کشمیر وادی اپنی برف سے ڈھکی پہاڑیوں، جھرنوں، ندیوں اور زرخیز زمین کی وجہ سے مشہور ہے۔ یہاں کے لوگ صدیوں سے موسم کی برکتوں پر انحصار کرتے آئے ہیں، لیکن حالیہ برسوں میں بارشوں اور برفباری کے پیٹرن میں بڑی تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔
سال ۲۰۲۵ میں بھی وادی کو ایک تشویش ناک صورتحال کا سامنا رہا۔ تازہ ترین محکمہ موسمیات کے اعداد و شمار کے مطابق وادی کشمیر میں پچھلے۸۹ دنوں کے دوران اوسطاً ۴ء۱۵ فیصد بارشوں کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
یہ کمی اگرچہ جنوری اور فروری کے شدید خشک موسم کے مقابلے میں کچھ کم ہے، لیکن پھر بھی اس نے زراعت، ہائیڈرو پاور، پانی کی دستیابی اور عام زندگی پر گہرے اثرات ڈالے ہیں۔
سال کے آغاز میں صورتحال کہیں زیادہ خطرناک تھی۔ جنوری اور فروری ۲۰۲۵ کے دوران وادی میں محض ۱۷ فیصد بارش ریکارڈ ہوئی، یعنی معمول کی بارش کے مقابلے میں ۸۳ فیصد کی کمی۔ یہ پچھلے کئی دہائیوں میں سب سے بڑا خسارہ تھا۔ اس شدید قلت نے زراعت اور پانی کے ذرائع پر براہ راست دباؤ ڈالا۔
مارچ میں وقفے وقفے سے بارش اور برفباری نے کچھ راحت دی اور خسارہ تقریباً ۴۰ فیصد تک کم ہوگیا۔ تاہم گرمیوں کے دوران کئی موسمیاتی مراکز نے ۶۰ سے ۹۹ فیصد تک بارش کی کمی درج کی۔ اب اگست کے اختتام تک یہ کمی مجموعی طور پر۱۵ فیصد رہ گئی ہے۔ اگرچہ یہ پچھلے مہینوں کی نسبت بہتر ہے، لیکن وادی کے نازک ماحولیاتی نظام کے لئے اب بھی تشویش کا باعث ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جہاں وادی کشمیر میں بارشوں کی کمی ریکارڈ کی گئی، وہیں جموں ڈویڑن نے اسی عرصے میں ۳۷فیصد زائد بارشیں حاصل کیں۔ ایک ہی یونین ٹریٹری کے دو حصوں میں اتنا بڑا فرق اس بات کی علامت ہے کہ خطے میں موسمیاتی تغیر بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
کشمیر کی زمینیں اور زراعت کم بارش کی وجہ سے متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ جموں میں ضرورت سے زیادہ بارشیں کبھی کبھار سیلابی صورتحال پیدا کرتی ہیں۔ یہ تضاد پانی کے انتظام اور منصوبہ بندی کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔
کشمیر کی معیشت کا سب سے اہم ستون باغبانی ہے، خاص طور پر سیب کی پیداوار جس کا وادی کے جی ڈی پی میں تقریباً ۸فیصد حصہ ہے۔ بارش کی کمی پھل کے سائز، معیار اور پیداوار دونوں کو متاثر کرتی ہے۔ امسال بھی کسانوں نے شکایت کی کہ خشک موسم کی وجہ سے انہیں زیادہ پانی دینا پڑا، جس سے اخراجات بڑھے اور منافع کم ہوا۔
جنوبی کشمیر کے اضلاع میں دھان کی کاشت بارشوں اور نہروں کے پانی پر منحصر ہے۔ بارش کی کمی کے باعث دھان کی بوائی اور پودے کی نشوونما متاثر ہوئی۔ کسانوں کو ٹیوب ویل اور دیگر ذرائع پر انحصار کرنا پڑا، جس سے مالی بوجھ بڑھا۔
مکئی، سبزیاں اور دالیں بھی کم بارش کی وجہ سے متاثر ہوئیں۔ مٹی کی نمی کم ہونے سے فصل کی نشوونما رکی اور پیداوار میں کمی دیکھی گئی۔ یہ صورتحال نہ صرف کسانوں بلکہ عام صارفین کے لئے بھی نقصان دہ ہے کیونکہ اس سے سبزیوں اور اناج کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔
کشمیر کی توانائی کا بڑا ذریعہ ہائیڈرو پاور ہے۔ کم بارش اور برفباری کا سیدھا مطلب ہے کہ دریاؤں میں پانی کی مقدار گھٹ جائے گی، جس سے بجلی کی پیداوار متاثر ہوتی ہے۔ خاص طور پر سردیوں میں، جب بجلی کی مانگ بڑھتی ہے، یہ کمی لوگوں کے لئے مزید مشکلات پیدا کرسکتی ہے۔
اسی طرح گھریلو استعمال کیلئے پانی کی فراہمی بھی ندیوں اور چشموں پر انحصار کرتی ہے۔ اگر بارش معمول سے کم ہو تو پینے کے پانی اور آبپاشی دونوں پر اثر پڑتا ہے۔ اگرچہ ۱۵ فیصد خسارہ فوری بحران نہیں لاتا، لیکن سال کے آغاز کی خشک صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ مجموعی دباؤ کو بڑھاتا ہے۔
کشمیر کے جھیلیں اور آبی ذخائر جیسے ہوکرسر اور ولر جھیل پہلے ہی سکڑاؤ اور آلودگی کا شکار ہیں۔ بارشوں میں کمی ان ذخائر کے حجم کو مزید کم کرتی ہے، جس سے پرندوں، مچھلیوں اور دیگر حیاتیاتی نظام کو نقصان پہنچتا ہے۔یہ خسارہ صرف زراعت یا توانائی تک محدود نہیں بلکہ وادی کی حیاتیاتی تنوع اور قدرتی خوبصورتی کو بھی متاثر کرتا ہے، جو سیاحت پر بالواسطہ اثر انداز ہوتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال محض وقتی نہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلی کا نتیجہ ہے۔ ماضی میں وادی میں سردیوں کی برفباری انہی مغربی ہواؤں سے آتی تھی، مگر اب یہ یا تو کمزور ہو گئی ہیں یا راستہ بدل گئی ہیں۔ برسات کبھی تاخیر سے آتی ہے اور کبھی اچانک شدید بارش کے ساتھ۔ یہ بے ترتیبی کسانوں کے لئے ایک بڑا خطرہ ہے۔ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے برف پگھلنے کے اوقات بدل گئے ہیں اور بادل بننے کے طریقے بھی متاثر ہو رہے ہیں۔
کشمیر میں۱۵ فیصد بارشوں کی کمی اگرچہ پچھلی شدید خشک صورتحال سے کچھ بہتر ہے، مگر یہ اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ وادی کا ماحولیاتی اور معاشی توازن بہت نازک ہے۔ ہر فیصد کمی کسانوں، بجلی کے نظام اور عام زندگی کو متاثر کرتی ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر کشمیر کو ایسے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے جو نہ صرف موجودہ مسائل کا حل دیں بلکہ مستقبل کی غیر یقینی صورتحال سے نمٹنے میں بھی مدد کریں۔ اگر وادی نے بروقت اور دانشمندانہ اقدامات نہ کیے تو آنے والے برسوں میں پانی اور زراعت کا بحران مزید سنگین ہوسکتا ہے۔





