جموں/۱۹؍ اگست
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے آج شری ماتا ویشنو دیوی یونیورسٹی کی۲۳ ویں یومِ تاسیس کی تقریبات میں شرکت کی، جہاں انہوں نے نمایاں کامیابیاں حاصل کرنے والوں کو اعزازات سے نوازا اور یونیورسٹی کے مستقبل اور قوم کی تعمیر میں اس کے کردار کے حوالے سے کلیدی خطاب کیا۔
یونیورسٹی برادری کو مبارکباد دیتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ۲۳ برسوں کے دوران ایس ایم وی ڈی یو علم، اختراع اور اقدار کا ایک نمایاں مرکز بن کر ابھری ہے، جہاں ایسے طلبہ تیار کیے جارہے ہیں جو نہ صرف کامیاب بلکہ سماجی طور پر ذمہ دار بھی ہیں۔
سنہا نے کہا کہ یہ دن دوراندیشی، عزم اور مسلسل کوششوں کا جشن ہے جنہوں نے یونیورسٹی کو علم، اختراع اور سماجی ذمہ داری کے مرکز میں تبدیل کیا۔ انہوں نے کہا کہ ماتا ویشنو دیوی کی نسبت سے منسوب یہ یونیورسٹی عقیدت، طاقت اور ایمان کی روایت کی نمائندگی کرتی ہے، جو بھارت اور دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کے لیے تحریک کا باعث ہے۔
ایل جی نے کہا کہ یونیورسٹی عمارتوں سے نہیں بلکہ خیالات، خوابوں اور امکانات سے بنتی ہے۔ انہوں نے اداروں کی تعمیر میں بصیرت افروز قیادت، وقف اساتذہ اور متجسس طلبہ کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹیوں کا مقصد صرف علم فراہم کرنا نہیں بلکہ طلبہ میں انکساری، حساسیت اور معاشرے کے تئیں ذمہ داری کا احساس بھی پیدا کرنا ہے۔
ایس ایم وی ڈی یو کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے بتایا کہ یونیورسٹی کے اساتذہ نے گزشتہ برسوں کے دوران بین الاقوامی تعاون سمیت تقریباً۱۴۰ تحقیقی منصوبے حاصل کیے ہیں اور جدید ترین اے آئی اور ڈیپ لرننگ لیب قائم کی گئی ہے۔ یونیورسٹی کو۱۴ پیٹنٹس حاصل ہوئے ہیں جبکہ۳۰ ؍اسٹارٹ اپس کی پرورش کی گئی ہے۔ انہوں نے پیئر لرننگ جیسے اختراعی پروگراموں کا بھی ذکر کیا۔انہوں نے یونیورسٹی پر زور دیا کہ پیٹنٹس اور اختراعات کو تجارتی سطح تک پہنچانے کے لیے صنعت اور اکیڈمیا کے درمیان روابط کو مزید مضبوط کیا جائے اور اس مقصد کے لیے اوپن ہاؤس اجلاس منعقد کیے جائیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ یونیورسٹی کی حقیقی کامیابی کا پیمانہ اس کے طلبہ اور سابق طلبہ ہیں، جو معاشرے اور ملک کے لیے اپنی خدمات کے ذریعے ادارے کی ساکھ کو آگے بڑھاتے ہیں۔انہوں نے یونیورسٹی کو مرکزی حکومت کی جانب سے اعلان کردہ ایک لاکھ کروڑ روپے کے تحقیقی فنڈ اور رواں سال شروع کی گئی پی ایم ریسرچ چیئرز اسکیم سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی ترغیب دی تاکہ قومی سطح کی تحقیقی اور اختراعی کوششوں میں زیادہ سے زیادہ شرکت یقینی بنائی جاسکے۔
سنہا نے کہا کہ موجودہ دور میں تحقیق اور اختراع اسی وقت بامعنی بنتی ہے جب وہ حقیقی مسائل کا حل فراہم کرے، معاشرے کے معیار زندگی کو بہتر بنائے اور مختلف شعبوں میں عام شہریوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لائے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ۱۵؍ اگست کو وزیر اعظم نریندر مودی نے لال قلعہ کی فصیل سے ایک اہم اعلان کرتے ہوئے ایک لاکھ کروڑ روپے مختص کیے اور ملک کے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ تحقیق اور اختراع کے میدان میں بلند خواب دیکھیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے مالی معاونت کا ایک مضبوط نظام قائم کیا ہے تاکہ نوجوانوں کو وسائل کی کمی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ایل جی نے وائس چانسلر کو ہدایت دی کہ اس یونیورسٹی کے اساتذہ اور منتخب طلبہ پر مشتمل ایک ٹیم تشکیل دی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں درخواستیں اس فنڈ کے لیے پیش کی جاسکیں۔
سنہا نے کہا کہ تعلیم یونیورسٹی، معاشرے اور ملک کے لیے سب سے طاقتور سرمایہ کاری ہے۔ انہوں نے بیرونِ ملک بعض جامعات کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہ تحقیق اور اختراع کے ذریعے آمدنی پیدا کررہی ہیں اور بھارتی جامعات کو بھی تحقیق، اختراع، قیادت اور کاروباری صلاحیت پر توجہ دے کر اسی نوعیت کی بلندیاں حاصل کرنی چاہئیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے بھارتی جامعات کو درپیش اہم چیلنجوں میں محدود تحقیق، اساتذہ کی کمی، جواب دہی کا فقدان اور صنعت کے ساتھ کمزور روابط کی نشاندہی کی۔ انہوں نے ذہنیت میں تبدیلی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ’’ہمیں کیا پڑھانا ہے؟‘‘ بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ ’’ہمیں کن مسائل کا حل تلاش کرنا ہے؟‘‘
ایل جی نے کہا کہ بھارت کی نوجوان آبادی، تخلیقی صلاحیت اور خطرہ مول لینے کی استعداد اس کے سب سے بڑے اثاثے ہیں۔ جامعات کو چاہیے کہ وہ طلبہ کو محض ملازمت تلاش کرنے والوں کے بجائے مواقع پیدا کرنے والے افراد میں تبدیل کریں۔
بھارت کی طاقتوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کم لاگت میں اختراع کرنے کی صلاحیت، ثقافتی و لسانی تنوع اور وسیع بیرونِ ملک بھارتی برادری کو نمایاں کیا۔ انہوں نے ایس ایم وی ڈی یو پر زور دیا کہ ان طاقتوں کو اپنے تحقیقی نظام سے جوڑ کر صحت، دیہی معیشت، شہری کاری اور ڈیجیٹل اختراع جیسے حقیقی مسائل کے حل تیار کرے۔
سنہا نے جامع تعلیم کی اہمیت پر بھی زور دیا اور سائنس و ٹیکنالوجی کے ساتھ کھیلوں، فنون، ادب، مباحثوں اور ثقافتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کی ضرورت اجاگر کی۔ انہوں نے یونیورسٹی کو دیہی علاقوں کے ساتھ مضبوط روابط قائم کرنے، پائیدار ترقی کو فروغ دینے اور عالمی تعلیمی ماڈلز سے بہترین طریقے اپنانے کی بھی تلقین کی۔
۲۰۳۰ نہیں بلکہ۲۰۴۰ کے ویژن کا خاکہ پیش کرتے ہوئے منوج سنہا نے یونیورسٹی کو عالمی سطح کے نمایاں علمی مرکز میں تبدیل کرنے، مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، بایوٹیکنالوجی اور موسمیاتی سائنس کے شعبوں میں جدید تحقیقی سہولیات قائم کرنے اور دیہی جموں و کشمیر میں ڈیجیٹل لرننگ نیٹ ورک تیار کرنے پر زور دیا۔انہوں نے عالمی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے بین الاقوامی طلبہ تبادلہ پروگرام شروع کرنے کی بھی اپیل کی۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ تعلیم کا مقصد صرف معاشی ترقی تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ ایسے تخلیقی انسان تیار کرنا بھی ہے جو خود کو سمجھیں، فطرت کا احترام کریں اور انسانیت کے تئیں اپنی ذمہ داری کو محسوس کریں۔ انہوں نے جدیدیت کو انسانی اقدار کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے یونیورسٹی سے اپیل کی کہ اسے علم کا زیارت مرکز، اختراع کی تجربہ گاہ اور معاشرے کی رہنمائی کرنے والا چراغ بنانے کا عزم کیا جائے۔انہوں نے مختلف اسٹیک ہولڈرز سے کٹرا میں جدید بین الاقوامی میوزیم آف گاڈیس کے قیام کے لیے تجاویز بھی طلب کیں۔
۔۔۔۔۔۔۔
(ڈی آئی پی آر)









