نہیں صاحب ہم موازنہ نہیں کررہے ہیں… بالکل بھی نہیں کررہے ہیں کہ اللہ میاں کی قسم ان میں تو کوئی موازنہ ہے ہی نہیں کہ ایک عرش ہے تو دوسرا فرش … بھلا عرش اور فرش میں موازنہ ہو سکتا ہے جو ہم ایسی حماقت کریں… لیکن ہاں اتنا ضرور کہنا چاہتے ہیں کہ… کہ پاکستان کا کوئی نہ کوئی لیڈر آئے دن بھارت کے ساتھ بات چیت کی بات کرتا ہے اور… اور پھر یہ بھی ’واضح‘ کرتا ہے کہ وہ مذاکرات کی بھیک نہیں مانگتا ہے یا مانگے گا … اگر ایسا ہے تو پھر بات بات اور ہر بات پر بھارت کے ساتھ ’مذاکرات کیلئے تیارہیں‘ کی بات کیوں کی جاتی ہے… اس بارے تازہ بیان ہمسایہ ملک کے وزیر خارجہ کا آیا ہے جنہوں نے کہا ہے کہ ان کا ملک کشمیر سمیت تمام’مسائل‘ پر بات چیت کیلئے تیار ہے لیکن انہوں نے ساتھ ہی’واضح‘کیاہے کہ پاکستان مذاکرات کی بھیک نہیں مانگے گا … اب صاحب اس کا کیا مطلب ہے… کیا یہ مذاکرات کی بھیک مانگنا نہیں ہے تو اور کیا ہے؟ اپنے وزیر اعظم آجکل جاپان اور چین کے دورے پر ہیں… جاپان میں مودی جی نے ایک انٹرویو دیا… اس انٹرویو میں انہوں نے دیش دنیا کی باتیں کیں… سیاسی باتیں ‘ معاشی باتیں ‘ معاشرتی باتیں … جاپان اور چین کے ساتھ بھارت کے باہمی تعلقات کے حوالے سے باتیں… لیکن… لیکن اللہ میاں کی قسم ان کی باتوں میں ایک بار بھی یہ بات نہیں آئی … بالکل بھی نہیں آئی کہ … کہ بھارت پاکستان کے ساتھ مذاکرات کیلئے تیار ہے … بالکل بھی نہیں آئی اور… اور اس لئے نہیں آئی کہ… کہ اب بات چیت کیلئے رہا ہی کیا ہے…دہشت گردی ایک واحد موضوع تھا… جی ہاں تھا‘ جس پر بھارت بات چیت کیلئے تیار تھا… لیکن… لیکن جب یہ بات سمجھ میں آگئی کہ… کہ اس پر بھی بات چیت سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا تو… تو بات چیت کے بجائے براہ راست کارروائی کو ترجیح دی گئی … جو کام پاکستان کے ذمے تھا وہ کام بھارت نے خود ہی کیا … دہشت گردوں کو سزا دے کر تو صاحب اب بات چیت کریں تو… تو کس پر۔پھر بھی اگر ہمسایہ ملک بات چیت کرنا چاہتا ہے تو… تو وہ اس کی بھیک مانگتا رہے … ہو سکتا ہے کہ کبھی اس کے کٹورے میں … بھارت کبھی کچھ بھیک میں دے بھی دے کہ چاہے ہمسایہ کتنا بھی برا کیوں نہ ہو… لیکن ہوتا تو ہمسایہ ہی ہے نا۔ ہے نا؟




