جموں: جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں منگل کے روز وقفہ سوالات کے بعد تقریباً آدھے گھنٹے تک ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی جب کانگریس اور ایک آزاد رکن اسمبلی نے بی جے پی کے رکن اسمبلی وکرم رندھاوا کے جے ڈی اے زمین پر مبینہ تجاوزات سے متعلق دیے گئے بیان پر اعتراض اٹھایا۔
کانگریس کے ارکان اسمبلی عرفان حفیظ لون اور افتخار احمد کے ساتھ آزاد رکن اسمبلی شیخ خورشید احمد نے پلے کارڈ لہرا کر اور ’چور مچائے شور‘ جیسے نعرے لگا کر رندھاوا سے ۱۳فروری کے اس بیان پر معافی کا مطالبہ کیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ان کے باہو حلقے میں جموں ڈیولپمنٹ اتھارٹی (جے ڈی اے) کی۶۸۸کنال زمین پر۹۰ فیصد قابضین کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں۔
آج صبح تین روزہ تعطیل کے بعد جب ایوان کا اجلاس شروع ہوا تو خورشید احمد نے مسئلہ اٹھانے کی کوشش کی لیکن اسپیکر عبدالرحیم راتھر نے انہیں نشست پر بیٹھنے کو کہا اور کارروائی کا آغاز تعزیتی حوالہ سے کیا۔
ایوان نے سابق وزیر پیرزادہ غلام احمد شاہ اور سابق ایم ایل سی برج موہن شرما کو خراج عقیدت پیش کیا جن کا انتقال بالترتیب۱۳؍اور۱۶فروری کو ہوا تھا۔ بعد ازاں اراکین نے مرحوم رہنماؤں کی یاد میں دو منٹ کی خاموشی اختیار کی۔
وقفہ سوالات بغیر کسی رکاوٹ کے گزر گیا، تاہم اس کے بعد دونوں کانگریسی ارکان اور آزاد رکن اسمبلی کھڑے ہوگئے اور نعرے بازی اور پلے کارڈز کے ذریعے رندھاوا سے معافی کا مطالبہ کرنے لگے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ خود رندھاوا نے جے ڈی اے کی آٹھ کنال سے زائد زمین پر قبضہ کر رکھا ہے اور انہیں دوسروں پر انگلی اٹھانے کا کوئی حق نہیں۔
پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس کے ارکان نے بھی کانگریس اور آزاد رکن کی حمایت کی جبکہ رندھاوا اور مشتعل اراکین کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔ اراکین نے رندھاوا پر کشمیری مسلمانوں کو بدنام کرنے کی کوشش کا الزام لگایا۔
بی جے پی لیڈر نے اپنی وضاحت پیش کرنے کی کوشش کی جبکہ اسپیکر بار بار ایوان میں نظم بحال کرنے کی کوشش کرتے رہے۔
تینوں احتجاجی ارکان اگلی صفوں کی طرف بڑھے اور ایوان کے بیچ حصے میں جانے کی کوشش کی لیکن اسمبلی مارشلز نے انہیں روک دیا۔
نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری اور بی جے پی کے سینئر رہنما شام لال شرما کی مداخلت پر رندھاوا نے ایوان میں بیان دیا کہ انہوں نے کسی پوری برادری پر حملہ نہیں کیا بلکہ ان کی تشویش صرف چند افراد سے متعلق تھی جنہوں نے ان کے حلقے میں زمین پر قبضہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا’’اگر میرے الفاظ سے یہ ثابت ہو جائے کہ میں نے کسی مخصوص برادری کی مخالفت یا توہین کی ہے تو میں وہ الفاظ واپس لینے کو تیار ہوں‘‘۔
اس پر اسپیکر نے کہا کہ رکن نے واضح کیا ہے کہ ان کا مقصد پوری کشمیری برادری کو نشانہ بنانا نہیں تھا اور مناسب کارروائی کی یقین دہانی کرائی، جس میں غیر پارلیمانی الفاظ کو حذف کرنا بھی شامل ہوگا۔ (ایجنسیاں)










