نئی دہلی/
کانگریس کے سینئر رہنما اور رکن پارلیمان ششی تھرور نے امریکہ پر طنز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر واشنگٹن کو پاکستان میں بڑے پیمانے پر تیل کے ذخائر تلاش کرنے کی کوئی خوش فہمی ہے تو’میں انہیں نیک تمنائیں دیتا ہوں‘‘۔
یہ بیان اس وقت آیا جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکہ نے پاکستان کے ساتھ ایک تجارتی معاہدہ طے کیا ہے، جس کے تحت دونوں ممالک پاکستان کے’وسیع تیل کے ذخائر‘ کو ترقی دینے کے لیے مل کر کام کریں گے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر بدھ کو لکھا’’ہم نے ابھی پاکستان کے ساتھ ایک معاہدہ طے کیا ہے، جس کے تحت پاکستان اور امریکہ مل کر ان کے وسیع تیل کے ذخائر کو ترقی دیں گے۔ ہم اس شراکت داری کے لیے ایک تیل کمپنی کا انتخاب کر رہے ہیں۔ کون جانے، شاید ایک دن وہ بھارت کو بھی تیل بیچنے لگیں!‘‘
اس بیان پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے تھرور نے پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے کہا’’ممکن ہے کہ ان کے پاس پاکستان میں تیل ملنے سے متعلق کچھ خوش فہمیاں ہوں، میں انہیں اس پر نیک تمنائیں دیتا ہوں۔ ہم کبھی ایک ہی ملک تھے، لیکن مجھے ایسی کوئی رپورٹ یاد نہیں جس میں بتایا گیا ہو کہ آج کے پاکستان میں تیل کی بڑی مقدار موجود ہے‘‘۔
کانگریسی لیڈر نے مزید کہا’’ہم نے بمبئی ہائی میں کچھ تیل دریافت کیا، آسام میں بھی کچھ ذخائر ملے، لیکن آج ہم اپنی ۸۶ فیصد تیل اور گیس کی ضروریات درآمد کرتے ہیں۔ امریکہ جو چاہے کرے، لیکن میرے لیے اہم یہ ہے کہ وہ ہمارے ملک کے ساتھ کیسا برتاؤ کرتے ہیں‘‘۔
ادھر پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اس معاہدے کو ’تاریخی‘ قرار دیا اور سوشل میڈیا پر ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ تعاون دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جائے گا۔
واضح رہے کہ پاکستان عرصے سے ساحلی علاقوں میں تیل کے ذخائر کا دعویٰ کرتا رہا ہے، تاہم ان پر کوئی عملی پیش رفت نہیں ہوئی۔ فی الحال، ملک مشرقِ وسطیٰ سے درآمد شدہ تیل پر انحصار کرتا ہے۔









