صاحب ہم نے پہلے بھی کہا تھا اور آج دہرا رہے ہیں کہ ٹرمپ صاحب کو آپ ۸۰ سال بوڑھا نہیں بلکہ ۸۰ سالہ بچہ سمجھ لیجئے … جو چھوٹی چھوٹی باتوں پر روٹھ جاتا ہے… رونا اٹھاتا ہے اور… اور لالی پاپ دکھانے پر خوش بھی ہو تا ہے…نوبل امن انعام کا لالی پاپ…اپنے ٹرمپ صاحب بھی ایسے ہی ہیں … سو فیصد ایسے ۔جانتے ہوتے ہیں کہ سامنے والا ان کی خوشامد کررہا ہے… اس کے دل میں کچھ اور زبان پر کچھ اور ہے‘ لیکن پھر بھی ٹرمپ صاحب اپنی شان میں اس کے کہے ہو ئے الفاظ پر ناچ اٹھتے ہیں… جھوم اٹھتے ہیں… نہیں صاحب یہ ان کی کوئی ادا کاری نہیں ہوتی ہے… بالکل بھی نہیں ہو تی ہے… اللہ میاں نے انہیں کچھ ایسی مٹی سے بنایا ہے کہ شاید وہ مٹی کسی دوسرے شخص کو بنانے میں استعمال نہیں کی ہے… اسی لئے تو ہم کہہ رہے ہیں دنیا میں ٹرمپ صرف ایک ہی ہو سکتا ہے… دوسرا نہیں …سنگل پیس ۔ خیر ! تو آجکل ٹرمپ صاحب کاہنی مون چل رہا ہے… ان کا سر کڑھائی اور پانچوں نے بلکہ ہاتھ پیر کی تمام بیس کی بیس انگلیاں گھئی میں ہیں … کہ جسے دیکھئے وہ ان کے گن گا رہا ہے… غزہ میں حماس اور اسرائیل میں ممکنہ جنگ بندی کیلئے ان کی تعریف کررہا ہے… ایسی تعریف جسے سن کر ٹرمپ صاحب اندر ہی اندر نہیں بلکہ باہر سے بھی خوش ہو رہے ہیں… یہ خوشی سے ساتویں آسمان پر پر واز کررہے ہیں…خوشی کے اس موقع پر ہم ایسی ویسی کوئی بات نہیں کرنا چاہتے ہیں… بالکل بھی نہیں کرنا چاہتے ہیں… لیکن … لیکن ایک بات… صرف ایک تو ضرور کریں گے… کہ… کہ اگر غزہ میں جنگ بندی ہو ئی اور وہاں کی تعمیر نو کا کام بھی شروع ہو جائیگا اور…ایک دن ایسا بھی آئے گا جب غزہ پہلے سے بھی زیادہ خوبصورت اور خوشحال بن جائیگا … جہاں امن اور خوشحالی ہو… لیکن… لیکن صاحب ان ۶۷ ہزار لوگوں کا کیا… معصوم لوگوں کا کیا جو گزشتہ دو برسوں میں مارے گئے… جن کا لہو بہایا گیا …جن کی نسل کشی کی گئی … کسی کو تو اس کیلئے جواب دہ ٹھہرایا جانا چاہئے کہ … کہ اگر ایک پلا بھی مر جائے تو… تو ہاہا کار مچ جاتی ہے …یہاں تو بات ۶۷ ہزار لوگوں کی… معصوم بچوں اور خواتین کی ہے… صاحب اس کا حساب تو لیا جانا چاہئے نا … لیکن ٹرمپ صاحب اتنے خوش ہیں کہ وہ یہ بھول گئے ہیں… یا بھولنا چاہتے ہیں کہ غزہ میں جس امن کیلئے وہ کوشاں ہیں کیا وہ ۶۷ ہزار لوگوں کی لاشوں پر بن سکتا ہے ؟… ہے نا؟



