جموں و کشمیر میں وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے دربار مو کی روایت بحال کر کے اپنی جماعت کا ایک اہم انتخابی وعدہ پورا کیا ہے۔ بظاہر یہ قدم ایک روایت کی پاسداری اور عوامی خواہش کی تکمیل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، مگر اس فیصلے کے اندر کئی پرتیں چھپی ہیں…انتظامی، معاشی، اور سب سے بڑھ کر سیاسی۔ سوال یہ ہے کہ اکیسویں صدی کے اس تیز رفتار دور میں، جب دنیا بدل چکی ہے اور فاصلے سمٹ گئے ہیں، کیا واقعی جموں و کشمیر کو اب بھی دربار مو جیسے عمل کی ضرورت ہے؟
یہ روایت کوئی معمولی نہیں۔ اس کی جڑیں ۱۸۷۲ تک جاتی ہیں، جب مہاراجہ گلاب سنگھ نے موسمِ سرما میں دارالحکومت کو جموں منتقل کرنے اور گرمیوں میں سرینگر واپس لانے کا نظام متعارف کرایا تھا۔ اْس زمانے میں یہ قدم عملی ضرورت تھا۔ برفانی موسم، محدود مواصلات، اور آمدورفت کی دشواریاں اس روایت کی بنیاد بنیں۔ مگر اب ڈیڑھ سو برس گزر چکے ہیں۔ دنیا ڈیجیٹل ہو چکی ہے، سرحدیں نہیں، صرف انٹرنیٹ کنکشن فاصلے ناپتا ہے۔ ایسے میں دربار مو کی روایت کو برقرار رکھنے کی منطق کمزور دکھائی دیتی ہے۔
دربار مو کے حق میں ایک عام دلیل یہ دی جاتی ہے کہ اس سے صوبائی توازن برقرار رہتا ہے، دونوں خطوں‘جموں اور کشمیر…کو برابر کی توجہ ملتی ہے، اور سرکاری مشینری عوام کے قریب آتی ہے۔ لیکن زمینی حقیقت اس کے برعکس ہے۔ سرکار کے دفاتر کے ساتھ ساتھ ہزاروں ملازمین اور اہلکاروں کی منتقلی پر ہر سال کروڑوں(کم و بیش ۲۰۰کروڑ روپے) روپے خرچ ہوتے ہیں۔ ٹرانسپورٹ، رہائش، سیکیورٹی، ریکارڈ کی منتقلی اور دوبارہ سیٹ اپ کرنے پر جو وقت اور پیسہ صرف ہوتا ہے، وہ کسی بھی جدید انتظامی ڈھانچے میں نا قابلِ جواز سمجھا جاتا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ دربار مو کے دوران کچھ مخصوص طبقات کو وقتی فائدہ ضرور ہوتا ہے…خاص طور پر جموں کے تاجروں کو، جن کی تجارت ان دنوں میں بڑھ جاتی ہے۔ مگر کسی انتظامی روایت کو چند ماہ کی تجارتی سرگرمیوں کے سہارا زندہ رکھنا ریاستی وسائل کے ساتھ ناانصافی ہے۔ اگر معاشی پہلو ہی دیکھنا ہو تو حکومت کو بہتر انفراسٹرکچر، سیاحت کی ترقی، یا مقامی صنعتوں کو فروغ دینے جیسے دیرپا منصوبوں پر توجہ دینی چاہیے، نہ کہ ایک علامتی روایت پر جو محض موسمی فائدے دیتی ہے۔
سرینگر اور جموں کے درمیان فاصلہ اب کوئی مسئلہ نہیں رہا۔ شاہراہوں کی بہتری اور ٹنلوں کے باعث سفر جو کبھی ۱۲ سے۱۴ گھنٹے میں طے ہوتا تھا، اب پانچ گھنٹوں میں ممکن ہے۔ آن لائن میٹنگز، ای-آفس سسٹم اور ڈیجیٹل فائلنگ کے اس دور میں یہ سوچ کہ دفتر کے کام کے لیے جگہ بدلنی ضروری ہے، خود ایک فرسودہ خیال بن چکا ہے۔ اگر ملک کی دیگر ریاستیں دہائیوں سے ایک ہی دارالحکومت میں موثر طور پر کام کر سکتی ہیں، تو جموں و کشمیر کیوں نہیں؟
پھر یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ دربار مو کے خاتمے سے صوبائی توازن واقعی متاثر ہوگا؟ حقیقت یہ ہے کہ خطے کی یکساں ترقی کے لیے حکومت کو موسمی دفتر بدلنے کی نہیں، بلکہ یکساں پالیسیوں، منصفانہ فنڈ تقسیم، اور بہتر سیاسی نیت کی ضرورت ہے۔ مساوات کے نام پر روایت نبھانا انصاف نہیں، بلکہ دکھاوا ہے۔
عمر عبداللہ کا یہ فیصلہ محض انتظامی نہیں بلکہ سیاسی بھی ہے۔ جموں کے عوام میں دربار مو کی بحالی کی خواہش موجود تھی، اور یہ فیصلہ ان کے لیے ایک علامتی رعایت بن کر سامنے آیا۔ مگر یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ جموں صوبے نے گزشتہ اسمبلی انتخابات میں اس جماعت کو زیادہ نشستیں دی تھیں جس نے دربار مو کو ختم کیا تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عوام کی ترجیحات جذبات سے زیادہ عملی کارکردگی سے جڑی ہیں۔ روایات کا احترام اپنی جگہ، مگر جب وہ ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن جائیں تو ان پر نظرِثانی ہی دانشمندی ہے۔
حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ انتظامی تسلسل اور مالی استحکام روایتی علامتوں سے زیادہ اہم ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب جموں و کشمیر کئی دہائیوں کے بعد ترقی کی نئی راہوں پر گامزن ہے…انفراسٹرکچر، سیاحت، تعلیم، اور ٹیکنالوجی میں تبدیلیاں دیکھ رہا ہے…وہاں ماضی کی علامتوں سے چمٹے رہنا عملی عقل سے زیادہ جذباتیت کا مظہر ہے۔
دربار مو کی روایت کے دفاع میں بعض حلقے یہ بھی کہتے ہیں کہ اس سے اتحاد کا پیغام ملتا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا اتحاد صرف دارالحکومت کے بدلنے سے قائم رہ سکتا ہے؟ اتحاد انصاف، ترقی، اور شفاف حکمرانی سے آتا ہے، نہ کہ فائلوں کے ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل ہونے سے۔
دربار مو کی بحالی سے وقتی سیاسی یا جذباتی تسکین ضرور مل سکتی ہے، مگر یہ کسی طویل المدتی حکمتِ عملی کا متبادل نہیں۔ ریاست کے وسائل پہلے ہی محدود ہیں۔ ایسے میں اربوں روپے ایک ایسی روایت پر خرچ کرنا جو نہ عوامی بہبود میں حصہ ڈالتی ہے، نہ انتظامی کارکردگی میں، محض ایک نمائشی عمل ہے۔
وقت آ گیا ہے کہ جموں و کشمیر ماضی کی روایات اور مستقبل کی ضرورتوں کے درمیان انتخاب کرے۔ روایتیں اہم ہیں، مگر وہی جو ترقی کی راہ میں ہمسفر بنیں، رکاوٹ نہیں۔ عمر عبداللہ کا فیصلہ اگر سیاسی دباؤ میں کیا گیا ہے تو یہ وقتی تاثر دے سکتا ہے، مگر طویل مدت میں ایسی پالیسیاں ریاست کو پیچھے لے جاتی ہیں۔
دنیا آگے بڑھ چکی ہے۔ حکومتیں اب ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور اسمارٹ ایڈمنسٹریشن پر سرمایہ لگا رہی ہیں۔ ایسے میں ‘‘دربار مو’’ جیسی روایات کا احیاء شاید تاریخ کی کتابوں میں تو اچھا لگے، مگر عملی زندگی میں یہ وقت، وسائل اور عوامی اعتماد کا زیاں ہے۔
جموں و کشمیر کے لوگوں کو ترقی، روزگار، اور امن چاہیے نہ کہ علامتی فیصلے۔ دربار مو کی بحالی اگر واقعی عوامی فلاح کے بجائے سیاسی تاثر پیدا کرنے کے لیے کی گئی ہے تو یہ ایک غلط سمت میں اٹھایا گیا قدم ہے۔ روایتیں برقرار رہیں، مگر صرف وہ جو آگے بڑھنے کا حوصلہ دیں، پیچھے کھینچنے کا نہیں۔





