چار راجیہ سبھا کی نشستوں کیلئے ہونے والے انتخابات نے نہ صرف کانگریس اور نیشنل کانفرنس (این سی) کے باہمی تعلقات پر سوال کھڑے کر دیے ہیں بلکہ ’انڈیا بلاک‘ کی اندرونی ہم آہنگی پر بھی سایہ ڈال دیا ہے۔
جموں کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر، طارق حمید قرہ نے جو خدشہ ظاہر کیا ہے کہ نیشنل کانفرنس شاید انڈیا بلاک سے الگ ہونے پر غور کر رہی ہے، وہ محض انتخابی شکوہ نہیں بلکہ ایک وسیع سیاسی بیاعتمادی کی علامت ہے۔ این سی کی جانب سے کانگریس کو ایک محفوظ نشست دینے سے انکار نے اس تاثر کو مزید گہرا کیا ہے کہ پارٹی اپنے اتحادیوں سے زیادہ اپنی عددی برتری اور مفاد کو ترجیح دے رہی ہے۔
قرہ کے بیانات اس لحاظ سے اہم ہیں کہ وہ خود ایک تجربہ کار سیاست دان اور سابق پارلیمانی رکن ہیں، جنہیں اتحادوں کی نزاکت اور توازن کا بخوبی ادراک ہے۔ ان کے مطابق، کانگریس کو مرکزی قیادت کی سطح پر یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ اسے ایک محفوظ نشست دی جائے گی، لیکن جب عملی تقسیم کا وقت آیا تو این سی نے اپنے وعدے سے انحراف کیا۔ قرہ نے اگرچہ اسے ’’غداری‘‘ نہیں کہا، مگر یہ تسلیم کیا کہ ’’اعتماد کو زک پہنچی ہے‘‘۔ سیاست میں اعتماد ہی سب کچھ ہوتا ہے۔ جب یہ ٹوٹ جائے، تو اتحاد صرف کاغذ پر باقی رہ جاتا ہے۔
دوسری طرف، نیشنل کانفرنس کے رویے نے یہ تاثر ضرور پیدا کیا ہے کہ وہ انڈیا بلاک کے اندر اپنے کردار پر دوبارہ سوچ بچار کر رہی ہے۔ ممکن ہے کہ این سی یہ سمجھتی ہو کہ مقامی سطح پر اپنی خودمختاری اور برتری قائم رکھنے کے لیے کانگریس سے فاصلہ رکھنا زیادہ مفید ہے۔ مگر یہ سیاسی حساب کتاب وقتی فائدے دے کر طویل المدت نقصان پہنچا سکتا ہے۔ کیونکہ اگر انڈیا بلاک کے اندرونی اعتماد میں دراڑ پڑ گئی، تو سب سے زیادہ نقصان انہی علاقائی جماعتوں کو ہوگا جن کی سیاست بڑی قومی جماعتوں کے تعاون پر ٹکی ہے۔
راجیہ سبھا انتخابات میں نیشنل کانفرنس کی یہ ضد کہ کانگریس چوتھی اور نسبتاً غیر محفوظ نشست پر امیدوار کھڑا کرے، دراصل ایک غیر منصفانہ اور غیر سیاسی رویہ ہے۔ ایک اتحادی جماعت کے ساتھ برابری کے احترام کا تقاضا تھا کہ اسے کم از کم ایک محفوظ موقع دیا جاتا۔ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ جموں و کشمیر میں کانگریس نے ہمیشہ این سی کے ساتھ مفاہمت کی راہ اپنائی ہے، چاہے وہ ریاستی حکومتوں کی تشکیل ہو یا پارلیمانی انتخابات۔ اگر اب این سی سیاسی فائدے بھول جائے، تو یہ خود اس کی ساکھ کے لیے نقصان دہ ہوگا۔
یہ بھی قابلِ غور ہے کہ آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری جی اے میر نے بھی وہی شکوہ دہرایا ہے جو قرہ نے کیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ دہلی کی اعلیٰ قیادت کو یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ کانگریس کو ’’سیف سیٹ‘‘ ملے گی، مگر جب بات عمل پر آئی تو این سی نے کسی قسم کی بات چیت نہیں کی۔ ان کے مطابق، ’’کونسل آف منسٹرز کی تشکیل کے وقت بھی کوئی مشاورت نہیں ہوئی تھی۔‘‘ یہ بیان اس اتحاد کے اندرونی جمود اور رابطے کی کمی کی عکاسی کرتا ہے۔
درحقیقت، اتحاد کے اصول صرف نشستوں کی تقسیم تک محدود نہیں ہوتے۔ ان کا دار و مدار باہمی اعتماد، مشترکہ نظریاتی موقف، اور عوامی مقصد پر ہوتا ہے۔ نیشنل کانفرنس کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ وہ خود اسی اتحاد کے سہارے بی جے پی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے مقابلے میں کھڑی ہے۔ اگر وہ اپنے اتحادیوں کو نظر انداز کرے گی، تو نہ صرف انڈیا بلاک کے اندر دراڑ پڑے گی بلکہ خود این سی کے لیے بھی جموں و کشمیر میں سیاسی تنہائی کا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔
یہ سوال بھی اہم ہے کہ آخر نیشنل کانفرنس نے ایسی ضد کیوں اختیار کی؟ اگر مقصد محض اپنی سیاسی برتری دکھانا ہے تو یہ رویہ اتحاد کی روح کے منافی ہے۔ سیاست میں بڑے دل کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک مضبوط پارٹی وہی ہوتی ہے جو اپنے ساتھیوں کے لیے گنجائش پیدا کرے، نہ کہ انہیں کمزور کرے۔ اس کے برعکس، این سی کے اس قدم سے یہ تاثر جا رہا ہے کہ وہ اپنے اتحادی کو ’جونیئر پارٹنر‘ سمجھتی ہے…ایسا تاثر جو کسی بھی صحت مند اتحاد کے لیے زہرِ قاتل ہے۔
قرہ نے اپنی گفتگو میں ایک اور نکتہ اٹھایا ہے جو قابلِ توجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم صرف ہارنے کے لیے الیکشن نہیں لڑیں گے۔‘‘ یہ جملہ بظاہر سادہ ہے مگر اس کے اندر کانگریس کے عزائم اور خود اعتمادی دونوں جھلکتے ہیں۔ کانگریس اگرچہ جموں و کشمیر میں نسبتاً کمزور پوزیشن میں ہے، مگر اس کی قومی حیثیت کسی بھی اتحاد کے لیے ناگزیر ستون ہیں۔
جموں و کشمیر کی سیاست میں اتحاد ہمیشہ مشکل مگر ضروری رہے ہے۔ یہاں کی علاقائی حساسیتوں، مذہبی تنوع، اور سیاسی تقسیم کے پیشِ نظر، کسی بھی جماعت کا اکیلے کامیاب ہونا تقریباً ناممکن ہے۔ اس تناظر میں نیشنل کانفرنس کا یہ رویہ نہ صرف غیر حقیقت پسندانہ ہے بلکہ خود اپنی جڑوں کو کمزور کرنے کے مترادف بھی ہے۔ اگر وہ واقعی خطے میں بی جے پی کے بڑھتے اثر کو روکنا چاہتی ہے، تو اسے کانگریس جیسے ہم خیال اتحادی کے ساتھ کھلے دل سے تعاون کرنا ہوگا۔
کانگریس نے جو لب و لہجہ اپنایا ہے، وہ اب بھی تصادم سے زیادہ اصلاح اور مکالمے کا ہے۔ قرہ اور میر دونوں نے بات چیت کے دروازے بند نہیں کیے۔ یہ رویہ این سی کے لیے موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ اپنی پوزیشن پر نظر ثانی کرے اور اتحاد کی روح کو بحال کرے۔ اگر ایسا نہ ہوا، تو انڈیا بلاک کی سیاست ایک اور داخلی تنازع کی نذر ہو سکتی ہے۔





