ریاستی درجے کی بحالی کیلئے دستخطی مہم شروع کرنے کا حکمران جماعت‘نیشنل کانفرنس کا فیصلہ شدید تنقید کی زد میں آرہا ہے کیونکہ مانا جارہا ہے کہ یہ ایک لا حاصل مشق ہے جس سے مطلوبہ نتائج بر آمد نہیں ہو سکتے ہیں ۔
۱۵؍ اگست کو یوم آزادی کے موقع پر بخشی اسٹیڈئم میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب میں وزیر اعلیٰ ‘ عمرعبداللہ نے کہا کہ ان کی جماعت آئندہ ۸ ہفتوں میں جموںکشمیر کے گھر گھر جا کر ریاستی درجے کی بحالی کیلئے لوگوں سے دستخط جمع کرے گی ۔
سپریم کورٹ نے گزشتہ ہفتے مرکز کو آٹھ ہفتوں کا وقت دیا ہے یہ بتانے کیلئے کہ اس کا ریاستی درجے کی بحالی کے حوالے سے کیا موقف ہے ۔اور وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا کہ ان آٹھ ہفتوں کے دوران وہ ریاستی درجے کی بحالی کے حوالے سے لوگوں سے دستخط جمع کریں گے ۔
لیکن اس فیصلے کے ناقدین‘ جن میں اپوایشن جماعتیں بھی شامل ہیں کاکہنا ہے کہ دستخطی مہم شروع کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے کیونکہ لوگوں نے حالیہ اسمبلی الیکشن میں نیشنل کانفرنس کو ریاستی درجے کی بحالی کیلئے ہی اتنا بھاری منڈیٹ دیا ہے ‘ پھر دستخطی مہم کے ذریعے اس واضح منڈیت اور فیصلے کو کمزور کرنے کی ضرورت کیوں ہے ۔
دستخطی مہم شروع کرنا بظاہر یہ عوامی رائے کے اظہار کا ایک پرامن اور جمہوری طریقہ معلوم ہوتا ہے، لیکن ذرا گہرائی سے دیکھا جائے تو یہ حکمتِ عملی کئی حوالوں سے ناقص، سیاسی طور پر محدود، اور مستقبل کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔
این سی کے رویے کا سب سے پہلا مسئلہ یہ ہے کہ دستخطی مہم محض ایک علامتی ہتھیار ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ یادداشتیں، درخواستیں اور دستخطی مہمات شاذ و نادر ہی عملی یا آئینی تبدیلیاں لا پاتی ہیں۔ زیادہ سے زیادہ یہ میڈیا میں توجہ حاصل کرنے کا ذریعہ بنتی ہیں، لیکن عوام کو ایک غلط تسلی دینے کے سوا کوئی حقیقی نتیجہ نہیں دیتیں۔
اگر حکمران جماعت ‘ چاہتی ہے کہ وہ مرکز کو واضح پیغام دے کہ جموںکشمیر کے لوگ کیا چاہتے ہیں اور اس لئے وہ دستخطی مہم کا راستہ اختیار کررہی ہے تو اس کا سب سے بہتر اور کار آمد طریقہ اسمبلی میں اس ضمن میں ایک قرار دادمنظوار کرانا ہے ۔اسمبلی میں جو بیٹھے ہیں وہ لوگوں کے منتخبہ نمائندے ہیں اور جب لوگوں کے منتخبہ نمائندوں کسی کو قرار داد کو منظور کریں گے تو ایک تو یہ کسی بات کو جمہوری طور پر مرکز تک پہنچانے کا موثر راستہ ہے اور اس کے ساتھ اس سے لوگوں کے خواہشات کی بھی ترجمانی ہو گی ۔
دنیا کی تاریخ ایسے دستخطی مہمات سے بھری پڑی ہے جو لاکھوں دستخطوں کے باوجود ناکام ثابت ہوئیں۔ ہندوستان میں مہنگائی، بدعنوانی یا آئینی ترامیم کے خلاف بے شمار یادداشتیں جمع کرائی گئیں لیکن حکومتی پالیسی پر ان کا کوئی اثر نہ ہوا۔ امریکہ میں جنگ مخالف پٹیشنز ہوں یا برطانیہ میں بریگزٹ کے خلاف دستخط، نتائج ہمیشہ محض علامتی رہے۔جبکہ جموں و کشمیر جیسے نازک خطے میں اس سے آئینی فیصلہ تبدیل ہونے کی امید رکھنا سراسر سیاسی تماشہ ہی کہلائے گا۔
این سی کی مہم کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ یہ عوام کے اصل مسائل سے توجہ ہٹا دیتی ہے۔ آج وادی کے نوجوان بے روزگاری اور مہارت کی کمی کا شکار ہیں، کسان موسمیاتی تغیرات اور حکومتی سہولتوں کی کمی سے پریشان ہیں، سیاحت کو بہتر انفراسٹرکچر درکار ہے، تعلیم اور صحت کے شعبے اصلاحات مانگ رہے ہیں۔
ان بنیادی مسائل پر توجہ دینے کے بجائے این سی نے ایک دستخطی مہم شروع کر کے عوام کو محض جذباتی طور پر متحرک کرنے کی کوشش کی ہے۔ دستخط نہ تو بے روزگار نوجوانوں کو روزگار دیں گے، نہ کسانوں کے کھیتوں کو سہارا، نہ سیاحوں کے لیے سڑکیں اور ہوٹل تعمیر کریں گے۔
اور یہ بات بھی اہم ہے کہ این سی کی حکومت کو ۱۰ ماہ ہو گئے ہیں لیکن ابھی تک وہ اپنے منشور کا کوئی قابل ذکر حصہ نافذ کرنے میں کامیاب نہیں ہو ئی ہے ۔دو ماہ بعد عمرعبداللہ کی حکومت کا ایک سال مکمل ہو جائیگا لیکن اس کے پاس لوگوں کو دکھانے کیلئے کچھ نہیں ہے‘ایسا کوئی رپورٹ کارڈ نہیں ہے جس کو دکھا کر وہ اپنے بھاری منڈیٹ کی حق ادائیگی کا دعویٰ کر سکے ۔
یہ بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ مرکزی حکومت کئی مرتبہ واضح کر چکی ہے کہ جموں کشمیر کو ریاستی درجہ مناسب وقت پر واپس دیا جائے گا۔ وزیرِ داخلہ نے متعدد بیانات میں کہا ہے کہ جیسے ہی حالات سازگار اور جمہوری ڈھانچے مستحکم ہوں گے، ریاستی درجہ بحال کیا جائے گا۔
ضرورت مرکز کے ساتھ بامقصد مکالمے کی ہے دستخط نہیں، پارلیمانی اور آئینی راستوں سے ریاستی درجہ کے لیے دباؤ بڑھایا جائے۔
نیشنل کانفرنس کی دستخطی مہم ریاستی درجہ کی بحالی کے لیے نہ صرف ایک کمزور حکمت عملی ہے بلکہ عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش بھی ہے۔ یہ سنجیدہ آئینی سوال کو علامتی سیاست میں بدل دیتی ہے۔جموں و کشمیر کے عوام اس وقت جذباتی نعروں یا کاغذی دستخطوں کے بجائے عملی حل چاہتے ہیں۔ وہ قیادت کے ایسے اقدامات کے مستحق ہیں جو امن، خوشحالی اور ترقی کو ترجیح دیں۔ ریاستی درجہ یقیناً واپس آئے گا، لیکن وہ کسی دستخطی مہم سے نہیں بلکہ مکالمے، تعمیرِ نو اور مضبوط جمہوری عمل سے ممکن ہوگا۔




