اقوام متحدہ میں بھارت کے مستقل مندوب پارتھ ویننی ہریش کی حالیہ تقریر نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا ہے کہ نئی دہلی اب پاکستان کے بارے میں نرم رویہ اپنانے کے موڈ میں نہیں۔ انہوں نے اس عالمی پلیٹ فارم پر جو بات کہی، وہ محض سفارتی بیان نہیں تھی بلکہ ایک اصولی مؤقف کا اعادہ تھا کہ جموں و کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے، رہا ہے اور ہمیشہ رہے گا۔
ہریش کی تقریر میں دو رخ نمایاں تھے: ایک، پاکستان کی سیاسی و معاشرتی ساخت پر ایک براہِ راست تبصرہ؛ اور دوسرا، عالمی اداروں کی اصلاح کے لیے بھارت کی سنجیدہ اپیل۔ ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت اور بنیادی حقوق جیسے تصورات پاکستان کے لیے ’غیر مانوس‘ ہیں۔ اس ایک جملے میں پورا سیاسی مقدمہ سمٹ آیا … ایک ایسا ملک جو خود اپنے عوام کو شہری آزادی نہیں دے سکا، وہ دوسرے ملکوں کے انسانی حقوق پر درس دینے کا کیا حق رکھتا ہے؟
یہ حقیقت اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ پاکستان میں جمہوریت کا ڈھانچہ بار بار فوجی مداخلت کے بوجھ تلے دب جاتا ہے۔ کبھی وردی میں کوئی’نجات دہندہ‘ آتا ہے، کبھی پسِ پردہ رہ کر طاقت کے ڈوریں کھینچتا ہے۔ سیاست دان اقتدار میں آتے ہیں، مگر پالیسی وہی بنتی ہے جو راولپنڈی طے کرتا ہے۔
بھارت کا یہ کہنا کہ جمہوریت پاکستان کے لیے ’ایک اجنبی تصور‘ ہے، محض طعنہ نہیں بلکہ تاریخی سچائی کا بیان ہے۔
اندرونی سطح پر بھی پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال تشویشناک ہے۔ بلوچستان، گلگت بلتستان اور پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر میں آزادی اظہار پر کڑی پابندیاں ہیں۔ سیاسی کارکن، صحافی اور انسانی حقوق کے علمبردار آئے روز غائب کیے جاتے ہیں۔ ایسے میں بھارت کا مطالبہ کہ پاکستان اپنی ’غیر قانونی قبضے‘ والے علاقوں میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ختم کرے، بجا اور حقیقت پر مبنی ہے۔
بھارتی مندوب نے اقوام متحدہ میں جس ’کھلے بغاوتی ماحول‘ کی بات کی، وہ بھی محض سفارتی لفاظی نہیں۔ آزاد ذرائع کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ پاکستان کے زیرِ انتظام علاقوں میں لوگ ریاستی جبر کے خلاف اب کھل کر آواز اٹھا رہے ہیں۔ وہاں کے باسی اپنی زمینوں پر فوجی قبضے، وسائل کے استحصال اور سیاسی بے دخلی سے تنگ آ چکے ہیں۔
اس بغاوت کو خاموش کرنے کے لیے پاکستان کی فوج اور خفیہ ادارے سختی سے پیش آتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ عام شہری خوف اور مایوسی کے دائرے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
بھارت نے درست نشان دہی کی ہے کہ ان علاقوں کے عوام کسی ’آزادی‘کے لیے نہیں بلکہ ’قبضے کے خاتمے‘ کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں۔ یہاں کا مسئلہ انسانی حقوق کا ہے، نہ کہ جغرافیائی دعوؤں کا۔
بھارت کا یہ دوٹوک مؤقف کہ جموں و کشمیر بھارت کا حصہ ہے، اب عالمی سطح پر بھی مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔۲۰۱۹ میں آرٹیکل ۳۷۰ کی منسوخی کے بعد کئی ممالک نے اس معاملے کو بھارت کا اندرونی معاملہ تسلیم کیا۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کی جانب سے ہر بار کشمیر کا ذکر اب ایک رسمی مشق بن چکا ہے‘ جس پر زیادہ تر ممالک خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔
اس کے برعکس بھارت کی شفاف جمہوری روایت، عوامی شرکت، اور آئینی نظام اس کی ساکھ کو مضبوط کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بھارتی مندوب نے فخر سے کہا کہ ’’جموں و کشمیر کے عوام اپنے بنیادی حقوق بھارت کی آزمودہ جمہوری روایت اور آئینی ڈھانچے کے مطابق استعمال کرتے ہیں‘‘۔
یہ بات دراصل ایک آئینی برتری کا اعلان تھی … ایک ایسا پیغام جو پاکستان کی ناکامیوں پر روشنی ڈالتا ہے۔ بھارت نے جمہوریت کو اپنی کمزوری نہیں بلکہ طاقت کے طور پر پیش کیا ہے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں دونوں ممالک کے راستے بالکل جدا ہو جاتے ہیں۔
پاکستان کے لیے یہ ایک سبق بھی ہے کہ بین الاقوامی احترام طاقت سے نہیں بلکہ اصولوں اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل سے حاصل ہوتا ہے۔ بھارت نے اپنے کردار سے یہ ثابت کیا ہے کہ اصولوں پر مبنی خارجہ پالیسی طویل المدت اعتبار پیدا کرتی ہے۔
اگرچہ بھارت کی تقریر کا لہجہ واضح طور پر تنقیدی تھا، مگر اس کے اندر ایک غیر علانیہ پیغام بھی چھپا ہے کہ خطے کا مستقبل دشمنی میں نہیں بلکہ ذمہ داری میں ہے۔ پاکستان اگر واقعی اپنے عوام کے مفاد کو مقدم رکھنا چاہتا ہے تو اسے دوسروں کے معاملات میں مداخلت کے بجائے اپنی سرزمین پر جمہوریت، شفافیت اور انسانی حقوق کی بنیاد مضبوط کرنی ہوگی۔
بھارت نے اقوام متحدہ میں جو زبان اختیار کی، وہ سفارتکاری کے ساتھ ساتھ آئینہ بھی تھی۔ ایک ایسا آئینہ جس میں پاکستان کو اپنا چہرہ دیکھنے کی ہمت کرنی ہوگی۔
اختتامی نوٹ
دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔نئے چیلنجز‘ موسمیاتی تبدیلی، دہشت گردی، معیشت اور ٹیکنالوجی ‘ کسی ایک ملک کے بس کی بات نہیں۔ ایسے میں اقوام متحدہ جیسے ادارے کو بھی بدلنا ہوگا۔
پاکستان کے لیے اب وقت ہے کہ وہ یہ سمجھ لے کہ عالمی سطح پر محض کشمیر کارڈ کھیلنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ عزت، اعتماد اور شمولیت صرف اسی ملک کو ملتی ہے جو اپنے گھر کے اندر انصاف، آزادی اور جمہوری اقدار کی بنیاد مستحکم کرتا ہے۔





