جموں کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر ‘ منوج سنہا کی اگلے ماہ انکی پانچ سالہ معیاد مکمل ہو رہی ہے ۔۷؍اگست ۲۰۲۰ کو جب انہوں نے یہاں اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں اس وقت اور آج پانچ سال بعد کے جموں کشمیر میں نمایاں فرق ہے ۔ اس عرصے کے دوران اس خطے میں بڑے بدلاؤ آئے ۔
۲۰۱۸ میں جب محبوبہ مفتی کی سرکاری گر گئی اور ریاستی اسمبلی کو تحلیل کردیا گیا اس کے بعد سے اگست ۲۰۲۰ تک جموںکشمیر میں ایک انتظامی خلاء محسوس کیا جا رہا تھا ۔کوئی چیز اپنی صحیح سمت میں آگے نہیں بڑھ رہی تھی‘ گورننس کا کوئی اتہ پتہ نہ تھا۔ لیکن سنہا کی تعیناتی کے بعد ان کے پہلے دن سے اٹھائے گئے فیصلہ کن اقدامات سے انتظامی سطح پر جو غیر یقینی صورتحال پائی جاری تھی ‘اس کا خاتمہ ہو گیا ۔
آج سنہا جب اپنے پانچ سال کی کا رکردگی پر نظر ڈالتے ہوں گے تو یقینا انہیں اطمینان ہو تا ہو گا ۔ ان کے دور کولوگ مختلف زاویوں سے دیکھتے اور پیمانوں سے جانچ کر اپنی آراء قائم کرتے ہوں گے لیکن اس میں کسی کو اختلاف نہیں ہو سکتا ہے کہ گزشتہ ۳۵ برسوں میں ان کا ۵ سالہ دور پر امن ترین رہا جس دوران کشمیریوں کے گھروں میں خون سے لت پت لاشیں آنے کا سلسلہ مکمل طور پر بند ہو گیا ۔
۲۰۲۰ میں کشمیریوں کو جس چیز کی سب سے پہلی ضرورت تھی یا جس کی انہیں تلاش تھی ‘ وہ امن تھا اور سنہا نے یہاں کے لوگوں کو مایوس نہیں کیا ۔آج پانچ سال بعد ہم دیکھ رہے ہیں کہ لوگوں کی امن میں اس قدر دلچسپی بڑھ گئی ہے‘ وہ امن کے اس قدر اسٹیک ہولڈر بن گئے ہیں کہ جب اپریل میں بائسرن میں ۲۶؍افراد کا قتل عام کیا گیا تو وہ خود سڑکوں پر آئے اور اس واقعہ کی مذمت کی ۔ لوگوں کی سمجھ میں فوری طور پر یہ بات آگئی کہ اس دہشت گرد واقعہ کا مقصد کشمیر کے امن کو تہہ و بالا کرنا ہے ‘ جو لوگوں کو منظور نہیں تھا ‘ اس لئے وہ سڑکوں پر نکل آئے ۔
گزشتہ ۳۵ برسوں میں یہ پہلا موقع تھا جب عام کشمیری کسی دہشت گردی کی واردات کیخلاف سڑکوں پر نکل آئے اور اس گھناؤنے واقعہ کی مذمت کی ۔ سڑکوں پر نکل آنے کا حوصلہ بھی لوگوں کو گزشتہ پانچ برسوں کے پر امن ماحول اور حالات نے ہی دیا۔اور سب سے بڑی بات کہ اس وقعہ کے حوالے سے جو جذبات ملک کے کسی اور حصے میں پائے جاتے تھے وہی جذبات کشمیریوں میں بھی تھے ۔
یہ گزشتہ پانچ برسوں کے پر امن حالات کا ہی نتیجہ ہے کہ کشمیر کے نوجوانوں نے دہشت گردی سے منہ پھیر لیا ہے اور امسال ایل جی سنہا کے مطابق دہشت گرد جماعتوں میں ان کی شمولیت نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ گزشتہ سال ۶/۷ مقامی نوجوان دہشت گردوں کی صفوں میں شامل ہو ئے ہیں۔کشمیری ۳۰ برسوں تک دہشت گردی کا شکار رہے ‘اس لئے وہ جانتے ہیں کہ مقامی نوجوانوں کا دہشت گرد صفوں میں شامل نہ ہونا کتنی بڑی تبدیلی ہے ‘ کتنی اہم پیش رفت اور کامیابی ہے ۔
ایسا نہیں ہے کہ کشمیر میں دہشت گردی ختم ہو ئی ہے ۔اب بھی اس کی باقیات موجود ہیں ‘ لیکن دہشت گردی اور اس کے ایکو سسٹم کیخلاف مرکز کی پالیسی کی عمل آوری کو سنہا نے جس موثر انداز میں یقینی بنایا یہ اس کا ہی نتیجہ ہے کہ لوگ اب بغیر کسی خوف و ڈر کے دہشت گردوں کیخلاف آواز اٹھا رہے ہیں ‘ ان کیخلاف زبان کھول رہے ہیں ۔
ایل جی سنہا یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ آج جو کشمیر ہمارے سامنے ہے وہی ایک نیا کشمیر ہی ہے۔ایسا کشمیر جہاں لوگ اب خوف و ڈر کے سایے میں زندگی نہیں گزر رہے ہیں بلکہ کھلی فضاؤں میں سانس لے رہے ہیں۔ اب آئے روز کی بے ہنگم ہڑتالوں سے معمول کی زندگی درہم برہم ہونے کا کوئی ڈر ہے اور نہ پتھراؤ کا کوئی خوف ۔لوگ اب معمول کے مطابق اپنی زندگی گزار رہے ہیں ‘ جس طرح ملک کے کسی اور حصے میں لوگ زندگی بسر کررہے ہیں ۔لوگوں کا اعتماد اب بحال ہو گیا ہے ۔
ایل جی سنہا کی ایک اور بڑی کامیابی گزشتہ سال کے پر امن اسمبلی الیکشن کا انعقاد ہے ۔ جموںکشمیر میں ۹ برسوں کے بعد اسمبلی الیکشن ہو رہے تھے جس میں لوگوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔ ان انتخابات کی سب سے خاص بات یہ تھی کہ کسی بھی سیاسی جماعت نے ان کی شفافیت پر انگلی نہیں اٹھائی ۔ جس جماعت نے الیکشن جیتا اس نے اور نہ ان جماعتوں نے جنہیں لوگوں نے ہار کا ہار پہنایا ‘ سبھی اس بات پر متفق تھے کہ جموںکشمیر میںالیکشن صاف و شفاف انداز میں منعقد ہوئے اور آج یہاں ایک منتخبہ حکومت ہے ۔یہ کشمیر جیسی جگہ‘ جس کا ماضی انتخابی بدعنوانیوں سے داغدار رہا ہو ‘کیلئے ایک بڑی اہم بات تھی ۔
یہ امن کا ہی ثمر ہے کہ آج کشمیر میں بڑی تعداد میں سیاح آ رہے ہیں اور کشمیر کی معاشی ترقی میں حصہ ڈال رہے ہیں ۔ کشمیر کے جی ڈی پی میں سیاحت کا ۶تا۷ فیصد حصہ ہے۔سیاح تب ہی کشمیر آئیں گے جب یہاں امن ہو ۔یہ گزشتہ پانچ سالہ پر امن دور کا ہی نتیجہ ہے کہ بائسرن جیسے واقعہ کے باوجود بھی سیاحوں نے ایک بار پھر کشمیر آنا شروع کردیا ہے کیونکہ انہیں بھی اس بات پر اعتماد ہو گیا ہے کہ کشمیر کے حالات میں نمایاں بہتری آئی ہے اور کئی اعتبار سے یہ ملک کی دوسری جگہوں سے بھی محفوظ ہے … یہاں اگر کوئی غیر محفوظ ہے تو وہ ‘وہ ہے جو یہاں کے امن میں خلل ڈالنے کی دانستہ کوشش کرتا ہے یا کرے گا ۔ (جاری)





