سرینگر: وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے آج جموں و کشمیر بھر میں مقدس ماہ رمضان کے انتظامات کا جائزہ لینے کیلئے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی۔
مقدس مہینے کے دوران عوامی سہولیات کی بلا رکاوٹ فراہمی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے متعلقہ محکموں کو عوام کی سہولت اور فلاح کیلئے پیشگی اقدامات کرنے کی ہدایت دی۔
ایک سرکاری بیان کے مطابق وزیراعلیٰ نے جموں و کشمیر میں صفائی مہم کو تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا، خاص طور پر عبادت گاہوں، زیارت گاہوں، مساجد اور دیگر اجتماعاتی مقامات کے اطراف۔ انہوں نے کوڑا کرکٹ اٹھانے کی تعداد بڑھانے اور رمضان بھر صفائی برقرار رکھنے کی ہدایت دی۔
عمرعبداللہ نے تمام محکموں کو ہدایت دی کہ عوامی خدمات کی بلا تعطل فراہمی، مؤثر شکایت ازالہ اور عبادت گاہوں پر ضروری انتظامات یقینی بنائے جائیں تاکہ لوگوں کیلئے پرامن اور آرام دہ رمضان ممکن ہو سکے۔
وزیراعلیٰ نے متعلقہ محکموں کو پورے جموں و کشمیر میں بجلی اور پانی کی فراہمی، ضروری اشیاء کی دستیابی، بازاروں کی نگرانی، طبی تیاری اور حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت دی۔
کمشنر سیکریٹری جی اے ڈی/اطلاعات ایم راجو نے رمضان کے پرامن انعقاد کیلئے کیے گئے انتظامات پر تفصیلی پریزنٹیشن پیش کی۔
سحری اور افطار کے اوقات میں بلا تعطل بجلی کی فراہمی کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے پاور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کو ہدایت دی کہ اگر بجلی کٹوتی ناگزیر ہو تو اس کی مناسب منصوبہ بندی کی جائے اور ٹرانسفارمر بینکوں کی بروقت مرمت یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے سپلائی کی نگرانی کیلئے نوڈل افسران مقرر کرنے کی بھی ہدایت دی۔
اجلاس میں پینے کے پانی کی دستیابی کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے جل شکتی محکمہ کو ہدایت دی کہ ہموار فراہمی یقینی بنائی جائے اور ضرورت کے مطابق خصوصی ٹینکر سروس فراہم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ پانی کی قلت والے علاقوں میں افطار سے پہلے ہی ٹینکر تعینات کیے جائیں تاکہ لوگ بغیر کسی پریشانی کے وقت پر روزہ افطار کر سکیں۔
وزیراعلیٰ نے چاول، آٹا، چینی، ایل پی جی، پولٹری، سبزیاں، مچھلی اور دیگر ضروری اشیاء کی دستیابی یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔ انہوں نے ذخیرہ اندوزی، بلیک مارکیٹنگ اور منافع خوری روکنے کیلئے سخت مارکیٹ چیکنگ اور نرخ ناموں کی نمایاں نمائش کی ہدایت دی۔
عوامی سلامتی کے حوالے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ چوبیس گھنٹے گشت، اینٹی سبوتاژ چیکنگ اور مؤثر ہجوم کنٹرول کے ذریعے حفاظتی انتظامات مزید مضبوط کیے جائیں گے، خاص طور پر جمعہ کی نماز کے دوران۔ نمایاں مقامات پر فائر ٹینڈرز تعینات کیے جائیں گے جبکہ مساجد اور مذہبی مقامات کے اطراف ٹریفک نظم کو بہتر بنایا جائے گا تاکہ بھیڑ سے بچا جا سکے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ رمضان کے دوران طبی خدمات ہائی الرٹ پر رہیں گی اور اجتماعاتی مقامات پر ایمرجنسی طبی انتظامات اور ایمبولینس تعینات ہوں گی۔ شکایات کے فوری ازالے کیلئے متعلقہ فریقین کے باقاعدہ اجلاس بھی منعقد کیے جائیں گے۔
وزیراعلیٰ نے محکمہ صحت و طبی تعلیم کو افطار کے اوقات میں ڈاکٹروں، پیرامیڈکس اور دیگر عملے کی تعیناتی یقینی بنانے کی ہدایت دی اور کہا کہ اکثر ان اوقات میں عملے کی کمی کے باعث مریضوں کو مشکلات پیش آتی ہیں۔
عمرعبداللہ نے غریب خاندانوں، بیواؤں اور یتیموں کو ترجیحی بنیادوں پر امداد کی فراہمی اور چندہ جمع کرنے کے عمل کی سخت نگرانی کی ہدایت بھی دی تاکہ دھوکہ دہی روکی جا سکے اور حقیقی مستحقین تک مدد پہنچے۔
ٹرانسپورٹ سہولیات خصوصاً آر ٹی سی سروسز اور ای بسوں کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے مناسب روسٹر تیار کرنے کی ہدایت دی کیونکہ افطار کے اوقات میں زیادہ تر ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب ہو جاتی ہے۔ انہوں نے مسافروں کیلئے مناسب پبلک ٹرانسپورٹ کی دستیابی یقینی بنانے پر زور دیا۔
وزیراعلیٰ نے اعادہ کیا کہ تمام محکمے باہمی تال میل سے کام کریں تاکہ جموں و کشمیر بھر میں صفائی، ضروری اشیاء، بلا تعطل یوٹیلیٹیز، طبی تیاری، سکیورٹی اور ٹریفک نظم کے ساتھ پرامن رمضان کو یقینی بنایا جا سکے۔










