جموں: لیفٹیننٹ گورنر ‘ منوج سنہا نے منگل کے روز تعلیمی اداروں کو ’ترقیافتہ بھارت ۲۰۴۷‘کے وژن کی تکمیل کیلئے کیمپسز کو تبدیل کرنے پر زور دیا۔
انہوں نے ایسے ٹیکنالوجیکل ایکو سسٹمز تشکیل دینے کی ضرورت اجاگر کی جو مسلسل خود کو نئے سرے سے ڈھالتے رہیں، جمود یا اطمینان کا شکار نہ ہوں اور تبدیلی کو موقع کے طور پر قبول کریں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا’’ٹیکنالوجی انقلاب میں بھارت کی خواہش صرف شرکت تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ ہمیں قیادت کرنی ہوگی۔ آج مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ انسانی تہذیب کے سفر کو نئی شکل دے رہے ہیں۔ جو قومیں ان ٹیکنالوجیز پر عبور حاصل کریں گی وہ آئندہ صدی کے اصول تحریر کریں گی‘‘۔
سنہا یونیورسٹی آف جموں کے اسکل، انکیوبیشن، انوویشن اینڈ انٹرپرینیورشپ ڈیولپمنٹ سینٹر کے زیر اہتمام ’انووی تھون 1.0‘کے تحت منعقدہ۴۸گھنٹے کے قومی سطح کے ہیکاتھون کی اختتامی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ اس ہیکاتھون کا مقصد جدت کو فروغ دینا، ٹیکنالوجی پر مبنی حل کی تیاری کی حوصلہ افزائی اور کاروباری ذہنیت کو مضبوط بنانا تھا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ آج کا بھارتی نوجوان مستقبل کو کنارے سے دیکھنے والا نہیں بلکہ آنے والے کل کا معمار اور ڈیزائنر ہے۔ انہوں نے کہا کہ انقلابی جدت، نئے خیالات اور جدید تحقیق قوم کی تقدیر بدلنے کی طاقت رکھتے ہیں۔
سنہا نے کہا’’نوجوان نسل کو تبدیلی لانے والی اختراعات کا تعاقب کرنا چاہیے کیونکہ ڈیولپڈ انڈیا۲۰۴۷صرف نعرہ نہیں بلکہ ایک عہد ہے اپنے آپ سے اور آنے والی نسلوں سے کیا گیا وعدہ‘‘۔
ایل جی نے کہا کہ ہمارے کیمپس اب محض ڈگری دینے والے ادارے نہیں رہے بلکہ خیالات کی فیکٹریاں اور اختراع کی ورکشاپس بن چکے ہیں جہاں امکانات حقیقت کا روپ دھارتے ہیں۔
سنہا نے انووی تھون 1.0 کے ذریعے کلاس روم تھیوری اور عملی سیکھنے، تجریدی تصورات اور عملی اطلاق کے درمیان خلا کم کرنے کی منفرد کوشش پر یونیورسٹی آف جموں کی ستائش کی۔ انہوں نے کہا کہ اس کے پانچ موضوعاتی ستون مصنوعی ذہانت، سائبر فزیکل سسٹمز، پائیداری، ہیلتھ ٹیک اور ذمہ دار سیاحت بھارت کو ترقی یافتہ ملک بنانے کے سفر کے حقیقی چیلنجز اور مواقع کی نمائندگی کرتے ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے تعلیمی اداروں کو کاروباری جذبہ پیدا کرنے، اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم کو مضبوط بنانے اور پروٹوٹائپس اور مصنوعات، تصورات اور کمپنیوں کے درمیان خلا ختم کرنے کی ذمہ داری سونپی۔انہوں نے کہا کہ جو مہارتیں صرف پانچ سال پہلے روزگار کی ضمانت دیتی تھیں وہ اب متروک ہو رہی ہیں۔
ایل جی نے کہا’’مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ، بلاک چین، کوانٹم کمپیوٹنگ اور سنتھیٹک بائیولوجی اب دور کے امکانات نہیں بلکہ ہمارا حال ہیں اور تیزی سے ترقی کر رہے ہیں۔ کلاس رومز کو غیر فعال تعلیم سے فعال تخلیق کی طرف منتقل ہونا ہوگا۔ طلبہ سے یہ پوچھنا بھول جائیں کہ ‘آپ کیا جانتے ہیں؟’ اب سوال یہ ہے ‘آپ کیا بنا سکتے ہیں؟’ انفرادی کامیابی کے بجائے بین الشعبہ جاتی ٹیم ورک کو ترجیح دینی ہوگی‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنر نے زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کے اوزاروں کا مقصد انسانی ذہانت کو بدلنا نہیں بلکہ اسے مضبوط اور وسیع بنانا ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا’’جیسے جیسے سائبر فزیکل سسٹمز اور ابھرتی ٹیکنالوجیز ڈیجیٹل اور طبعی دنیا کی سرحدیں مٹا رہی ہیں، ہمیں ایسے محفوظ اور مضبوط حل تیار کرنے ہوں گے جو عام لوگوں کی زندگی بہتر بنائیں، نہ کہ صرف تکنیکی ماہرین کو متاثر کریں‘‘۔
سنہا نے نوجوانوں اور کاروباری افراد کو ٹیکنالوجی پر مبنی حلوں پر توجہ دینے اور متعلقہ تصورات کو قابل عمل تجارتی اوزاروں میں تبدیل کرنے کی ترغیب دی جو معاشرے، اہم شعبوں اور قومی ترقی کو آگے بڑھائیں۔
انہوں نے کہا،’’علم کو تخلیق میں، علیحدگی کو ہم آہنگی میں اور خواہشات کو کامیابی میں بدل دیں۔ مستقبل میں صرف شریک نہ ہوں بلکہ اسے متعین کرنے کیلئے تیار رہیں‘‘۔
اختتامی تقریب میں وائس چانسلر یونیورسٹی آف جموں پروفیسر امیش رائے، ڈائریکٹرایس آئی آئی ای ڈی سی پروفیسر الکا شرما، پروفیسر انیل گپتا، ڈاکٹر جتیندر منہاس، فیکلٹی ممبران، جدت کار اور بڑی تعداد میں اسٹارٹ اپ کاروباری افراد نے شرکت کی۔










