سرینگر/۲۵؍اگست
الہ آباد ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ کسی تعلیمی ادارے کی جانب سے مقرر کردہ لباس کے ضابطے میں کوئی طالب علم اپنی ذاتی پسند کے مطابق تبدیلی کا حق نہیں رکھتا۔
عدالت نے ایک طالبہ کی جانب سے دائر درخواست مسترد کردی، جس میں اسکول انتظامیہ کو ہدایت دینے کی استدعا کی گئی تھی کہ اسے مقررہ یونیفارم کے ساتھ سر پر حجاب پہننے کی اجازت دی جائے۔
یہ درخواست پریاگ راج کے ایک نجی اسکول کی ایک نابالغ طالبہ نے اپنی والدہ کے ذریعے دائر کی تھی۔ طالبہ نے ہائی اسکول کا امتحان پاس کیا ہے اور اسی ادارے میں گیارہویں جماعت میں داخلہ لینا چاہتی ہے۔
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ اسکول انتظامیہ کو طالبہ کو مقررہ یونیفارم کے ساتھ سر پر حجاب پہننے کی اجازت دینے کی ہدایت دی جائے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ حجاب پہننا اسلامی عمل کا لازمی حصہ ہے اور طالبہ چھٹی جماعت سے اسی اسکول میں حجاب پہنتی آرہی ہے۔
جسٹس جے جے منیر اور جسٹس اندرجیت شکلا پر مشتمل دو رکنی بنچ نے مشاہدہ کیا، ’’ہم نے طالبہ سے متعلق مختلف جماعتوں کی تصاویر کا جائزہ لیا ہے۔ اس کے علاوہ کسی دوسری طالبہ نے، حتیٰ کہ اسی مذہبی برادری سے تعلق رکھنے والی طالبات نے بھی، حجاب نہیں پہن رکھا۔‘‘
عدالت نے حجاب کو اسلامی عمل کا لازمی حصہ قرار دینے کی دلیل بھی مسترد کردی۔
عدالت نے کہا، ’’جہاں کہیں بھی یہ معاملہ سامنے آیا ہے، ہائی کورٹس کی رائے اس بات پر متفق رہی ہے کہ عورت کے لیے حجاب پہننا اسلامی عقیدے کا ایسا لازمی حصہ نہیں ہے کہ اس کے بغیر اس کے ایمان کو خطرہ لاحق ہوجائے۔‘‘
۲۱ اگست کو سنائے گئے اپنے فیصلے میں عدالت نے یہ بھی کہا، ’’یہ بات قابل ذکر ہے کہ درخواستِ رٹ میں حجاب پہننے کو لازمی مذہبی عمل قرار دینے کا دعویٰ محض ایک دعویٰ ہے۔‘‘
ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ جب کسی اسکول کا یونیفارم ضابطہ منصفانہ، غیر امتیازی اور ادارے میں نظم و ضبط اور مساوات برقرار رکھنے کے مقصد سے نافذ کیا گیا ہو تو ادارے کو اپنے داخلی نظم و ضبط اور لباس کے ضابطے پر عمل درآمد کرانے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔
عدالت نے مشاہدہ کیا کہ کوئی بھی غیر امدادی نجی تعلیمی ادارہ اپنے احاطے میں یونیفارم کا ضابطہ نافذ کرنے کا مکمل حق رکھتا ہے۔ عدالت کے مطابق مقررہ اسکول یونیفارم کی پابندی لازمی ہے اور کسی طالب علم کو انفرادی طور پر اس میں حجاب شامل کرنے کی اجازت طلب کرنے کا کوئی قانونی حق حاصل نہیں۔
ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ اگر یونیفارم تمام طلبہ پر یکساں طور پر لاگو ہوتا ہے تو ذاتی پسند کی بنیاد پر کسی ایک طالب علم کو مقررہ یونیفارم میں تبدیلی یا اس سے استثنیٰ دینا یونیفارم کے بنیادی تصور ہی کو ختم کردے گا۔ اس سے اسکول کے نظم و ضبط کا اختیار ادارے سے منتقل ہوکر انفرادی طلبہ کے ہاتھ میں چلا جائے گا۔
اسکول نے عدالت کو بتایا کہ وہ ایک نجی، خود مالیاتی بنیاد پر چلنے والا تعلیمی ادارہ ہے جہاں تمام طلبہ کے لیے یونیفارم کا ضابطہ نافذ ہے۔ اسکول میں مختلف برادریوں سے تعلق رکھنے والے بچے زیر تعلیم ہیں اور کسی ایک طالبہ کو یونیفارم کے معاملے میں خصوصی استثنیٰ دینے سے ادارے کے نظم و ضبط اور لباس کے ضابطے میں یکسانیت متاثر ہوسکتی ہے۔ ریاستی حکومت اور سی بی ایس ای نے بھی طالبہ کی درخواست کی مخالفت کی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(ندائے مشرق ویب ڈیسک)










