جموں و کشمیر میں صحت کے شعبے کی بہتری ہمیشہ سے ایک اہم مسئلہ رہی ہے، خاص طور پر وادیٔ کشمیر جیسے جغرافیائی طور پر الگ تھلگ خطے میں جہاں سخت موسمی حالات اور محدود وسائل عوام کی مشکلات میں اضافہ کرتے ہیں۔ ایسے میں آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمز) اونتی پورہ کا منصوبہ ایک امید کی کرن کے طور پر سامنے آیا تھا۔ تاہم،۲۰۱۹ میں اعلان کے بعد سے اس منصوبے کی مسلسل تاخیر نے نہ صرف اس کی افادیت کو سوالیہ نشان بنایا ہے بلکہ عوامی صحت کے نظام کی کمزوریوں کو بھی بے نقاب کیا ہے۔
ایمز کشمیر کو پردھان منتری سواستھیا سرکشا یوجنا کے تحت قائم کرنے کا مقصد یہ تھا کہ اعلیٰ معیار کی سپر اسپیشلٹی طبی سہولیات کو ملک کے دور دراز علاقوں تک پہنچایا جائے۔ اس منصوبے کو جموں و کشمیر کے لیے وزیر اعظم کے ترقیاتی پیکیج کا حصہ بنایا گیا، جبکہ اس کی تعمیر کی ذمہ داری سینٹرل پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ کو سونپی گئی۔ لیکن عملی طور پر یہ منصوبہ انتظامی رکاوٹوں، سیکورٹی خدشات اور تکنیکی مسائل کی بھینٹ چڑھتا رہا ہے۔
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ فروری۲۰۲۶تک اس منصوبے کی تکمیل کی شرح تقریباً۷۰فیصد رہی، جو پچھلے سال کے مقابلے میں کوئی خاص پیش رفت ظاہر نہیں کرتی۔ یہ جمود اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ منصوبہ محض وقت کی تاخیر کا شکار نہیں بلکہ اس کے نفاذ میں بنیادی نوعیت کی مشکلات درپیش ہیں۔ سائٹ کے انتخاب پر اٹھنے والے سوالات، پہاڑی علاقے تک رسائی کے لیے سڑک کی عدم موجودگی، اور اضافی زمین کے حصول جیسے مسائل نے اس منصوبے کو بار بار پیچھے دھکیلا ہے۔
یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ سیکورٹی خدشات کے باعث منصوبے کے ماسٹر پلان میں تبدیلیاں کرنی پڑیں، جس سے ابتدائی مراحل ہی میں تاخیر ہوئی۔ بعد ازاں کووڈ۱۹وبا، موسمی حالات اور مزدوروں کی کمی نے بھی تعمیراتی کام کو متاثر کیا۔ اگرچہ اب سڑک کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے، مگر اس کے باوجود پیش رفت کی رفتار تسلی بخش نہیں۔
حکومتی سطح پر اس تاخیر کو’نفاذی مسائل‘ قرار دیا گیا ہے، اور یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ منصوبہ۲۰۲۶کے اختتام تک مکمل ہو جائے گا۔ تاہم، ماضی کے تجربات اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ ان دعووں پر مکمل اعتماد کیا جائے۔ اس سے پہلے بھی متعدد ڈیڈ لائنز مقرر کی گئیں، مگر ہر بار منصوبہ اپنی منزل سے دور ہی رہا۔
ایمز اونتی پورہ کی تاخیر کا سب سے بڑا اثر عام عوام پر پڑ رہا ہے۔ کشمیر کے مریضوں کو اب بھی پیچیدہ بیماریوں کے علاج کے لیے سرینگر کے بڑے اسپتالوں جیسے صورہ میڈیکل انسٹچوٹ اور صدر ہسپتال پر انحصار کرنا پڑتا ہے، جو پہلے ہی مریضوں کے بوجھ سے دبے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ، کئی مریضوں کو دہلی یا دیگر بڑے شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے، جو نہ صرف مہنگا بلکہ جسمانی و ذہنی طور پر بھی تھکا دینے والا عمل ہے۔
پیر پنجال کے پہاڑی سلسلے کے باعث کشمیر کی جغرافیائی تنہائی اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیتی ہے۔ سردیوں میں برف باری کے سبب کئی علاقے منقطع ہو جاتے ہیں، جس سے بروقت علاج تک رسائی تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایسے حالات میں ایمز جیسے ادارے کی عدم موجودگی صرف ایک انتظامی ناکامی نہیں بلکہ انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن جاتی ہے۔
دوسری جانب، حالیہ اعداد و شمار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ جموں و کشمیر کی تقریباً۸۰ء۵فیصد آبادی علاج کے لیے سرکاری اسپتالوں پر انحصار کرتی ہے۔ یہ تناسب ملک کے دیگر ریاستوں کے مقابلے میں کافی زیادہ ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ عوامی صحت کا نظام یہاں لوگوں کے لیے ایک اہم سہارا ہے۔ سرکاری اسپتالوں میں علاج کے اخراجات نسبتاً کم ہونے کے باعث عوام کو مالی تحفظ بھی حاصل ہوتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق، جموں و کشمیر میں فی مریض اوسط اخراجات تقریباً۲۳ ہزار روپے ہیں، جبکہ سرکاری اسپتالوں میں یہ خرچ تقریباً ۱۰ ہزار روپے تک محدود رہتا ہے۔ اس کے برعکس، نجی اسپتالوں میں یہی اخراجات۵۰ ہزار روپے سے تجاوز کر جاتے ہیں۔ یہ فرق واضح کرتا ہے کہ سرکاری صحت کا نظام عوام کے لیے ایک حفاظتی ڈھال کا کام کر رہا ہے۔
تاہم، یہ بھی حقیقت ہے کہ سرکاری اسپتالوں کو عملے کی کمی، سہولیات کی محدودیت اور بڑھتے ہوئے مریضوں کے بوجھ جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ ایسے میں ایمز اونتی پورہ جیسے منصوبے کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے، کیونکہ یہ نہ صرف موجودہ نظام پر دباؤ کم کر سکتا ہے بلکہ جدید طبی سہولیات کو مقامی سطح پر فراہم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
یہاں ایک اور اہم پہلو بھی قابلِ غور ہے، اور وہ ہے صحت کے شعبے میں پالیسی سازی اور اس کے مؤثر نفاذ کا فقدان۔ اگرچہ بڑے بڑے منصوبوں کا اعلان کرنا آسان ہوتا ہے، مگر ان کی بروقت تکمیل ہی اصل کامیابی کا معیار ہوتی ہے۔ ایمز اونتی پورہ کی تاخیر اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ منصوبہ بندی اور عمل درآمد کے درمیان ایک واضح خلا موجود ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اس منصوبے کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔ اس میں نہ صرف تعمیراتی کام کی رفتار کو تیز کرنا شامل ہے بلکہ انتظامی رکاوٹوں کو دور کرنا اور ذمہ دار اداروں کو جوابدہ بنانا بھی ضروری ہے۔ شفافیت اور نگرانی کے مؤثر نظام کے بغیر ایسے منصوبے محض کاغذی دعووں تک محدود رہ جاتے ہیں۔
ایمز جموں کی مثال ہمارے سامنے ہے، جہاں خدمات کا آغاز ہو چکا ہے اور وہاں کے عوام اس کے فوائد حاصل کر رہے ہیں۔ کشمیر کے عوام بھی اسی حق کے مستحق ہیں۔ اگر یہ منصوبہ مزید تاخیر کا شکار ہوتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ایک پورا خطہ جدید طبی سہولیات سے محروم رہے گا۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ایمز اونتی پورہ کی تکمیل صرف ایک ترقیاتی منصوبہ نہیں بلکہ انسانی زندگیوں سے جڑا ہوا ایک اہم مسئلہ ہے۔ اس کی بروقت تکمیل نہ صرف صحت کے شعبے میں ایک بڑی پیش رفت ہوگی بلکہ یہ عوام کے اعتماد کو بحال کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ وعدوں کو عملی جامہ پہنایا جائے اور کشمیر کے عوام کو وہ سہولیات فراہم کی جائیں جن کے وہ حقدار ہیں۔





