جمعہ, جون 5, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

آپریشن سندور پر پالیمنٹ میں بحث اور اپوزیشن کا کردار

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2025-08-01
in اداریہ
A A
آگ سے متاثرین کی امداد
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

کشمیر کی سیاسی جماعتیں سبق نہیں سیکھیں گی

بات چیت ہی مسائل کا حل:

جموں و کشمیر کے پہلگام میں پیش آنے والے خونریز دہشت گرد حملے کے بعد بھارت نے جس سرعت اور بے باکی کے ساتھ جوابی کارروائی کی، اسے’آپریشن سندور‘ کے نام سے جانا جا رہا ہے۔یہ آپریشن ایک کامیاب اور فیصلہ کن قدم تھا جس کا مقصد نہ صرف دہشت گردوں کو سبق سکھانا بلکہ ان کے سرپرستوں کو واضح پیغام دینا بھی تھا۔
مگر جب قومی سلامتی کے ایسے نازک اور حساس موضوعات کو پارلیمنٹ جیسے جمہوری ادارے میں زیر بحث لایا جاتا ہے، تو اس کا دائرہ صرف سرحدی حدود تک محدود نہیں رہتا ۔کئی سوالات اٹھتے ہیں ‘ اٹھائے جاتے ہیں لیکن حالیہ دنوں میں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں آپریشن سندور پر جو بحث ہوئی اس دوران اپوزیشن جماعتوں کا جو لب و لہجہ تھا وہ صاف اس بات کی چغلی کھا رہا تھا کہ یہ جماعتیں اس اہم اور حساس نوعیت کے قومی مسئلہ پر بھی سیاست کرنا چاہتی ہیں ۔
آپریشن سندور نے جہاں دہشت گردی کے خلاف ایک فیصلہ کن پیغام دیا، وہیں ملک کی اپوزیشن جماعتوں نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ قومی سلامتی جیسے حساس معاملات میں بھی سیاست بازی سے باز نہیں آتیں۔
یہ لمحہ، جہاں قوم کو متحد ہو کر ایک مضبوط پیغام دینا چاہیے تھا، اپوزیشن کی صفوں سے شکوک، تنقید اور غیر ملکی بیانات کی تکرار سننے کو ملی۔ سوال یہ ہے: کیا قومی سلامتی کے مسئلے پر بھی سیاسی مفادات کو ترجیح دی جائے گی؟
پارلیمنٹ میںآپریشن سندور پر اپوزیشن کے سوالات محض معلومات حاصل کرنے کے لیے نہیں تھے، بلکہ ایک سیاسی حملے کی صورت اختیار کر گئے۔کانگریس کے سینئر لیڈر سابق وزیر داخلہ پی چدمبرم جیسے رہنماؤں نے نہ صرف آپریشن سندور پر سوال اٹھائے۔چدمبرم نے پہلگام کے دہشت گردانہ حملے میں ملوث دہشت گردوں کو مقامی قراردیا جبکہ یہ بات اب اظہر من الشمس ہے کہ تینوں حملہ آوروں کا تعلق پاکستان سے تھا اور اس حملے کاماسٹر مائنڈ‘سلیمان ایک سابق پاکستانی فوجی کمانڈو تھا ۔
سابق وزیر داخلہ نے امریکی صدر‘ ڈونالڈ ٹرمپ کے غیر مصدقہ اور متضاد بیانات کو بنیاد بنا کر حکومت کو گھیرنے کی کوشش کی حالانکہ یہ وہی ٹرمپ ہیں جنہیں امریکہ میں بھی غیر سنجیدہ اور موقع پرست رہنما سمجھا جاتا ہے۔ ان کے غیر ذمہ دار بیانات کو بھارتی خارجہ پالیسی یا فوجی کارروائی پر سوال اٹھانے کا جواز بنانا نہ صرف مضحکہ خیز ہے بلکہ خطرناک بھی۔
جہاں حکومت پر تنقید ایک جمہوری حق ہے، وہیں ملک کی افواج اور انٹیلی جنس اداروں پر بلا ثبوت الزامات لگانا قومی اداروں کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔ یہ وہی اپوزیشن ہے جو ماضی میں سرجیکل اسٹرائیک اور بالاکوٹ کارروائی کے شواہد مانگ چکی ہے۔
کیا اپوزیشن کو ہر بار یہی رویہ اختیار کرنا ہے جب بھی بھارت دہشت گردی کا منہ توڑ جواب دے؟ فوجی کارروائی کو شک کی نگاہ سے دیکھنا ان جوانوں کی قربانیوں کی توہین ہے جو سرحد پر جان ہتھیلی پر رکھ کر ملک کی حفاظت کرتے ہیں۔
یہ واضح ہے کہ کئی اپوزیشن جماعتیں آپریشن سندور کو سیاسی موقع کے طور پر استعمال کرنا چاہتی تھیں۔ ان کی اصل دلچسپی دہشت گردی کے خلاف ایک متحد موقف اپنانے میں نہیں، بلکہ مودی حکومت کو نیچا دکھانے میں تھی۔یہ رویہ نہ صرف ناقابل قبول ہے بلکہ دشمنوں کو بھی ایک پیغام دیتا ہے کہ بھارت اندر سے تقسیم شدہ ہے۔ یہ وقت تھا کہ تمام سیاسی جماعتیں یک زبان ہو کر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی حمایت کرتیں، مگر سیاسی عینک نے قومی مفاد کو دھندلا دیا۔
ٹرمپ کے بیانات کا حوالہ دے کر اپوزیشن نے یہ تاثر دیا جیسے بھارت خود سے کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ سمیت کوئی بھی ملک بھارت کی خودمختاری پر سوال نہیں اٹھا سکتا، اور نہ ہی مداخلت کا اختیار رکھتا ہے۔
اپوزیشن کو سمجھنا چاہیے کہ بیرونی قوتوں کے بیانات کو داخلی سیاست میں ہتھیار بنانا، ملک کی خودداری پر حملے کے مترادف ہے۔ قومی مفاد کے تقاضے کچھ اور ہوتے ہیں، سیاست کے اصول کچھ اور۔ لوک سبھا میں لیڈر آپ دی اپوزیشن ‘ راہل گاندھی چاہتے تھے کہ وزیر اعظم ‘مودی ایوان میں امریکی صدر کو جھوٹا قرار دیں؟یہ ایک غیر منطقی اور غیر دانشمندانہ مطالبہ تھا ۔ جبکہ وزیر اعظم نے جون میں آپریشن سندور کے بعد فون پر اپنے پہلے رابطے میں امریکی صدر پر واضح کیا کہ بھارت کسی تیسرے ملک کی ثالثی میں یقین رکھتا ہے اور نہ اسے ثالثی قبول ہے ۔
ایک مضبوط جمہوریت میں تنقید ضروری ہے، لیکن اس میں توازن، حقیقت پسندی اور حب الوطنی کا پہلو بھی شامل ہونا چاہیے۔ اپوزیشن کو چاہیے تھا کہ وہ حکومت سے بند کمرے میں بریفنگ مانگتی‘افواج پر اعتماد کا اظہار کرتی‘سفارتی سطح پر ایک متحد آواز دیتی‘عوام کو خوف یا الجھن میں ڈالنے کے بجائے حقائق پر مبنی مؤقف اپناتی۔
آپریشن سندور ایک کامیاب فوجی کارروائی تھی جس کا مقصد دہشت گردوں کو واضح پیغام دینا تھا۔ یہ وقت تھا کہ ملک کی تمام جماعتیں سیاسی اختلافات کو پس پشت ڈال کر ایک قومی بیانیہ بناتیں۔افسوس، اپوزیشن نے ایک بار پھر یہ موقع گنوا دیا۔ انہوں نے سیاست کو قومی مفاد پر غالب رکھا، اور ملک کو ایک کمزور پیغام دیا۔
اب وقت ہے کہ اپوزیشن جماعتیں خود احتسابی کریں، اور یہ طے کریں کہ کیا وہ ایک سنجیدہ، ذمہ دار اور قومی مفاد کو اولیت دینے والی قوت بننا چاہتی ہیں ‘ یا صرف حکومت مخالفت کی عادت میں قومی سلامتی کے معاملات کو بھی کھیل سمجھتی رہیں گی؟
ShareTweetSendShareSend
Previous Post

امریکہ ‘بھارت اور پاکستان !

Next Post

اے ایف سی انڈر 20 ویمنز ایشیا کپ کوالیفائرز کے لیے 23 رکنی ٹیم کا اعلان

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

کشمیر کی سیاسی جماعتیں سبق نہیں سیکھیں گی

2026-06-04
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

بات چیت ہی مسائل کا حل:

2026-06-03
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

عمر عبداللہ حکومت:

2026-06-02
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

حج انتظامات اور جموں و کشمیر :  آخر عازمین کے مسائل کب ختم ہوں گے؟

2026-05-31
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

عید الاضحیٰ، قربانی کے جانور اور حکومتی بے حسی

2026-05-30
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

عید الاضحی :آج کے دن بھی کچھ لوگ خوشیوں سے محروم ہیں!

2026-05-27
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

بڈگام کی بیٹی اور ہمارا زخمی معاشرہ

2026-05-26
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

قربانی کے جانوروں کی من مانی قیمتیں

2026-05-24
Next Post
ایشیاکپ 2022؛ سری لنکا کو 50 لاکھ ڈالر سے زائد کا نقصان ہوسکتا ہے، رپورٹ

اے ایف سی انڈر 20 ویمنز ایشیا کپ کوالیفائرز کے لیے 23 رکنی ٹیم کا اعلان

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.