کیا کشمیر میں محکمہ صحت کی صحت خراب ہے اور اگر ہے تو اس میں بہتری لانے کیلئے حکومت کیا اقدامات کررہی ہے ؟
وزیر صحت ‘سکینہ ایتو کاکہنا ہے کہ محکمہ صحت میں تبدیلیاں اورتقرریاں ناگزیر بن گئی ہیں اور اس ضمن میں حکومت جلد ہی کارورائی کرنے والی ہے ۔یعنی حال ہی میں ایک کے بعد جو ایک کنٹروسی ہو رہی ہے‘ اس کا حل وزیر صحت کے نزدیک صرف ڈاکٹروں اور نیم طبی عملے کے تبادلے اور تقرریوں میں پوشیدہ ہے ۔
ایس ایم ایچ ایس ہسپتال میں فوت ہوئے مریض کے رشتہ دار کی جانب سے ایک ڈاکٹر پر تھپڑ مارنے کے ردعمل میں آپریشن تھیٹر سے او پی ڈی کو بند کرنے سے کر لل دید ہسپتال کے لیبر روم کی عکس بندی تک ‘ کیا اس سب کا حل تبادلے اور تقرریاں ہو سکتا ہے ؟
ایم ایم ایچ ایس ہسپتال میں گزشتہ ہفتے کے واقعہ کی حکومت نے تحقیقات کا اعلان کیا ہے‘ خاص کر اس بات کی جانچ ہو گی کہ آپریشن تھیٹر بند کیوں گیا ۔ امید ہے کہ اس تحقیقات کو اپنے منطقی انجام تک پہناچا جائیگا اور قصورواروں کو سزا بھی دی جائیگی کیونکہ اگر غلطی ایک شخص نے کی تھی تو اس کی سزا ہسپتال میں داخل/یا موجود مریضوں کو نہیں دی جا سکتی ہے ۔
جہاں تک لل دید ہسپتال کے لیبر روم کی ویڈیو بنانے کی بات ہے تو یہ انتہائی سنجیدہ مسئلہ ہے ۔سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر شیئر کی جانے والی اس ویڈیو میں ایک ڈاکٹر کو اسپتال کے انتہائی حساس حصوںمیں بلا روک ٹوک گھومتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ان میں لیبر روم اور آپریشن تھیٹر شامل ہیں۔یہ ہسپتال کے وہ حصے ہیں جہاں داخل مریضوں کے رشتہ داروں کو بھی جانے کی اجازت نہیں ہو تی ہے ۔ویڈیو میں مریض پس منظر میں دکھائی دیتے ہیں، جن میں سے بعض کو علاج کے دوران فلمایا گیا ہے۔اتنا ہی نہیں بلکہ ویڈیو میں ایک سرجری کا منظر دکھاتا ہے، جہاں ایک مریض کا آپریشن جاری ہے۔
طب ایک ایسا شعبہ ہے جو مریض کی بھلائی، رازداری اور عزت نفس جیسے اعلیٰ اخلاقی اصولوں پر قائم ہے۔ جب کوئی ڈاکٹر لیبر روم یا آپریشن تھیٹر جیسے حساس مقامات پر ویڈیو بناتا ہے، تو یہ نہ صرف ان اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے بلکہ اس اعتماد کو بھی مجروح کرتا ہے جو مریض اور عوام ڈاکٹرز پر کرتے ہیں۔
سب سے پہلے، ایسی ویڈیو بنانا مریض کی رازداری کی خلاف ورزی ہے، جو طب کے پیشے کا بنیادی اخلاقی تقاضا ہے۔ زچگی کے دوران خواتین جسمانی، جذباتی اور نفسیاتی طور پر نہایت نازک حالت میں ہوتی ہیں۔ وہ ڈاکٹروں پر مکمل اعتماد کرتی ہیں کہ وہ ان کی نگہداشت عزت و وقار کے ساتھ کریں گے۔ ان کی اجازت کے بغیر ویڈیو بنانا، چاہے چہرے واضح نہ بھی ہوں، ان کی نجی زندگی میں مداخلت ہے۔ یہ عمل ان کے لیے ذہنی اذیت کا سبب بن سکتا ہے اور اسپتال جیسے اداروں پر سے اعتماد ختم کر سکتا ہے۔
دوسری بات، زچگی کا کمرہ اور لیبر روم ایسے مقدس مقامات ہوتے ہیں جہاں انتہائی سنجیدگی، ہمدردی اور پیشہ ورانہ رویے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسی جگہ پر سیلفی لینا، ویڈیوز بنانا، یا لائیو سرجری دکھانا، ان مقامات کو تماشہ بنا دیتا ہے۔ یہ مریضہ کو انسان نہیں بلکہ محض ’مواد‘ بنا کر پیش کرتا ہے، جو کہ ایک انتہائی غیر اخلاقی عمل ہے۔
اس وقعہ کے بعد لل دید ہسپتال کی انتظامیہ نے اسپتال کے احاطے میں فوٹوگرافی اور ویڈیوگرافی پر سخت پابندی عائد کر دی ہے۔
ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کے مطابق، تمام ڈاکٹروں، نیم طبی عملے اور دیگر ملازمین کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ہسپتال کے اندر، خصوصاً حساس مقامات پر، ویڈیوز بنانے یا تصاویر لینے سے مکمل طور پر گریز کریں تاکہ مریضوں کی رازداری کو برقرار رکھا جا سکے اور حاملہ یا دودھ پلانے والی ماؤں کی عزت و وقار کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
ہسپتال کے اہم مقامات پر بورڈز نصب کر دیے گئے ہیں جن پر واضح انتباہ درج ہے کہ ویڈیوگرافی قانوناً ممنوع ہے اور اس پر قانونی کارروائی کی جائے گی۔
ہسپتالوں میں تبادلے اور تقرریاں معمول کے انتظامی اشوز ہیں اور اگر وزیر صحت انہیں ناگزیز سمجھتے ہیں تو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے ۔ لیکن جو غیر معمولی واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں ان کا حل تبادلے اور تقرریاں نہیں ہو سکتا ہے۔
یقینا مجموعی طور پربیشتر ڈاکٹر اپنے فرائض کی ادائیگی میں پر خلوص اور سنجیدہ بھی ہیں ‘ لیکن ایسے ڈاکٹروں کی کوئی کمی نہیں ہے جو دفتری اوقات کار میں کسی نجی کلینک پر پرائیویٹ پرٹیکس کرتے ہیں ۔اب تک پرائیویٹ پرٹیکس کو روکنے ‘ اس کی حوصلہ شکنی کرنے کیلئے ہر دور کی حکومت نے بہت سی کوششیں کیں ‘ لیکن اس کے باوجود وہ اس بات کو یقینی نہیں بناپائی کی ہر ایک ڈاکٹر دفتری اوقات کار کے دوران ہسپتالوں اور دیگر سرکاری طبی مراکز پر موجود رہے ۔
اس بات کو بھی یقینی بنانا ہو گا کہ ہسپتالوں میں مریضوں کو معیاری خدمات دستیاب ہوں ۔جو ادویات تجویز کی جاتی ہیں وہ معیاری ہونے کے ساتھ ساتھ دستیاب بھی ہوں کہ اکثر یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ ڈاکٹر جو دوائیاں تجویز کرتے ہیں وہ ہسپتال میں دستیاب نہیں ہوتی ہیں اور لوگوں کو باہر سے خریدنی پڑتی ہیں ۔ اس کے علاوہ ہسپتال کی مشینری ‘ جس کے ذریعے مختلف ٹیسٹ کئے جاتے ہیں کیا وہ چالو حالت میں ہے اس کو یقینی بنانا ہوگا کیونکہ مشاہدے میں یہی آیا ہے کہ کہیں ایکسرے مشین خراب ہو تی ہے تو کہیں الڑاساونڈ ‘ ایم آر آئی یا سی ٹی اسکین مشینیں کام کرنا چھوڑ دیتی ہیں۔
۔۔



