اب تک دو ممالک نے امریکی صدر‘ڈونالڈ ٹرمپ کو امن کے نوبل انعام کیلئے نامزد کیا ہے… یہ ایسے دو ممالک ہیں جن میں بہت کچھ مشترک ہے … بہت کچھ… سب سے پہلے یہ کہ یہ دنیا کے واحد ایسے دو ممالک ہیں جن کا قیام نظریات… مذہبی نظریات کی بنیاد پر ہوا … دونوں ممالک امریکہ کے غلام ہیں … دونوں امریکہ کی خوشنودی حاصل کرنے میں ایک دوسرے سے سبقت لینے کی کوشش کرتے رہتے ہیں… دونوں ممالک کی سیاست میں امریکہ کا عمل دخل ہے… دونوں ممالک کی امریکہ مالی مدد کرتا رہتا ہے… ایک کی زیادہ ‘ دوسرے کی کم… دونوں ممالک نے اپنے ہمسایوں کا جینا حرام کردیا ہے… انہیں امن اور سکون سے رہنے نہیں دیتے ہیں… دونوں اپنے مقاصد کیلئے … مکروہ مقاصد کیلئے دہشت گردی کو آلہ کار بنائے ہو ئے ہیں… ایک سینہ ٹھوک کے سرکاری سطح پر سرکاری مشینری کو بروئے کار لا کر دہشت گردی کا مرتکب ہو رہا ہے… اور سالہال سے ہو رہا ہے… اور دوسرا اپنے پراکسیز کے ذریعے دہشت گردی کررہا ہے… سالوں اور دہائیوں سے کررہا ہے … اور اب ان دونوں نے ایک ایسے شخص کو دنیا میں قیام امن کیلئے نوبل انعام کیلئے نامزد کیا ہے جس کے ہاتھ خون سے رنگے ہو ئے ہیں … اندازہ لگائیے کہ اگر ٹرمپ ان ممالک میں سے ایک ملک کی حمایت کرنا بند کرے گا‘ اسے مہلک اور خطر ناک ہتھیاروں کی ترسیل روک دے گا ‘ اسے حد میں رہنے کو کہے گا … اسے دہشت گردی … سرکاری دہشت گردی پر مکمل روک لگانے کا حکم دے گا تو… تو کیا ہوگا… یہ ہو گا کہ… کہ غزہ میں دو برسوں سے جاری نسل کشی رک جائیگی ُ تھم جائیگی‘ وہاں کے معصوم بچے پیٹ بھر نہ سہی ‘لیکن زندہ رہنے کیلئے کچھ غذا حاصل کر پائیں گے … وہاں کی مائیں اپنے بچوں کو دودھ پلانے کیلئے اپنی گود میں لیں گی… نہ کہ ان کی لاشوں کو گود میں لے کر خون کے آنسو پینے کیلئے … لیکن صاحب کیا کہئے گا ان دونوں ممالک کو کہ… کہ یہ دونوں خود دہشت گردی اور قتل عام میں ملوث ہیں …برسوں اور دہائیوں سے ملوث ہیں اس لئے انہیں اس امریکی صدر ہی نوبل انعام کیلئے سب سے موذون شخص لگا اور…اور ان دونوں نے اسے نامزد کیا… ایک نے پہلے اور دو سرے نے بعد میں… لیکن دونوں نے کیا اور… اور اس لئے کیا کہ… کہ دونوں کے اہداف ایک ہیں… دہشت گردی اور دہشت گردی کی سرپرستی کرنا۔ ہے نا؟




