سرینگر/۱۹؍ اگست
سپریم کورٹ نے منگل کے روز سزائے موت پانے والے مجرم کو پھانسی دے کر سزائے موت پر عملدرآمد کے موجودہ طریقۂ کار کو ختم کرنے اور اس کی جگہ نسبتاً کم تکلیف دہ طریقوں، مثلاً نس کے ذریعے مہلک انجیکشن دینے، کی درخواست مسترد کردی۔
جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا پر مشتمل بنچ نے کہا کہ اس کا فیصلہ مرکزی حکومت کو اس بات سے نہیں روکتا کہ وہ ماہرین کی ایک کمیٹی کے ذریعے سزائے موت پر عملدرآمد کے موجودہ طریقۂ کار کا جامع جائزہ لے، تاکہ یہ دیکھا جاسکے کہ آیا کوئی متبادل طریقہ آئینی مقصد، یعنی غیر ضروری تکلیف کو کم سے کم کرنے اور سزائے موت پانے والے قیدی کے وقار کو برقرار رکھنے، کے لیے زیادہ موزوں ہے۔
بنچ نے یہ فیصلہ سینئر وکیل رشی ملہوترا کی جانب سے۲۰۱۷ء میں دائر کی گئی درخواست پر سنایا، جس میں قانون میں سزائے موت پانے والے مجرموں کو پھانسی دینے کے موجودہ طریقۂ کار کو ختم کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔
درخواست میں سزائے موت پر پھانسی کے ذریعے عملدرآمد ختم کرکے اس کی جگہ نسبتاً کم تکلیف دہ طریقے، مثلاً ’’نس کے ذریعے مہلک انجیکشن، گولی مارنا، بجلی کا کرنٹ دینا یا گیس چیمبر‘‘ اختیار کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔
سماعت کے دوران ملہوترا نے کہا تھا کہ کم از کم سزائے موت پانے والے قیدی کو یہ اختیار دیا جانا چاہیے کہ وہ پھانسی یا مہلک انجیکشن میں سے کسی ایک طریقے کا انتخاب کرسکے۔
مارچ۲۰۲۳ ء میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ وہ ماہرین کی ایک کمیٹی تشکیل دینے پر غور کرسکتی ہے تاکہ یہ جائزہ لیا جاسکے کہ پھانسی کے ذریعے سزائے موت پر عملدرآمد متناسب اور کم تکلیف دہ طریقہ ہے یا نہیں۔ عدالت نے اس سلسلے میں مرکزی حکومت سے ’’بہتر اعداد و شمار‘‘ بھی طلب کیے تھے۔
تاہم عدالت عظمیٰ نے واضح کیا کہ وہ مقننہ کو سزائے موت پانے والے مجرموں کے لیے کسی مخصوص طریقۂ کار کو اختیار کرنے کی ہدایت نہیں دے سکتی۔
۲۰۱۸ء میں مرکزی حکومت نے اس قانونی شق کی بھرپور حمایت کی تھی جس کے تحت سزائے موت پانے والے مجرم کو صرف پھانسی دے کر ہی سزا پر عملدرآمد کیا جائے گا۔ حکومت نے عدالت کو بتایا تھا کہ مہلک انجیکشن اور گولی مارنے جیسے دیگر طریقے لازماً کم تکلیف دہ نہیں ہیں۔
وزارت داخلہ کے جوائنٹ سیکریٹری کی جانب سے دائر کیے گئے جواب میں کہا گیا تھا کہ پھانسی ’’تیز اور سادہ‘‘ طریقہ ہے اور اس میں ایسی کوئی چیز نہیں جو قیدی کی تکلیف کو ’’غیر ضروری طور پر بڑھا دے‘‘۔
یہ جواب مفادِ عامہ کی اس عرضی کے جواب میں داخل کیا گیا تھا، جس میں قانون کمیشن کی۱۸۷ویں رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے سزائے موت پر عملدرآمد کے موجودہ طریقۂ کار کو قانون سے حذف کرنے کی سفارش کا ذکر کیا گیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔(ویب ڈسیک)









