے کہ جناب کسی دوسرے کو گناہ گار ثابت کرنے سے آپ خود بخود دودھ میں دھلے ثابت ہو جائیں گے اور… اور کمال کی بات یہ ہے کہ سجاد صاحب اس بات کو مان گئے ہیں اور… اور اسی بات کو مان کر چلے ہیں… اس لئے یہ نیشنل کانفرنس کو مجرم کے کٹہرے میں کھڑا کررہے ہیں… یا کھڑا کرنے کی کوشش کررہے ہیں… ان کی نیت یہ نہیں ہے کہ حکمران جماعت کو قوم کے سامنے ننگا کیا جائے… بلکہ ان کا ارادہ یہ ہے کہ خود کو قوم کے سامنے معصوم عن الخطا کے طور پیش کریں… بات صرف حالیہ راجیہ سبھا الیکشن کی نہیں ہے… بلکہ سجاد صاحب حکمران جماعت کو بات بات اور ہر بات پر کٹہرے میں کھڑا کررہے ہیں… کریں شوق سے کریں کہ …کہ سجاد صاحب اپوزیشن لیڈر ہیں ‘اس لئے یہ ان کا حق ہے اور ذمہ داری بھی … لیکن… لیکن لوگ … کشمیر کے لوگ جانتے ہیں… سب کچھ جانتے ہیں اور سب کے بارے میں بھی جانتے ہیں… حکمران جماعت اور پی ڈی پی کے ساتھ ساتھ سجاد صاحب آپ کے بارے میں بھی قوم سب کچھ جانتی ہے … اسی لئے تو کہتے ہیں کہ… کہ یہ جو پبلک ہے سب جانتی ہے‘ اندر کیا ہے ‘باہر کیا ہے سب پہچانتی ہے ۔راجیہ سبھا الیکشن … جو الیکشن کم اور معمہ زیادہ لگنے لگا ہے… میں کس نے کیا رول ادا کیا … کون مجرم ہے اور کس نے جرم کا ارتکاب کیا ہے… سب کو معلوم ہے… لوگ باخبر ہیں کہ اگر پی ڈی پی نے این سی کو ووٹ دیا تو اس کے پیچھے کا کھیل کیا تھا … اگر این سی نے کانگریس کو چوتھی سیٹ کی پیش کش کی تھی تو اس کا گیم پلان کیا تھا… اگر سجاد صاحب آپ نے ووٹنگ سے دوری اختیار کی تو… تو آپ نے ایسا کیوں کیا… یہ سب کچھ اگر ابھی سامنے نہیں آیا ہے تو… تو آجکل میں آ ہی جائیگا … لوگ جان ہی جائیں گے …کہ… کہ وہ بار بار غلطی کررہے ہیں… کشمیر کے ساستدانوں پر بھروسہ اور اعتبار کرنے کی غلطی … اب کی بار بھی ان سے یہ غلطی ہو ئی ہے… اور اس کی وہ سزا بھی اٹھا رہے ہیں… اور اٹھائیں گے بھی کہ… کہ کشمیر کی سیاسی جماعتیں بار بار خود یہ ثابت کررہی ہیں کہ وہ بھروسے کے قابل نہیں ہیں سبھی جماعتیں اور سیاستدان… اور ہاں سجاد صاحب آپ بھی نہیں ۔ ہے نا؟



