جموں کشمیر میں حالیہ کچھ برسوں کے دوران بجلی کے شعبے میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے ۔جہاں پن بجلی پیداوار بڑھانے کیلئے مختلف پن بجلی پروجیکٹ زیر تعمیر ہیں وہیں اے ٹی اینڈ سی نقصانات کی شرح کو کم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں لیکن ابھی اس میںکوئی قابل ذکر کامیابی حاصل نہیں ہو ئی ہے ۔
جموں کشمیر میں پن بجلی پیدا کرنے کی بے پناہ صلاحیت ہے ‘ جسے مختلف وجوہات کی بنا پر اب تک بروئے کار نہیں لا جا سکا ۔دوسری رکاٹوں کے علاوہ ہندوستان اور پاکستان میں ۱۹۶۰کی دہائی میں ہوئے سندھ طاس معاہدہ بھی ہے‘جسے امسال پہلگام میں سیاحوں پر ہوئے دہشت گردانہ حملے کے بعد معطل کردیا گیا ہے ۔ اب توقع کی جا رہی ہے کہ جو زیر تعمیر پروجیکٹ اس معاہدے کی وجہ سے تاخیر یا تعطل کا شکار ہو گئے تھے ‘ ان میں تیزی آئیگی اور وہ جلد پایہ تکمیل کو پہنچ جائیں گے ۔
جموںکشمیر اسمبلی کے حالیہ بجٹ اجلاس کے دوران پیش کئے گئے اقتصادی جائزہ کے مطابق جموں کشمیر کے متوقع ہائیڈرو پاور کی صلاحیت ۱۸ہزار میگا واٹ ہے، جس میں سے تقریباً ۱۴ہزار۸۶۷ میگا واٹ کی نشاندہی کی گئی ہے۔ان میں۱۱ہزار۲۸۳میگا واٹ چناب بیسن میں، ۳ہزار۸۴ میگا واٹ جہلم بیسن میں اور ۵۰۰ میگا واٹ راوی بیسن میں شامل ہیں۔
جائزے کے مطابق شناخت شدہ صلاحیت میں سے، اب تک صرف۳ہزار۵۴۰ میگا واٹ یعنی۸۱ء۲۳ (شناخت شدہ صلاحیت میں) کو استعمال میں لایا گیا ہے، جس میں۴ء۱۱۹۷ میگا واٹ ریاستی شعبے میں‘۲۲۵۰ میگا واٹ مرکزی شعبے میں اور۷۵ء۹۲ میگا واٹ آئی پی پی موڈ (انڈپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز) میں شامل ہے۔
ان اعداد و شمار سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ جموںکشمیر کو بجلی اور توانائی کے شعبے میں نہ صرف خود کفیل بنایا جا سکتا ہے بلکہ اگر پن بجلی صلاحیت کو بروئے کار لایا جا تا ہے تو ایک دن اس سے ملک کی دوسری ریاستوں کی بجلی کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے اس کا تجاری استعمال بھی کیا جا سکتا ہے ۔ لیکن یہ ایک طویل راستہ ہے کیونکہ آج کی صورتحال یہ ہے کہ جموں کشمیر اپنی بجلی کی ضروریات کو بھی پورا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے ۔
جموں کشمیر میں بجلی کی مانگ اور دستیابی کے درمیان فرق تقریباً ۱۴ تا۱۶ فیصد ہے۔ یہ بنیادی طور پر سردیوں کے دوران پن بجلی پروجیکٹوں کی پیداوار میں کمی کی وجہ سے ہے، جو جموں کشمیر کے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں کمی کے نتیجے میں ہوتا ہے۔ سردیوں کے مہینوں میں بجلی کی ضرورت میں کمی کو پورا کرنے کیلئے دیگر ریاستوں کے ساتھ دو طرفہ انتظام کیے جاتے ہیں جن کے پاس سردیوں میں اضافی بجلی ہوتی ہے اور انہیں گرمیوں میں جموں کشمیر سے بجلی کی ضرورت ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں، غیر مختص شدہ بجلی بھی وزارت بجلی سے نی/مغربی ریاستوں کے مختص شدہ کوٹے سے حاصل کی جاتی ہے۔
بجلی صارف تک ترسیل اور تقسیم کے نیٹ ورک کے ذریعے پہنچتی ہے جہاں ٹی اینڈ ڈی نقصانات کے ساتھ تجارتی نقصانات بھی ہوتے ہیں۔ اس طرح کے نقصانات جموں و کشمیر میں کافی زیادہ ہیں اور ان کو کم کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں جیسے کہ نظام کی بہتری اور بجلی چوری کے خلاف سخت کارروائیاں کرنا۔ آمدنی کی وصولی کی مؤثرائی اور بلنگ کی مؤثرائی نومبر ۲۰۲۴ کے آخر تک ۸۱فیصدتک بہتر ہوئی ہے۔ اس کے نتیجے میں اے ٹی اینڈ سی نقصانات۸۲ء۱۸فیصد تک کم ہوگئے ہیں، جو بجلی کے نقصان میں کمی اور بجلی کی فراہمی کے نظام کی مؤثرائی کو بڑھاتا ہے۔
اس وقت جموںکشمیر میں پن بجلی کے جو زیر تعمیر پروجیکٹ ہیں ان میں ایک ہزار میگاواٹ کی صلاحیت والاپکل ڈول پروجیکٹ بھی شامل ہے ۔یہ جموں کشمیر کے سب سے اہم توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں سے ایک ہے‘جس پر اب تک ۷۰ فیصد کام مکمل ہو گیا ہے ۔ اس بات کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ آئندہ سال کے آخر یعنی دسمبر۲۰۲۶ تک یہ پروجیکٹ مکمل ہو جائیگا ۔حکام کاکہنا ہے کہ جب یہ پروجیکٹ شروع ہوجائیگا تو اس سے نہ صرف جموںکشمیر کے بجلی کی فراہمی کے منظر نامے میں بہتری آئیگی بلکہ یہ یو ٹی میں سب سے بڑا پن بجلی پروجیکٹ ہوگا جو دریائے سندھ کے نظام پر اس جانب کا سب سے اونچا ڈیم ہوگا۔
جموںکشمیر کو بجلی یا توانائی کی ضروریات میں خود کفیل بناناایک طویل راستہ ہے ۔اس راستے میںکئی رکاوٹیں اور دشواریاں بھی حائل ہیں ۔ جموںکشمیر کی حکومت کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ وہ اپنے بل بوتے پر پن بجلی پروجیکٹ تعمیر کر سکے ۔ اس کے علاوہ اے ٹی اینڈ سی نقصانات کی شرح کو مزید کم کرنا کسی چیلنج سے کم نہیں ہے جبکہ جموں اور کشمیر دونوں صوبوں میں اگرچہ سمارٹ میٹروں کی تنصیب کو ہاتھ میں لیا گیا ہے ‘ لیکن سو فیصد ہدف کرنے میں ابھی بہت عرصہ لگ سکتا ہے کیونکہ کئی مقامات پر لوگ ان میٹروں کی تنصیب کیخلاف ہیں ۔
ایک ایسی جگہ ‘ جہاں پن بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت زائد از ۱۸ ہزار میگاواٹ ہو ‘ میں صارفین کو ۴x۲۴ بجلی فراہم کرنا آج بھی ایک بڑا چیلنج لگ رہا ہے ‘ لیکن گزشتہ چند برسوں میں اس شعبے پر جو توجہ دی جا رہی ہے اور پن بجلی کے جو پروجیکٹ زیر تعمیر ہیں ‘ ان کی بر قت تکمیل کو یقینی بنانے سے یہ خواب بھی پورا ہوسکتا ہے … یہ خواب پورا ہوناچاہیے۔





