سرینگر/۱۹؍ اگست
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بدھ کے روز بی جے پی کی جانب سے عائد کیے گئے بدعنوانی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اسے چیلنج دیا کہ وہ ان الزامات کی تحقیقات کرائے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت کسی بھی تفتیشی ایجنسی کو کنٹرول نہیں کرتی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’ایک لمحے کے لیے اگر ہم یہ فرض بھی کرلیں کہ ان کا الزام درست ہے تو ہمارے پاس ایسی چیزوں کو چھپانے کا اختیار بھی نہیں ہے۔ مجھے بتائیے، کون سی تفتیشی ایجنسی میرے کنٹرول میں ہے؟ ایک بھی نہیں۔‘‘
سرینگر شہر کے وسیع دورے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عبداللہ نے کہا، ’’میرے پاس پولیس کا کنٹرول نہیں ہے، میرے پاس کرائم برانچ نہیں ہے، میرے پاس اینٹی کرپشن بیورو (اے سی بی) بھی نہیں ہے، مرکزی ایجنسیوں کی تو بات ہی الگ ہے۔‘‘
وزیر اعلیٰ کا یہ ردعمل اس سوال کے جواب میں سامنے آیا کہ بی جے پی نے ان کی حکومت کے خلاف بھرتیوں میں بدعنوانی کے الزامات عائد کرتے ہوئے جموں خطے میں احتجاج کیا ہے۔
عمرعبداللہ نے سوال کیا کہ کیا کسی تفتیشی ایجنسی نے یہ کہا ہے کہ بدعنوانی ہوئی ہے؟ انہوں نے مرکز میں اقتدار میں بی جے پی سے کہا کہ وہ مقدمہ درج کرائے اور تحقیقات کرائے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’ان تفتیشی ایجنسیوں کا کنٹرول بی جے پی کے پاس ہے۔ آگے بڑھیں، تحقیقات کرائیں۔ اگر واقعی بدعنوانی ہوئی ہے تو مقدمہ درج کریں اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کریں۔ لیکن یہ بے بنیاد الزامات بلاوجہ لگائے جارہے ہیں۔‘‘
اپنی جماعت کے انتخابی منشور میں کیے گئے وعدوں کی تکمیل سے متعلق سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان کی حکومت کے پاس پانچ سال کا مینڈیٹ ہے، ایک سال کا نہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’کیا پانچ سال گزر گئے ہیں؟ کیا میں تین سال تک سویا رہا؟ ابھی دو سال بھی مکمل نہیں ہوئے۔‘‘
عمرعبداللہ نے کہا کہ انہوں نے پہلے دن ہی واضح کردیا تھا کہ نیشنل کانفرنس نے اپنا منشور ایک دن، ایک ہفتے، ایک ماہ یا ایک سال کے لیے پیش نہیں کیا تھا بلکہ یہ پانچ سالہ روڈ میپ ہے۔ انہوں نے کہا، ’’پانچ سال بعد مجھ سے یہ سوال کیجیے، میں تفصیلی جواب دوں گا۔‘‘
تاہم وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان کی حکومت نے منشور کو نظر انداز نہیں کیا اور ’’ہر ایک نکتے کو کسی نہ کسی سطح پر چھوا گیا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ آئندہ جو کچھ باقی رہ گیا ہے، اسے بھی پورا کیا جائے گا۔
لداخ کے مرکز کے زیر انتظام علاقے کرگل میں ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے بارے میں مبینہ طور پر قابلِ اعتراض ریمارکس کے سلسلے میں درج ایف آئی آر سے متعلق سوال پر عمرعبداللہ نے کہا کہ انہیں اس معاملے کی تفصیلات کا علم نہیں ہے، تاہم کسی بھی مذہبی رہنما کے خلاف توہین آمیز زبان استعمال نہیں کی جانی چاہیے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’ہر شخص کے جذبات ہوتے ہیں، چاہے اس کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو۔ اگر کسی نے ایسے بیانات دیے ہیں جن سے لوگوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ نہ صرف کرگل کے لوگوں کے بلکہ دنیا بھر میں آباد شیعہ برادری کے، تو ان کے جذبات مجروح نہیں ہونے چاہئیں۔‘‘
عمرعبداللہ نے مزید کہا کہ پولیس کو قانون کے مطابق جو بھی کارروائی ضروری لگے، وہ کرنی چاہیے۔ (ایجنسیاں)
۔۔۔۔۔۔
ندائے مشرق خبر









