تو صاحب سوال کیا جا رہا ہے ‘ پوچھا جارہا ہے کہ……. کہ راگھو چڑا اور ان کے دوسرے ساتھی بی جے پی میں شامل کیو ں ہو ئے ۔صاحب ‘ہمارا جاننا اور ماننا ہے کہ یہ سوال ہی غیر معقول ہے اور غیر مناسب بھی کہ ……. کہ سیاستدان تھوڑے ہی نا یہ حلف نامہ دیتے ہیں …….ساستدان میں داخل ہوتے وقت دیتے ہیں کہ……. کہ وہ کسی اور جماعت میں شامل نہیں ہو ں گے…….بالکل بھی نہیں ہوں گیں ۔ نہیں صاحب ایسا حلف نامہ کوئی نہیں دیتا ہے …….بالکل بھی دیتا ہے ۔لیکن یہ بات کوئی نہیں سمجھتا ہے …….وہ تو بالکل بھی نہیں ‘ جو چڑا اور ان کے ساتھیوں کو بی جے پی میں شامل ہونے پر طرح طرح کے القاب سے نواز رہے ہیں …….اور سو فیصد نواز رہے ہیں ۔ لیکن صاحب یہ حضرات ایک بات نہیں سمجھ رہے ہیں ……. اور بالکل بھی نہیں سمجھ رہے ہیں کہ ……. آسان نہیں ہے اور بالکل بھی نہیں ہے……. بی جے پی سے دوری بنائے رکھنا آسان نہیں ہے ۔ جو کوئی رکھ پایا ہے ‘ اب تک دوری بنائے رکھ پایا ہے ہم اس کے صبر کی داد دیئے بغیر نہیں رہ سکتے ہیں ……. بالکل بھی نہیں رہ سکتے ہیں ۔چڑا نے بھی صبر کیا ‘ کچھ ایک برسوں تک کیا ‘ لیکن …….لیکن جب اس کا پیمانہ صبر بھی لبریز ہو گیا تو ……. تو اس نے ساتھیوں سمیت بی جے پی میں شمولیت اختیار کی ……. اور اختیار کرکے اس نے ثبوت دیا ……. اس بات کا ثبوت دیا کہ ……. کہ اس میں سیاسی بصیرت کوٹ کوٹ کے بھری پڑی ہے اور ……. اور اس لئے کہ اس کی سمجھ میں یہ بات آگئی ہے اور سو فیصد آگئی ہے کہ ……. کہ بی جے پی ایسی سیاسی جماعت‘ یا واحد سیاسی جماعت ہے ‘ جس کا فی الحال سورج غروب ہونے والا نہیں ہے …….جو فی الحال مسند اقتدار پر براجمان رہے گی اور سو فیصد رہے گی ۔اس لئے اس جماعت سے دوری بنائے رکھنا ‘ کوئی عقل مندی نہیں ہے ‘ دانش مندی نہیں ہے ……. بالکل بھی نہیں ہے اور …….اور چڑا نے اس میں شمولیت اختیار کرکے ثابت کیا کہ وہ بے صبرا ہے یا نہیں لیکن عقلمند ضرور ہے ‘ دانشمند بھی ہے کہ ……. کہ لوک سبھا کے حالیہ خصوصی اجلاس کے دوران امیت بھائی شاہ کی یہ بات مذاق نہیں تھی ……. بالکل بھی نہیں تھی ……. وہ بات جو انہوں نے اپوزیشن سے کہ ……. کہ آپ لوگوں کو اِس طرف(حکومتی بنچوں ) کی طرف پہنچنے کے انتظار میں بال بھی سفید ہوں گے ‘ لیکن پھر بھی آپ اِدھر نہیں آسکتے ہیں اور……. اور چڑا اور ان کے ساتھی اس انتظار میں اپنے بال سفید نہیں کرنا چاہتے تھے ……. بالکل بھی نہیں کرنا چاہتے تھے ۔ ہے نا؟




