’یہ ممکن نہیں کہ ڈاکٹر صاحب مجھ سے کوئی چیز مانگیں اور میں انہیں نہ دوںمیں ؍ڈاکٹر صاحب کو خالی ہاتھ واپس نہیں بھیج سکتا‘
سرینگر/۲۵؍ اگست
حکمران جماعت‘ نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی جانب سے سری نگر کے رکن پارلیمان آغا سید روح اللہ مہدی سے لوک سبھا کی رکنیت سے استعفیٰ دے کر تازہ عوامی مینڈیٹ حاصل کرنے کے مطالبے کے ایک روز بعد، رکن پارلیمان نے منگل کو عندیہ دیا کہ وہ آنے والے دنوں میں اس مطالبے کا جواب دیں گے، تاہم انہوں نے عبداللہ کے لیے اپنی گہری عزت کا اظہار کیا۔
صحافیوں سے بات کرتے ہوئے روح اللہ سے فاروق عبداللہ کی جانب سے ان کے استعفے کے مطالبے کے بارے میں سوال کیا گیا۔ انہوں نے براہِ راست یہ نہیں بتایا کہ آیا وہ اس چیلنج کو قبول کریں گے، تاہم ان کے جواب سے ظاہر ہوا کہ وہ اس مطالبے پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔
روح اللہ نے کہا، ’’یہ ممکن نہیں کہ ڈاکٹر صاحب مجھ سے کوئی چیز مانگیں اور میں انہیں نہ دوں۔ یہ ممکن نہیں کہ میں انہیں خالی ہاتھ واپس بھیج دوں۔‘‘
این سی ممبر پارلیمنٹ نے مزید کہا، ’’انہوں نے اس عمر میں مجھ سے کچھ مانگا ہے۔ میں ان کی عزت کرتا ہوں۔ میں نہیں چاہتا کہ وہ مجھ سے کچھ مانگیں اور میں انہیں خالی ہاتھ واپس بھیج دوں۔‘‘
روح اللہ نے کہا، ’’میں چند دنوں میں جواب دوں گا۔‘‘
ان کے یہ بیانات فاروق عبداللہ کی جانب سے ایک روز قبل انہیں پارلیمنٹ سے استعفیٰ دے کر دوبارہ عوام کے پاس جانے کا کھلا چیلنج دینے کے بعد سامنے آئے ہیں۔ فاروق عبداللہ نے کہا تھا، ’’اگر آپ سمجھتے ہیں کہ لوگوں نے آپ کو ووٹ دیا ہے تو استعفیٰ دیں اور دوبارہ ان کے پاس جائیں۔ ہم دیکھیں گے کہ آپ کو کتنے ووٹ ملتے ہیں۔‘‘
یہ تبادلۂ خیال روح اللہ اور نیشنل کانفرنس کی قیادت کے درمیان سیاسی معاملات پر بڑھتے ہوئے علانیہ اختلافات کے پس منظر میں ہوا ہے۔ ان اختلافات میں بالخصوص دفعہ۳۷۰کی بحالی، ریاستی حیثیت اور جموں و کشمیر کے آئینی حقوق جیسے معاملات شامل ہیں۔
فاروق عبداللہ نے کہا تھا کہ روح اللہ پارلیمنٹ میں دفعہ۳۷۰ کا معاملہ اٹھانے کے لیے آزاد ہیں، تاہم انہوں نے اس معاملے پر ان کے طریقۂ کار پر سوال اٹھایا۔
فاروق عبداللہ نے کہا، ’’اگر وہ سمجھتے ہیں کہ دفعہ ۳۷۰بحال ہوسکتی ہے تو انہیں یہ معاملہ پارلیمنٹ میں اٹھانا چاہیے۔‘‘
نیشنل کانفرنس کے صدر نے پارٹی تنظیم اور نظم و ضبط کی اہمیت کا بھی دفاع کیا اور کہا کہ پارٹی ٹکٹ پر انتخابات لڑنے والے امیدوار پارٹی تنظیم اور کارکنوں کی حمایت سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
تاہم روح اللہ کا مؤقف رہا ہے کہ ان کا سیاسی موقف عوام کی جانب سے دیے گئے مینڈیٹ کی عکاسی کرتا ہے اور وہ بارہا یہ کہہ چکے ہیں کہ جموں و کشمیر کے آئینی حقوق کی جدوجہد ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔
حالیہ دنوں میں انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا ہے کہ آئینی حقوق اور تحفظات کے لیے اپنی مہم کو ایک خاص مرحلے تک پہنچانے کے بعد وہ پارلیمنٹ سے استعفیٰ دینے پر غور کرسکتے ہیں۔ اتوار کو انہوں نے کہا تھا کہ جموں و کشمیر گزشتہ برسوں کے دوران مسلسل اپنے اختیارات سے محروم ہوتا رہا ہے اور الزام لگایا تھا کہ سیاسی قیادت انہیں دوبارہ حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔
تازہ ترین اختلاف کے بعد یہ سوال اٹھنے لگا ہے کہ آیا یہ معاملہ نیشنل کانفرنس کے اندرونی اختلاف تک محدود رہے گا یا ایک زیادہ سنگین سیاسی محاذ آرائی کی شکل اختیار کرے گا۔
روح اللہ سے کشمیری پنڈتوں سے متعلق مقدمات دوبارہ کھولے جانے کے بارے میں بھی سوال کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ انصاف فراہم کیا جانا چاہیے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اس عمل کو انتقام کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے۔
این سی ممبر پارلیمنٹ نے کہا، ’’ہر کسی کو کشمیری پنڈتوں کے بارے میں آگاہ ہونا چاہیے۔ انصاف فراہم کیا جانا چاہیے۔ انصاف کے نام پر انتقام نہیں ہونا چاہیے۔‘‘
یہ بیان روح اللہ کے مؤقف کو جواب دہی اور مفاہمت دونوں کے تناظر میں پیش کرتا ہے، جس میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ کسی بھی تحقیقات یا قانونی کارروائی کا مقصد انصاف کی فراہمی ہونا چاہیے، نہ کہ پرانے حساب چکانا۔
۔۔۔(ندائے مشرق خبر)









