جموں و کشمیر کی معیشت کا اگر کوئی واحد ستون ہے تو وہ باغبانی ہے … سیب، ناشپاتی، خوبانی اور دیگر پھل و سبزیاں وادی کے لاکھوں خاندانوں کی روزی روٹی کا بنیادی ذریعہ ہیں اور خطے کی جی ڈی پی میں اس شعبے کا حصہ سنجیدہ اہمیت رکھتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ سرینگر،جموں نیشنل ہائی وے کی متعدد روزانہ بندشوں نے نہ صرف کسانوں کی روزمرہ کمائی کو لہو بہایا بلکہ پورے خطے کی اقتصادی ریڑھ کو شدید جھٹکے دیے ہیں۔ تازہ ترین تخمینوں کے مطابق اس بندش نے مجموعی طور پر تقریباً پندرہ سو کروڑ روپے کا ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے، جس میں سوپور فروٹ منڈی کا حصہ اکیلا تقریباً ۶۰۰ تا۷۰۰ کروڑ روپیہ بتایا جاتا ہے ۔ ایسے اعداد و شمار جنہیں محض اعداد کی شکل میں دیکھنا آسان ہے مگر دراصل یہ لاکھوں انسانوں کی محنت، فیملیز کی امید اور مقامی معیشت کی زندہ قوت کا خون ہیں۔
یہ نقصان عارضی تاخیروں یا معمولی تنگدستی کی علامت نہیں؛ یہ ایک طویل المدتی حکمتِ عملیاتی ناکامی کا شاخسانہ ہے۔ جب پھل لاریوں میں بھریں رہ کر سڑکوں پر سڑتے ہیں تو وہ محض پھل ضائع نہیں ہوتے، بلکہ اس خطے کے کسان، ٹھیکیدار، مزدور، ٹرانسپورٹر، کولڈ اسٹوریج مالکان اور خردہ فروش سب ایک زنجیر میں متاثر ہوتے ہیں۔ باغبانی کے خسارے کا سیلاب گاؤں سے شہروں تک پہنچتا ہے؛ روزگار کم ہوتا ہے، قرضے بڑھتے ہیں، مقامی مارکیٹوں میں قیمتوں کا توازن بگڑتا ہے اور ریاستی محصول میں کمی آتی ہے۔ نتیجتاً یہ محض زرعی بحران نہیں بلکہ معاشی اور سماجی خطرے کی گھنٹی ہے۔
حکومت کی غفلت اور بروقت انتظامی ناکامی نے اس بحران کو بڑھایا ہے۔ وادی جیسی جغرافیائی حساس جگہ پر جہاں برف باری، بارشیں اور لینڈ سلائیڈنگ معمول ہیں، صرف ایک آل ویدر شاہراہ پر انحصار ایک سنجیدہ خطرہ ہے۔ متبادل راستوں کی تیاری، ایمرجنسی رسپانس میکانزم اور دفاعی لوجسٹکس سے فوری استفادہ پہلے سے یقینی ہونا چاہیے تھا۔ اس کے بجائے باغبان، ٹرک ڈرائیور اور تاجروں کو تباہی کے مناظر کا منہ دیکھنا پڑا۔ یہ صورتِ حال محض ایک انتظامی غفلت نہیں؛ یہ ریاستی ذمہ داریوں کی ناکامی ہے جس کے لئے فوری جواب طلب ہونا چاہیے۔
فوری تقاضے واضح ہیں: متاثرہ کسانوں کو بروقت اور مکمل معاوضہ دیا جائے، کسان کریڈٹ کارڈ (کے سی سی) کے تحت لیے گئے قرضے معاف کیے جائیں اور مرکزی سطح پر ایک خصوصی ریلیف پیکیج اعلام کیا جائے جو صرف وقتی امداد تک محدود نہ رہے بلکہ بحالی اور مضبوطی کے لیے طویل المدتی منصوبے کا حصہ ہو۔ ان کے ساتھ ساتھ اصل تبدیلی بنیادی ڈھانچہ میں ہونی چاہیے۔ مغل روڈ اور دیگر متبادل شاہراہوں کو آل ویدر بنانا،ایمرجنسی کارگو آپریشنز کے لیے خصوصی سہولتیں مہیا کرنا، اور ٹھنڈے چین (کولڈ چین) کے نیٹ ورک کو تیزی سے پھیلانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جہاں تک ممکن ہو، ریلوے یا ملٹی موڈ ٹرانسپورٹ کی رسائی بڑھائی جائے تاکہ ایک سڑک کی ناکامی پورے نظام کو مفلوج نہ کرے۔
مزید یہ کہ باغبانی شعبے کی دیرپا حفاظت کے لیے انشورنس اسکیموں کو حقیقی معنوں میں فعال اور کسان دوست بنایا جانا چاہیے۔ آفات یا نقل و حمل میں خرابی کی صورت میں انشورنس کلیم کا طریقہ کار آسان، شفاف اور جلدی ہونا چاہیے تاکہ کسان کو فوری نقد بہاؤ مل سکے۔ اسی طرح پروسیسنگ یونٹس اور ویلیو ایڈیٹ کرنے والی صنعتوں کی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پھل ضائع ہونے کے بجائے وہاں پر پروسیسنگ ہوتے رہیں اور مقامی قدر میں اضافہ ہو۔ اگر پھل کو خشک کیا جائے، جوس یا کنسروی بنایا جائے تو قیمتیں بھی قابلِ انتظام رہتی ہیں اور روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوتے ہیں۔
اس بحران کا ایک دوسرا رخ یہ بھی ہے کہ مقامی معیشت اور جی ڈی پی میں باغبانی کا کلیدی کردار سیاسی معنوں میں بھی اہمیت رکھتا ہے۔ جب کسان بار بار اپنے نقصان کی فریاد کریں اور ان کی سنوائی نہ ہو تو سرکاری اداروں پر عوامی اعتماد مجروح ہوتا ہے۔ یہ عدم اعتماد صرف اقتصادی لاگت نہیں بلکہ سماجی سیاست کی قیمت بھی چکا سکتا ہے۔ حلقہ اثر ایسے وقت میں بڑھتا ہے جب عوام محسوس کریں کہ ان کی بنیادیں محفوظ نہیں۔ ایسے حالات میں سیاسی قیادت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ صرف الفاظ سے آگے بڑھے، مرمت اور اصلاح کے ٹھوس اقدامات سامنے لائے اور شفاف احتساب یقینی بنائے۔
حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری سطح پر ایک کریسس ٹاسک فورس قائم کرے جس میں مرکزی وزارتیں،زراعت، روڈ ٹرانسپورٹ، ہوابازی، دفاعی لوجسٹکس،ریاست/یوٹی انتظامیہ اور اس شعبے کے نمائندہ کسان تنظیمیں شامل ہوں۔ اس فورس کا بنیادی کام فوری معاوضہ، قرض معافی کا نفاذ، ایمرجنسی ٹرانسپورٹ کا بندوبست اور آئندہ کے لیے عملی روڈ میپ تیار کرنا ہونا چاہیے۔ اسی کے تحت کولڈ اسٹوریج اور پروسیسنگ کییتابی سرمایہ کاری کے لیے عوامی و نجی شعبے کا شراکت کار مدغم کیا جائے۔
ایک اور ضروری نکتہ یہ ہے کہ مقامی سطح پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار، خاص طور پر خواتین کے زیرِ اہتمام چھوٹے یونٹس، جنہیں عموماً لائیو مارکیٹنگ اور ہینڈ ہیلڈ پروسیسنگ سے فائدہ ہوتا ہے، انہیں ترجیحی بنیاد پر مالی معاونت اور تربیتی پروگرام دیے جائیں۔ اس طرح کے اقدامات نہ صرف نقصان کے وقت رلیف دیں گے بلکہ دیہی معیشت کی مزاحمت کو بھی مضبوط کریں گے۔
آخر میں یہ کہنا ہوگا کہ۱۵۰۰ کروڑ روپے کا یہ نقصان محض ایک عدد نہیں بلکہ ایک سنگین انتباہ ہے۔ کشمیر کی باغبانی محض زرعی پیداوار نہیں بلکہ پورے خطے کی معاشی شناخت اور زندگی کا ذریعہ ہے۔ اس کے تحفظ کے لیے فوری ریلیف کے ساتھ ساتھ طویل المدتی سرمایہ کاری، بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی اور شفاف پالیسی اصلاحات لازم ہیں۔ اگر یہ کام بروقت اور موثر انداز میں نہ کیا گیا تو آنے والے برسوں میں اس شعبے کی زوال پذیری نہ صرف کسانوں بلکہ ریاست کی مجموعی ترقی اور داخلی استحکام کے لیے بھی سنگین خطرہ بن جائے گی۔ حکومت کو اب فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ اپنی ذمہ داری قبول کرے گی یا پھر اس خطے کی اقتصادی زندگی کو بار بار انہی بحرانوں کے حوالے کر کے بے یارو مددگار چھوڑ دے گی۔
۔۔۔۔۔۔





