اب صاحب ہم تو سیاستدا ن نہیں ہیں … بالکل بھی نہیں ہیں‘ اس لئے سیاستدان اوران کی باتیں ہمیں سمجھ نہیں آتی ہیں… یا سمجھنے میں مشکل پیش آتی ہے… اپنے ایل جی سنہا صاحب کیا کہہ رہے ہیں اور گورے گورے بانکے چھورے عمرعبداللہ کیا مان کر چل رہے ہیں… یہ دونوں جو کہہ رہے ہیں ‘ اس کا کیا مطلب کاش یہ سب ہماری سمجھ میں آتا … آتا تو ہم بھی خود کو کچھ سمجھتے ہیں… لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہماری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا ہے… نہیں صاحب ایسا بھی نہیں ہے اوراللہ میاں کی قسم ہم حلفاً بیان کرتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے کہ ہم نا سمجھ ہیں‘ ایسا بالکل بھی نہیں ہے… ہاں یہ سچ ہے کہ ہمیں سیاستدانوں کی باتیں سمجھ میں نہیں آ تی ہیں… جیسے اپنے سنہا صاحب کی یہ بات کہ عمرعبداللہ کو معلوم تھا کہ الیکشن جیت جانے کی صورت میں وہ ایک یو ٹی کے وزیر اعلیٰ بنیں گے ‘ کسی ریاست کے نہیں … حالانکہ اس میں سمجھنے والی کوئی مشکل بات نہیں ہے… بالکل بھی نہیں ہے… لیکن نہ جانے ہمیں کیوں لگ رہا ہے کہ …کہ سنہا صاحب وزیر اعلیٰ صاحب سے کچھ کہنا چاہتے ہیں…کچھ کہے بغیر کچھ کہنا چاہتے ہیں… اب کیا کہنا چاہتے ہیں یہ تو ہمیں معلوم نہیں ہے… عمرعبداللہ صاحب یقینا عمرمیں سنہا صاحب سے چھوٹے ہیں… لیکن انہوں نے دھوپ میں بال سفید نہیں کئے ہیں… اس لئے ہم توقع کررہے ہیں… یہ توقع کہ وزیر اعلیٰ صاحب ہم جیسے ثابت نہیں ہوں گے… اور سنہا صاحب ‘ایل جی سنہا صاحب انہیں جو کہنا چاہتے ہیں… بغیر کچھ کہے سمجھانا چاہتے ہیں… وہ سب کچھ گورے گورے بانکے چھورے کی سمجھ میں آرہا ہوگا… اور آنابھی چاہئے کیونکہ یہ صاحب بھی تو سیاستدان ہی ہیں ۔اور… اور ہاں ایک اور بات کہ اگر عمرعبداللہ یہ بات سمجھ گئے…جو سنہا صاحب انہیں سمجھانا چاہتے ہیں تو… تو ہمیں یقین ہے کہ کم و بیش باقی کے چار سال … آئندہ کے چار سال وزیر اعلیٰ صاحب پر سکون گزاریں گے … ان میں ٹھہراؤ آجائیگا …ٹھہراؤنہیں استحکام آجائیگا … ان کے من کو شانتی ملے گی اور… اور جب من شانت ہو تا ہے‘ پر سکون ہوتا ہے تو… تو پھرعمرصاحب اُس پر توجہ دیں گے… جس پر انہیں توجہ دینی چاہئے لیکن … لیکن دے نہیں پا رہے ہیں…لاکھ کوششوں کے باوجود نہیں دے پا رہے ہیں ۔ ہے نا؟



