سچ تو یہ ہے کہ کسی نے سچ ہی کہا ہے… یہ سچ کہا ہے کہ نئی بات ۹ دن سے زیادہ نئی نہیں رہتی ہے… یہ باسی ہو جاتی ہے اورلوگ بھی اسے بھول جاتے ہیں… اچانک سے نہیں ‘ بلکہ آہستہ آہستہ بھول جاتے ہیں … کشمیر میں گلے سڑے گوشت کے بر آمد ہونے کی بات کو کیا ۹ دن ہو گئے ہیں… ہم نہیں جانتے ہیں… اگر ہو گئے ہیں تو پھر لوگوں نے اس بات کو بھولنا شروع کردیا ہو گا … اگر نہیں تو ۹ دنوں کے بعد ایسا ہی ہو گا اور… اور سو فیصد ہو گا۔ اب تک ہم اس معاملے کے حوالے سے کچھ زیادہ نہیں جانتے ہیں… اور اس لئے نہیں جانتے ہیں کیوں کہ حکومت ’ملوثین کو بخشا نہیںجائیگا ‘ سے آگے بڑھ نہیں پائی ہے… بالکل بھی نہیں بڑھ گئی ہے … اس لئے لوگ بھی کچھ زیادہ نہیں جانتے ہیں… یہ نہیں جانتے ہیں کہ اس سب کے پیچھے اصل میں کس کا ہاتھ تھا اور… اور کیا حکومت کے لمبے ہاتھ اُس ہاتھ تک پہنچ گئے ہیں… پہنچ پائے ہیں یا نہیں… لوگ یہ بھی نہیں جانتے ہیں کہ مستقبل میں ایسا کوئی واقعہ پیش نہ آئے … کشمیریوں کو کباب اور گوشتابا کے نام پر گلا سڑا ‘ حرام اور نجس جانواروں کا گوشت نہ کھلایا جائے اس بات کو یقینی بنانے کیلئے… ہمیشہ ہمیشہ یقینی بنانے کیلئے حکومت کیا اقدامات کررہی ہے… اس بارے میں بھی کوئی بات اور واضح تصویر سامنے نہیں آئی ہے… سامنے نہیں لائی گئی ہے… ایسا لگتا ہے کہ لوگ اس بات کو بھول گئے ہیں یا نہیں لیکن… لیکن حکومت ضرور بھول گئی ہے… اور اس لئے بھول گئی ہے کہ… کہ وہ اسے یاد رکھنا نہیں چاہتی ہے … اور یہ بھی سچ ہے کہ یاد رکھ کے وہ کیا اس کا آچار ڈالے گی… اس کے پاس اور بھی بہت کام کرنے کو ہیں… اور حکومت اور اس کے وزراء ان کاموں میںلگے ہو ئے ہیں… یہ وہ کام ہیں جن کے بارے میں لون صاحب… سجاد لون صاحب کچھ کہنا چاہتے ہیں… لیکن کچھ کہہ نہیں رہے ہیں البتہ نہ کہتے ہو ئے بھی بہت کچھ کہہ رہے ہیں… لیکن صاحب ہم کچھ نہیں کہہ رہے ہیں کہ… کہ اگر ہم کچھ کہیں گے تو … تو یہ چھوٹا منہ بڑی بات ہو جائیگی… اور فی الحال ہم ایسی ویسی کوئی بات … بڑی بات نہیں کرنا چاہتے ہیں… سوائے اس ایک بات کے کہ… کہ اس معاملے کواسی طرح دفن نہ کیجئے جس طرح گلے سڑے گوشت کو دفن کیا گیا ۔ ہے نا؟




