کہتے ہیں کہ دو ہاتھی لڑیں، جھگڑیں یا پیار کریں ‘ کچلی تو بے چاری گھاس ہی جاتی ہے… اب اس گھاس کو اس بات کا اندازہ ہے یا نہیں … یا وہ محض اس سے خوش ہے کہ ہاتھی اس کے اوپر چل رہے ہیں ‘ لڑ رہے ہیں ‘ جھگڑ رہے ہیں یا پیا ر کررہے ہیں ہمیں نہیںمعلوم… بالکل بھی نہیں معلوم۔ امریکہ اور بھارت دو ہاتھی ہیں… دنیا کی بڑی معیشتیں ہیں ‘ دو بڑی معاشی طاقتیں ہیں… جن کا اٹھنا بیٹھا ‘ جاگنا سونا … دینا کیلئے معنی رکھتا ہے اور سو فیصد رکھتا ہے…دونوں دنیا کی دو بڑی اور عظیم جمہوریتیں بھی ہیں … جن میں کبھی کبھی من مٹاؤ بھی ہو جاتا ہے اور… اوراس لئے ہو جاتا ہے کہ دونوں کے خیالات ایک جیسے ہوں … بات بات اور ہر بات پر ایک جیسے ہوں ‘ صاحب یہ ضروری نہیں ہے… بالکل بھی نہیں ہے ۔ امریکہ کے صدر ‘ڈونالڈ ٹرمپ لگتا ہے کہ کسی بات پر بھارت سے خفا ہیں… یا ناخوش ہیں اور… اور اسے چڑانے کیلئے وہ پاکستان کے ساتھ دوستیاں بڑھانے کا دکھاوا کررہے ہیں… اور اس لئے کررہے ہیں تاکہ اپنے اسٹریٹیجک ساتھی‘ بھارت کو چڑایا جائے ‘ اسے چھیڑا جائے … اسی لئے ٹرمپ نے پاکستان میں تیل کے ذخائر نکالنے اس ملک کے ساتھ کسی معاہدہ کی بات کی ہے… مقصد کچھ نہیں ‘ بالکل بھی نہیں سوائے اس ایک بات کے کہ … کہ بھارت پر دباؤ ڈالا جائے… اس بات کا دباؤ کہ وہ روس سے تیل خریدنا بند کر دے… اب بھارت دباؤ میں آجائیگا ‘ ایسا ممکن نہیں ہے … اور بالکل بھی نہیں ہے کہ… کہ بھارت روس سے ہی نہیں بلکہ ایران سے بھی تیل خریدتا ہے اور… اور ایک آزاد اور خود مختار ملک کی حیثیت سے ایسے فیصلے لیتا ہے جو اس کے بہترین مفاد میں ہوں … ہاں رہی پاکستان کے تیل کے ذخائر کی بات اور… اور اس پر امریکہ سے ہو ئے معاہدے ‘ جس کو اس ملک کے نادان وزیر اعظم نے تاریخی معاہدہ قرار دیا ہے‘ تو… تو بھارت کے پاس جتنے تصدیق شدہ تیل کے ذخائر موجود ہیں ‘ پاکستان کے پاس اس کا دس فیصد بھی نہیں ہے… لیکن… لیکن پھر بھی اگر ٹرمپ صاحب پاکستان کے ساتھ یہ معاہدہ کرتے ہیں تو… تو اس ملک کو سمجھ آنا چاہئے… یہ سمجھ کہ … کہ اس کی اوقات اس کچل جانے والی گھاس سے زیادہ کچھ نہیں ہے… بالکل بھی نہیں ہے ۔ہے نا؟




