’میں آج یہاں کوئی بڑ اعلان نہیں کر سکتا لیکن امریکی شہریوں کے لیے سفری انتباہ کم کرنے پر غور کیا جائے گا‘
سرینگر/۱۹؍ اگست
بھارت میں امریکی سفیر سرجیو گور نے بدھ کے روز کہا کہ جموں و کشمیر بھارت کا ایک اہم حصہ ہے اور واشنگٹن کشمیر کا سفر کرنے والے اپنے شہریوں کے لیے جاری سفری ایڈوائزری پر نظرثانی کرنے پر غور کرسکتا ہے۔
سری نگر میں جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے ملاقات کے بعد امریکی سفیر نے کہا کہ امریکا وقتاً فوقتاً اپنے سفری انتباہات کا دوبارہ جائزہ لیتا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’میں آج یہاں کوئی بڑا اعلان نہیں کرسکتا، لیکن یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کا ہم جائزہ لیں گے۔‘‘
سرجیو گور نے کہا کہ نئی دہلی، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ اور مقامی حکومت نے خطے کو مزید محفوظ بنانے کے لیے قابلِ ذکر اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اس بات کا جائزہ لے گا کہ آیا کشمیر کے حوالے سے جاری سفری انتباہ کی سطح کم کی جانی چاہیے۔
امریکی سفیر نے کہا کہ کشمیر ایک خوبصورت خطہ ہے اور بہت سے امریکی یہاں آکر اس کی خوبصورتی دیکھنا پسند کریں گے۔
سرجیو گور نے عمر عبداللہ کے ہمراہ کھڑے ہوکر کہا، ’’جیسا کہ یہاں سب جانتے ہیں، میں بھارت میں امریکا کا سفیر ہوں اور یہ بھارت کا ایک اہم حصہ ہے۔ اس لیے میں پہلی مرتبہ یہاں آیا ہوں۔ یہ ایک انتہائی خوبصورت جگہ ہے اور یہاں آکر مجھے بے حد خوشی ہوئی۔ ہماری ابھی ایک بہت اچھی ملاقات ہوئی ہے۔‘‘
سرجیو گور جمعرات کو لداخ کا دورہ کرنے والے ہیں۔
امریکی سفیر نے یہ بھی کہا کہ امریکی شہریوں میں جموں و کشمیر کا دورہ کرنے میں خاصی دلچسپی موجود ہے، بشرطیکہ سکیورٹی سے متعلق خدشات اور سفری ایڈوائزری کے مسائل دور کیے جائیں۔انہوں نے کہا، ’’بہت سے امریکی یہاں آنا چاہتے ہیں۔‘‘
ان کے یہ ریمارکس ایسے وقت میں اہمیت رکھتے ہیں جب جموں و کشمیر بین الاقوامی سیاحتی نقشے پر اپنی موجودگی مزید مضبوط بنانے اور امریکہ سمیت مغربی ممالک سے زیادہ سیاحوں کو راغب کرنے کی کوشش کررہا ہے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ملاقات کے بعد کہا کہ انہوں نے امریکی سفیر کے ساتھ نئی دہلی اور واشنگٹن کے باہمی تعلقات پر تبادلہ خیال کیا، جس میں خصوصی طور پر جموں و کشمیر پر توجہ مرکوز رہی۔
عمر عبداللہ نے کہا، ’’یہ ایک بہت اچھی ملاقات تھی۔ ہمیں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات پر تبادلہ خیال کا موقع ملا، تاہم خاص طور پر اس بات پر گفتگو ہوئی کہ امریکا جموں و کشمیر کے لیے کیا کردار ادا کرسکتا ہے۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ماضی سے چلے آرہے بعض مسائل موجود ہیں جنہیں وقت کے ساتھ حل کرنے کے لیے کام کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس سلسلے میں بات چیت کو آگے بڑھانے کے خواہاں ہیں۔
وزیر اعلیٰ کے مطابق یہ بات چیت ایک جانب امریکی سفیر سرجیو گور اور واشنگٹن کے درمیان اور دوسری جانب ان کے اور نئی دہلی میں حکومتِ ہند کے درمیان جاری رہے گی۔عمر عبداللہ نے امید ظاہر کی کہ آنے والے برسوں میں یہ رابطہ اور بات چیت مزید وسیع اور گہری ہوگی۔
یہ دورہ جموں و کشمیر کے سیاحتی شعبے کے لیے بھی اہم قرار دیا جارہا ہے، جو سکیورٹی خدشات کے باعث پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے بعد بین الاقوامی اعتماد بحال کرنے اور غیر ملکی سیاحوں کی واپسی کا خواہاں ہے۔
کسی امریکی سفیر کی کشمیر کے وزیر اعلیٰ کے ساتھ یہ تقریباً۱۵ برس بعد پہلی ملاقات ہے۔ اس سے قبل۲۰۱۱ میں اُس وقت کے امریکی سفیر ٹِم رومر نے اُس وقت کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے سرینگر میں ملاقات کی تھی۔
۔۔۔۔(ندائے مشرق ڈیسک )








