اب ایسا بھی نہیں ہے کہ اپنے گورے گورے بانکے چھوے وزیر اعلیٰ ‘عمرعدباللہ جو کچھ بھی کہیں گے ہم اسی کو سچ مان کر چلیں گے… ایسا نہیں ہے… اور ایسا ہو بھی نہیں سکتا ہے ۔ان کی زبان میں کوئی جادو یا طلسم تھوڑی ہی ہے کہ… کہ یہ جھوٹ بھی کہیں اور ہم ان پر اعتبار بھی کریں… نہیں صاحب ایسا نہیں ہو سکتا ہے… ایسا نہیں ہو تا ہے ۔ اس لئے ہم ان کی بات کو حرف آخر نہیں سمجھتے ہیں اور… اوراس لئے بھی نہیں سمجھتے ہیں کیونکہ یہ جناب جو کہتے ہیںان کے کہنے اور ہونے میں فرق ہو تا ہے… کیوں ہو تا ہے‘ آپ وزیر اعلیٰ صاحب سے ہی پوچھ لیجئے ۔ یہ جناب خوش ہیں‘ اس بات کو لے کر خوش ہیں کہ انہوں نے در بار مو بحال کرکے ایک عدد انتخابی وعدہ پورا کیا… ہم اسے کوئی بڑی بات تو مانتے ہیں ہیں لیکن… لیکن اگر یہ جناب اس میں یا اسی میں خوش ہیں تو ایسا ہی سہی… لیکن صاحب ایک بات ہمیں بتائیے …یہ بات کہ وزیر اعلیٰ نے دربار مو کی بحالی کی فائل ایل جی صاحب کو منظوری کیلئے بھیج دی تھی… اُس ایل جی صاحب کے پاس جنہوں نے دربار مو کو ختم کیا… لیکن… لیکن اسی ایل جی صاحب نے عمرصاحب کے فیصلے کو قبولیت کا شرف بخشا اور… اور فائل کو منظوری دی… اور دربار مو بحال ہوا… تو صاحب اب آپ ہی بتائیے کہ… کہ آپ اسے کیا کہیں گے؟اگر ایل جی صاحب کو اپنی ٹانگ بیچ میں ڈالنی ہوتی… مداخلت کرتی ہوتی تو… تو صاحب کیا وہ اپنے ہی کئے ہوئے فیصلے کو رد کرتے… اس سے انحراف کرتے؟ نہیں… بالکل بھی نہیں … لیکن… لیکن کہتے ہیں نا کہ کچھ تو لوگ کہیں گے… لوگوں کا کام ہے کہنا… اس لئے کوئی کچھ بھی کہے ہم تو صاحب اتنا ہی کہیں گے کہ اپنے وزیر اعلیٰ صاحب نے حرکت کی … دربار مو کے حوالے سے کوئی فیصلہ لیا… وہ فیصلہ جو ایل صاحب کے فیصلے کے بالکل برعکس تھا… خلاف تھا… لیکن پھر بھی ایل صاحب نے ان کے اس فیصلے کی لاج رکھی… وزیر اعلیٰ صاحب! کہتے ہیں حرکت میں برکت ہے… آپ حرکت تو کیجئے برکت خود بہ خود ہو گی…اگر آپ حرکت نہیں کریں گے‘ اپنا من نہیں بنا لیں گے کہ آپ کو کیا کرنا ہے اور کیا نہیں تو … تو صاحب پھر برکت کی بھی امید نہ کیجئے… بالکل بھی نہ کیجئے ۔ ہے نا؟




