خبر یہ ہے کہ ایک نوجوان نے اپنے ہمسایہ کی گائے کو بیچ ڈالا ہے … نہیں صاحب ہمسایہ کی اجازت سے بیچ نہیں ڈالا ہے… بلکہ نوجوان نے پہلے گائے کو چرا لیا… پھر اس کو بیچ دیا… گائے چونکہ ویسے بھی اللہ میاں کی گائے ہوتی ہے‘ اس لئے اس بے چاری نے کوئی مزاحمت نہیں کی… اس نے چپی سادھ لی اور اس کے ساتھ جو ہورہا تھااسے ہونے دیا … گائے کی جگہ اگر کتا ہوتا تو… تو وہ اپنے نئے مالک کے گھر سے بھاگ کر پرانے مالک کے پاس لوٹ آتا ہے… لیکن گائے میں یہ وفاداری کہاں … اسی لئے تو وہ گائے ہے…خیر! سوال گائے کا بھی ہے لیکن یہ بھی ہے کہ … کہ اس نوجوان نے گائے چرائی کیوں … ہمسایہ کو لوٹ کیوں لیا …تو سن لیجئے بے چارے اس نوجوان کی ایک عدد گرل فرینڈ ہے… ہم تو مان کے چلتے ہیں کہ اس کی ایک ہی گرل فرینڈ ہے… ممکن ہے کہ اگر کل کو اس نے کسی اور ہمسایہ کی گائے چرالی تو… تو پھر اس بات کا امکان ہے کہ اس کی ایک ہی گرل فرینڈ نہیں ہے… تو اس نوجوان کو اس گرل فرینڈ کیلئے تحفہ خریدنا تھا … کوئی مہنگا تحفہ … شاید فون اور… اور آپ تو جانتے ہیں کہ فون بڑے مہنگے ہوتے ہیں… پیسے اس کے پاس تھے نہیں ‘ گھر والوں سے بھی اتنی خطیر رقم مانگ نہیں سکتا تھا تو… تو اس نے چوری … ہمسایہ کی گائے کی چوری میں ہی مناسب سمجھا… گائے کی چوری کی …پھراسے بیچ دیا اور اس سے حاصل پیسوں سے گرل فرینڈ کیلئے تحفہ خرید لیا… اگر دوسرے نوجوانوں نے بھی اس کی تقلید کی توصاحب ہمیں ڈر ہے کہ کیا ہو گا… یہ ہو گا کہ گائے کی بھی کہیں پر رجسٹریشن کی جائے گی ۔اس میں اس کے مالک کا نام لکھا جائیگا … اور ہاں فوٹو… گائے کی نہیں بلکہ مالک کی فوٹو بھی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ پر چسپاں کی جائیگی تاکہ خریدنے والا گائے اصل مالک سے خرید لے ‘ کسی نوجوان ‘ کسی عاشق سے نہیں ۔رہی بیچی گئی گائے کی بات تو صاحب ہم یہی توقع کر سکتے ہیں کہ… کہ اس کا نیا مالک اس کا خیال رکھتا ہو … تا کہ کوئی دوسرا نوجوان عاشق اب اس کی یہ گائے نہ چرالے۔ ہے نا؟




