پیر, جولائی 20, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اہم ترین

نوجوان آنے والے مستقبل کے معمار اور تشکیل دینے والے ہیں:سنہا

’تعلیمی اداروں خود کو ترقیافتہ بھارت ۲۰۴۷ کے ویژن سے ہم آہنگ کریں ‘

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-02-18
in اہم ترین, تازہ تریں, ٹاپ سٹوری
A A
نوجوان آنے والے مستقبل کے معمار اور تشکیل دینے والے ہیں:سنہا
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

۳۵ء۹ڈگری سینٹی گریڈ:کشمیر جھلس رہا ہے

’جموں کشمیر کو علم و ادب اور تحقیق کا قومی مرکز بنانا ہمارا ہدف‘

جموں: لیفٹیننٹ گورنر ‘ منوج سنہا نے منگل کے روز تعلیمی اداروں کو ’ترقیافتہ بھارت ۲۰۴۷‘کے وژن کی تکمیل کیلئے کیمپسز کو تبدیل کرنے پر زور دیا۔
    انہوں نے ایسے ٹیکنالوجیکل ایکو سسٹمز تشکیل دینے کی ضرورت اجاگر کی جو مسلسل خود کو نئے سرے سے ڈھالتے رہیں، جمود یا اطمینان کا شکار نہ ہوں اور تبدیلی کو موقع کے طور پر قبول کریں۔
    لیفٹیننٹ گورنر نے کہا’’ٹیکنالوجی انقلاب میں بھارت کی خواہش صرف شرکت تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ ہمیں قیادت کرنی ہوگی۔ آج مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ انسانی تہذیب کے سفر کو نئی شکل دے رہے ہیں۔ جو قومیں ان ٹیکنالوجیز پر عبور حاصل کریں گی وہ آئندہ صدی کے اصول تحریر کریں گی‘‘۔
    سنہا یونیورسٹی آف جموں کے اسکل، انکیوبیشن، انوویشن اینڈ انٹرپرینیورشپ ڈیولپمنٹ سینٹر کے زیر اہتمام ’انووی تھون 1.0‘کے تحت منعقدہ۴۸گھنٹے کے قومی سطح کے ہیکاتھون کی اختتامی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ اس ہیکاتھون کا مقصد جدت کو فروغ دینا، ٹیکنالوجی پر مبنی حل کی تیاری کی حوصلہ افزائی اور کاروباری ذہنیت کو مضبوط بنانا تھا۔
    لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ آج کا بھارتی نوجوان مستقبل کو کنارے سے دیکھنے والا نہیں بلکہ آنے والے کل کا معمار اور ڈیزائنر ہے۔ انہوں نے کہا کہ انقلابی جدت، نئے خیالات اور جدید تحقیق قوم کی تقدیر بدلنے کی طاقت رکھتے ہیں۔
    سنہا نے کہا’’نوجوان نسل کو تبدیلی لانے والی اختراعات کا تعاقب کرنا چاہیے کیونکہ ڈیولپڈ انڈیا۲۰۴۷صرف نعرہ نہیں بلکہ ایک عہد ہے  اپنے آپ سے اور آنے والی نسلوں سے کیا گیا وعدہ‘‘۔
    ایل جی نے کہا کہ ہمارے کیمپس اب محض ڈگری دینے والے ادارے نہیں رہے بلکہ خیالات کی فیکٹریاں اور اختراع کی ورکشاپس بن چکے ہیں جہاں امکانات حقیقت کا روپ دھارتے ہیں۔
    سنہا نے انووی تھون 1.0 کے ذریعے کلاس روم تھیوری اور عملی سیکھنے، تجریدی تصورات اور عملی اطلاق کے درمیان خلا کم کرنے کی منفرد کوشش پر یونیورسٹی آف جموں کی ستائش کی۔ انہوں نے کہا کہ اس کے پانچ موضوعاتی ستون مصنوعی ذہانت، سائبر فزیکل سسٹمز، پائیداری، ہیلتھ ٹیک اور ذمہ دار سیاحت بھارت کو ترقی یافتہ ملک بنانے کے سفر کے حقیقی چیلنجز اور مواقع کی نمائندگی کرتے ہیں۔
    لیفٹیننٹ گورنر نے تعلیمی اداروں کو کاروباری جذبہ پیدا کرنے، اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم کو مضبوط بنانے اور پروٹوٹائپس اور مصنوعات، تصورات اور کمپنیوں کے درمیان خلا ختم کرنے کی ذمہ داری سونپی۔انہوں نے کہا کہ جو مہارتیں صرف پانچ سال پہلے روزگار کی ضمانت دیتی تھیں وہ اب متروک ہو رہی ہیں۔
    ایل جی نے کہا’’مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ، بلاک چین، کوانٹم کمپیوٹنگ اور سنتھیٹک بائیولوجی اب دور کے امکانات نہیں بلکہ ہمارا حال ہیں اور تیزی سے ترقی کر رہے ہیں۔ کلاس رومز کو غیر فعال تعلیم سے فعال تخلیق کی طرف منتقل ہونا ہوگا۔ طلبہ سے یہ پوچھنا بھول جائیں کہ ‘آپ کیا جانتے ہیں؟’ اب سوال یہ ہے ‘آپ کیا بنا سکتے ہیں؟’ انفرادی کامیابی کے بجائے بین الشعبہ جاتی ٹیم ورک کو ترجیح دینی ہوگی‘‘۔
    لیفٹیننٹ گورنر نے زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کے اوزاروں کا مقصد انسانی ذہانت کو بدلنا نہیں بلکہ اسے مضبوط اور وسیع بنانا ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا’’جیسے جیسے سائبر فزیکل سسٹمز اور ابھرتی ٹیکنالوجیز ڈیجیٹل اور طبعی دنیا کی سرحدیں مٹا رہی ہیں، ہمیں ایسے محفوظ اور مضبوط حل تیار کرنے ہوں گے جو عام لوگوں کی زندگی بہتر بنائیں، نہ کہ صرف تکنیکی ماہرین کو متاثر کریں‘‘۔
    سنہا نے نوجوانوں اور کاروباری افراد کو ٹیکنالوجی پر مبنی حلوں پر توجہ دینے اور متعلقہ تصورات کو قابل عمل تجارتی اوزاروں میں تبدیل کرنے کی ترغیب دی جو معاشرے، اہم شعبوں اور قومی ترقی کو آگے بڑھائیں۔
    انہوں نے کہا،’’علم کو تخلیق میں، علیحدگی کو ہم آہنگی میں اور خواہشات کو کامیابی میں بدل دیں۔ مستقبل میں صرف شریک نہ ہوں بلکہ اسے متعین کرنے کیلئے تیار رہیں‘‘۔
    اختتامی تقریب میں وائس چانسلر یونیورسٹی آف جموں پروفیسر امیش رائے، ڈائریکٹرایس آئی آئی ای ڈی سی پروفیسر الکا شرما، پروفیسر انیل گپتا، ڈاکٹر جتیندر منہاس، فیکلٹی ممبران، جدت کار اور بڑی تعداد میں اسٹارٹ اپ کاروباری افراد نے شرکت کی۔
ShareTweetSendShareSend
Previous Post

 عمر عبداللہ کاسرینگر میں رمضان المبارک کے انتظامات کا جائزہ 

Next Post

’ریاستی درجے کی جلد بحالی متوقع‘

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

۳ء۳۵ڈگری سینٹی گریڈ :سرینگر میں دوسرا گرم ترین دن
اہم ترین

۳۵ء۹ڈگری سینٹی گریڈ:کشمیر جھلس رہا ہے

2026-07-20
نشہ مکت جموں کشمیر کیلئے ۱۰۰  روزہ مہم
اہم ترین

’جموں کشمیر کو علم و ادب اور تحقیق کا قومی مرکز بنانا ہمارا ہدف‘

2026-07-20
محبوبہ کا این سی پر جنوبی کشمیر کو نظر انداز کرنے کا الزام
اہم ترین

پی ڈی پی کاجنتر منتر پر این سی کے مجوزہ اجلاس میں مشروط آمادگی کا اظہار

2026-07-20
نئی پارلیمنٹ کی عمارت روایت اور جدیدیت کا حسین امتزاج
اہم ترین

پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں ہنگامہ آرائی کے آثار ‘ حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے

2026-07-20
اہم ترین

محمد جعفر اخون ’پارٹی مخالف  سرگرمیوں‘ پر چھ برس کیلئے خارج

2026-07-20
جموں کشمیر پولیس میں انسپکٹر سطح پر بڑے پیمانے پر رد و بدل
اہم ترین

پونچھ میں۲۵کروڑ روپے سے زائد مالیت کی ہیروئن ضبط

2026-07-20
شوپیاں گرینیڈ حملے میں ملوث تین افراد گرفتار، اسلحہ بر آمد:پولیس
اہم ترین

راجوری اور کٹھوعہ میں مبینہ مویشی اسمگلر  سمیت دو افراد پی ایس اے کے تحت نظر بند

2026-07-20
پراپرٹی ٹیکس کے خلاف جموں جزوی طور پر بند
اہم ترین

بھدرواہ فائرنگ میں نوجوان کی ہلاکت پر ڈوڈہ اور کشتواڑ میں جزوی بند

2026-07-20
Next Post
’ریاستی درجے کی جلد بحالی متوقع‘

’ریاستی درجے کی جلد بحالی متوقع‘

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.